رمضان المبارک اور بچوں کی تربیت

رمضان المبارک بچوں کی تربیت کا سنہری موقع

ڈاکٹرمحمدیونس خالد

رمضان المبارک صرف روزے رکھنے، نماز پڑھنے اور تلاوتِ قرآن کا مہینہ نہیں، بلکہ یہ بچوں کی شخصیت سنوارنے، ان کے اخلاق بہتر بنانے اور ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کا بھی ایک بہترین موقع ہے۔ اس مہینے میں گھر کا ماحول بدل جاتا ہے، عبادات میں اضافہ ہوتا ہے اور والدین کو بچوں کے ساتھ دینی و تربیتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔

اگر والدین اس مبارک مہینے کو محض روزے اور افطار تک محدود رکھنے کے بجائے بچوں کی تربیت کے لیے استعمال کریں تو یہ ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

رمضان المبارک بچوں کی تربیت کا سنہری موقع اس لیے ہے کہ اس مہینے میں بچوں کو صبر، شکر، ہمدردی، نظم و ضبط، سخاوت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کی عملی مشق کروائی جا سکتی ہے۔

آئیے جانتے ہیں کہ والدین رمضان المبارک میں بچوں کی تربیت کیسے کر سکتے ہیں اور اس مہینے کو اپنے بچوں کے لیے یادگار اور بامقصد کیسے بنا سکتے ہیں۔

رمضان المبارک بچوں کی تربیت کے لیے ایک خاص مہینہ کیوں ہے؟

رمضان المبارک میں بچوں کو وہ بہت سی تربیتی چیزیں سکھائی جا سکتی ہیں جنہیں عام دنوں میں سکھانے کے لیے والدین کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔

اس مہینے میں بچوں کو عبادات، اخلاق اور روزمرہ زندگی کی اچھی عادات اپنانے کے لیے ایک قدرتی ماحول ملتا ہے۔

1۔ عبادات سے محبت پیدا کرنے کا موقع

رمضان میں نماز، تلاوتِ قرآن اور دعا کا ماحول بچوں کو عبادات کی طرف راغب کرتا ہے۔

جب بچے اپنے والدین کو نماز پڑھتے، قرآن کی تلاوت کرتے اور دعا مانگتے دیکھتے ہیں تو ان کے اندر بھی ان اعمال کو اپنانے کا شوق پیدا ہو سکتا ہے۔

والدین بچوں کو اپنے ساتھ نماز پڑھنے کی ترغیب دیں، قرآن کی مختصر سورتیں یاد کروائیں اور انہیں آسان الفاظ میں دعاؤں کے معنی سمجھائیں۔

یاد رکھیے، بچوں کو عبادات سے محبت پیدا کرنے کے لیے سختی کے بجائے محبت، حوصلہ افزائی اور عملی نمونے کی ضرورت ہوتی ہے۔

2۔ صبر اور خود پر قابو پانے کی تربیت

روزہ انسان کو صبر، برداشت اور خواہشات پر قابو پانے کی مشق کرواتا ہے۔

بچوں کو ان کی عمر اور صلاحیت کے مطابق انتظار کرنے، اپنی باری کا خیال رکھنے، غصے پر قابو پانے اور دوسروں کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی تربیت دی جا سکتی ہے۔

مثلاً اگر بچہ کسی چیز کے لیے ضد کرے تو والدین اسے پیار سے سمجھا سکتے ہیں کہ بعض اوقات اپنی خواہش کو روکنا بھی ایک اچھی عادت ہے۔

یہ تربیت صرف رمضان تک محدود نہیں رہتی بلکہ بچے کی روزمرہ زندگی میں بھی کام آتی ہے۔

3۔ ہمدردی اور احساسِ ذمہ داری پیدا کرنا

رمضان المبارک بچوں کو ضرورت مندوں، غریبوں اور بھوکے لوگوں کے احساسات سمجھانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

والدین بچوں کو بتائیں کہ معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں روزمرہ کی بنیادی ضروریات بھی آسانی سے میسر نہیں ہوتیں۔

بچوں کو افطار کے لیے کھانا تیار کرنے میں مدد دینے، ضرورت مندوں کے لیے راشن جمع کرنے اور دوسروں کے ساتھ اپنی چیزیں بانٹنے کی ترغیب دیں۔

اس طرح بچوں میں ہمدردی، سخاوت اور خدمتِ خلق کے جذبات پیدا ہو سکتے ہیں۔

رمضان میں بچوں کی تربیت کے 7 عملی طریقے

رمضان المبارک میں بچوں کی تربیت کے لیے ضروری نہیں کہ والدین کوئی بہت بڑا پروگرام ترتیب دیں۔ روزمرہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی سرگرمیاں بھی بچوں کی شخصیت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہیں۔

1۔ بچوں کو نماز کی عادت ڈالیں

رمضان میں بچوں کو نماز کی اہمیت سمجھائیں اور انہیں اپنے ساتھ نماز ادا کرنے کی ترغیب دیں۔

گھر میں نماز کا ایک پُرسکون ماحول بنائیں اور بچوں کی کوششوں کو سراہیں۔

اگر بچہ ابھی نماز کا پابند نہیں ہے تو اسے آہستہ آہستہ نماز کی طرف راغب کریں۔

2۔ بچوں کے ساتھ قرآن فہمی کا وقت مقرر کریں

روزانہ چند منٹ بچوں کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت اور آسان ترجمہ پڑھنے کے لیے مختص کریں۔

بچوں کو مختصر آیات کے ذریعے سچ بولنے، والدین کی عزت کرنے، دوسروں کی مدد کرنے اور اچھے اخلاق اپنانے کی تعلیم دیں۔

اس سرگرمی کو دلچسپ بنانے کے لیے بچوں سے سوالات بھی پوچھیں۔

3۔ افطار کی تیاری میں بچوں کو شریک کریں

افطار کی تیاری بچوں کے لیے تربیت کا ایک بہترین عملی موقع ہے۔

بچوں کو دسترخوان بچھانے، پانی رکھنے اور کھانے کی چیزیں ترتیب دینے جیسے آسان کام سونپیں۔

اس سے ان میں ذمہ داری، تعاون اور گھر کے کاموں میں حصہ لینے کا جذبہ پیدا ہوگا۔

4۔ روزانہ ایک اچھا اخلاق اپنانے کا ہدف دیں

رمضان میں ہر دن ایک اچھے اخلاق کو موضوع بنایا جا سکتا ہے۔

مثلاً:

  • پہلا دن: سچ بولنا
  • دوسرا دن: غصے پر قابو پانا
  • تیسرا دن: بڑوں کا احترام کرنا
  • چوتھا دن: دوسروں کی مدد کرنا
  • پانچواں دن: اپنی چیزیں بانٹنا

بچوں کے ساتھ رات کو چند منٹ بیٹھ کر اس بات پر گفتگو کریں کہ انہوں نے دن بھر اس اخلاق پر عمل کرنے کی کتنی کوشش کی۔

5۔ بچوں کو صدقہ اور خیرات کی عادت ڈالیں

بچوں کو اپنی جیب خرچ میں سے کچھ رقم ضرورت مندوں کے لیے الگ رکھنے کی ترغیب دیں۔

انہیں سمجھائیں کہ صدقہ صرف پیسے دینے کا نام نہیں، بلکہ کسی کی مدد کرنا، اچھا کلام کرنا اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنا بھی نیکی کے کام ہیں۔

اس طرح بچوں میں سخاوت اور دوسروں کے لیے احساس پیدا ہوگا۔

6۔ بچوں کے ساتھ سحری اور افطار کو یادگار بنائیں

سحری اور افطار کے اوقات کو بچوں کے لیے خوش گوار اور بامقصد بنائیں۔

سحری کے وقت بچوں کو مناسب آرام کا موقع دیں اور ان کی عمر و صحت کے مطابق معمولات ترتیب دیں۔

افطار کے وقت انہیں دعا، شکرگزاری اور خاندان کے ساتھ بیٹھنے کی اہمیت سمجھائیں۔

یہ لمحات بچوں کے ذہن میں خوش گوار یادوں کے طور پر محفوظ ہو سکتے ہیں۔

7۔ بچوں کے لیے رمضان تربیتی چارٹ بنائیں

بچوں کے لیے ایک سادہ سا رمضان تربیتی چارٹ بنائیں جس میں روزانہ کی اچھی عادات درج ہوں۔

مثلاً:

تربیتی سرگرمیروزانہ کا ہدف
نمازنماز کی پابندی کی کوشش
قرآنچند آیات کی تلاوت
اخلاقایک اچھا کام
خدمتگھر کے کسی کام میں مدد
صدقہکسی کی مدد کرنا
شکرگزاریاللہ کی تین نعمتیں یاد کرنا

بچے جب اپنی کوششوں کو چارٹ پر درج کریں گے تو انہیں اپنی پیش رفت دیکھنے اور اچھی عادات اپنانے کی ترغیب ملے گی۔

بچوں کو روزے رکھنے کی تربیت کیسے دیں؟

بچوں کو روزے کی اہمیت سمجھانا اور انہیں روزے کی مشق کروانا والدین کی تربیتی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

تاہم، بچوں پر روزہ رکھنے کے لیے دباؤ ڈالنا مناسب نہیں۔ ان کی عمر، صحت اور جسمانی صلاحیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

چھوٹے بچوں کو روزے کے مقصد اور رمضان کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ جو بچے جسمانی طور پر آمادہ ہوں، انہیں والدین کی نگرانی میں اپنی استطاعت کے مطابق روزے کی مشق کروائی جا سکتی ہے۔

اصل مقصد بچوں کو بھوکا پیاسا رکھنا نہیں، بلکہ ان کے دل میں عبادت کی محبت اور اچھے اخلاق کی بنیاد مضبوط کرنا ہے۔

رمضان میں والدین کا کردار: بچے وہی سیکھتے ہیں جو دیکھتے ہیں

بچوں کی تربیت میں والدین کا عملی کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

اگر والدین خود نماز کی پابندی کریں، سچ بولیں، غصے پر قابو رکھیں اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں تو بچے ان عادات کو اپنانے کی طرف زیادہ مائل ہو سکتے ہیں۔

اس کے برعکس، اگر والدین بچوں کو نرمی سے پیش آنے کی نصیحت کریں لیکن خود گھر میں سخت لہجہ اختیار کریں تو بچوں کے لیے اس نصیحت پر عمل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

اسی لیے رمضان المبارک بچوں کی تربیت کا سنہری موقع اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے جب والدین خود بھی اپنی اصلاح اور تربیت پر توجہ دیں۔

بچوں کی تربیت میں والدین کی ذمہ داریوں کو مزید سمجھنے کے لیے ہمارا مضمون تربیت اولاد اور والدین کی ذمہ داری بھی پڑھیں۔

رمضان کے بعد بھی اچھی عادات کیسے برقرار رکھیں؟

رمضان المبارک ختم ہونے کے بعد بچوں کی اچھی عادات کو برقرار رکھنا بھی اہم ہے۔

اگر بچے نے رمضان میں نماز کی پابندی، قرآن کی تلاوت یا دوسروں کی مدد کرنے کی عادت اپنائی ہے تو والدین کو چاہیے کہ وہ اسے سال بھر جاری رکھنے میں مدد دیں۔

اس کے لیے چند آسان اقدامات کیے جا سکتے ہیں:

  • روزانہ نماز اور قرآن کے لیے مناسب وقت مقرر کریں۔
  • ہفتے میں ایک دن خاندان کے ساتھ دینی و تربیتی گفتگو کریں۔
  • بچوں کو گھر کے کاموں اور خدمتِ خلق میں شریک کریں۔
  • اچھی عادات اپنانے پر بچوں کی حوصلہ افزائی کریں۔
  • غلطیوں پر سخت ردعمل کے بجائے اصلاح اور رہنمائی کا طریقہ اپنائیں۔

بچوں کی مستقل اور متوازن تربیت کے لیے بچوں کی تربیت قرآن و سنت کی روشنی میں کا مطالعہ بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

نتیجہ: رمضان کو بچوں کی شخصیت سازی کا ذریعہ بنائیں

رمضان المبارک بچوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کا ایک اہم موقع ہے۔

اس مہینے میں والدین بچوں کو عبادات کی محبت، صبر، شکرگزاری، ہمدردی، سخاوت اور ذمہ داری جیسے اوصاف سکھا سکتے ہیں۔

ضروری نہیں کہ بچے رمضان ہی میں تمام اچھی عادات اپنا لیں۔ تربیت ایک مسلسل عمل ہے جس میں محبت، صبر، مستقل مزاجی اور والدین کا عملی نمونہ بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

رمضان المبارک بچوں کی تربیت کا سنہری موقع تب بنتا ہے جب والدین اس مہینے کی برکتوں کو بچوں کی شخصیت سازی، اخلاقی نشوونما اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کے لیے استعمال کریں۔

آئیے، اس رمضان میں یہ عہد کریں کہ ہم اپنے بچوں کو صرف روزے اور عبادات کی اہمیت ہی نہیں سمجھائیں گے، بلکہ انہیں اچھا انسان، ذمہ دار فرد اور بااخلاق مسلمان بنانے کی عملی کوشش بھی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے۔رمضان المبارک کیسے گزاریں؟

About Muhammad Younus

Check Also

to set spoiled child

نافرمان اور بگڑے ہوئے بچے کو سدھارنے کا طریقہ

  ڈاکٹرمحمدیونس خالد- پیرنٹنگ وتربیہ کوچ / فیملی ویل بینگ کنسلٹنٹ اکثر والدین اور اساتذہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے