to set spoiled child

نافرمان اور بگڑے ہوئے بچے کو سدھارنے کا طریقہ

 

ڈاکٹرمحمدیونس خالد- پیرنٹنگ وتربیہ کوچ / فیملی ویل بینگ کنسلٹنٹ

اکثر والدین اور اساتذہ پریشانی کے ساتھ یہ سوال کرتے ہیں کہ بگڑے ہوئے بچے کو سدھارنے کا طریقہ کیا ہے۔ بعض بچے بات نہیں مانتے، جلد غصہ کرتے ہیں، بدتمیزی سے جواب دیتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتے، یا غلط دوستوں اور غلط عادتوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں بڑوں کا دل گھبرا جاتا ہے اور وہ کبھی سختی، کبھی ڈانٹ، اور کبھی بے بسی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر نافرمان یا بگڑتا ہوا بچہ صرف “خراب” نہیں ہوتا، بلکہ اکثر وہ کسی اندرونی مشکل، جذباتی خلا، غلط ماحول، یا غیر متوازن تربیت کا اشارہ دے رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے بگڑے ہوئے بچے کو سدھارنے کا طریقہ صرف سزا نہیں، بلکہ سمجھ، حکمت، صبر، اور درست تربیتی نظام ہے۔

سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ بچے کی اصلاح ایک عمل ہے، ایک واقعہ نہیں۔ بچہ ایک دن میں بگڑتا نہیں، اور ایک دن میں سدھرتا بھی نہیں۔ اگر والدین اور اساتذہ واقعی سنجیدگی سے کام کریں، تو زیادہ تر بچے محبت بھری firmness، درست حدود، مناسب نگرانی، اور روحانی و جذباتی support کے ذریعے دوبارہ سنبھل سکتے ہیں۔

پہلے اصل مسئلہ سمجھئے

بعض اوقات ہم بچے کے رویے کو دیکھ کر فوراً فیصلہ کر لیتے ہیں کہ وہ بدتمیز، ضدی یا بگڑا ہوا ہے۔ حالانکہ ممکن ہے بچہ نیند کی کمی، مسلسل اسکرین ٹائم، جذباتی دباؤ، حسد، والدین کے جھگڑوں، غلط دوستی، academic pressure، یا attention deficit جیسی کسی مشکل سے گزر رہا ہو۔ اسی لیے بگڑے ہوئے بچے کو سدھارنے کا طریقہ یہ نہیں کہ صرف اس کی ہر غلطی پر ردعمل دیا جائے، بلکہ پہلے یہ سمجھا جائے کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔

اگر بچہ اچانک بہت aggressive ہو گیا ہے، بہت خاموش ہو گیا ہے، پڑھائی سے کٹ گیا ہے، یا بار بار جھوٹ بولنے لگا ہے، تو یہ صرف اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ کسی گہرے مسئلے کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ والدین اور اساتذہ کو رویے کے پیچھے وجہ تلاش کرنی چاہیے۔

سائنسی طریقہ: روٹین، نیند، خوراک اور دماغی نظم

سائنسی اعتبار سے بچے کے رویے پر نیند، غذا، جسمانی سرگرمی، اور screen exposure بہت اثر ڈالتے ہیں۔ جو بچہ دیر رات تک جاگتا ہو، بے ترتیبی سے کھاتا ہو، ہر وقت موبائل پر لگا رہتا ہو، اور کھیل کود یا physical movement سے محروم ہو، اس میں چڑچڑاپن، impulsive behavior، کم توجہ، اور نافرمانی بڑھ سکتی ہے۔ اس لیے بگڑے ہوئے بچے کو سدھارنے کا طریقہ سائنسی نقطہ نظر سے یہ ہے کہ اس کی بنیادی lifestyle درست کی جائے۔

بچے کیلئے روزانہ کا واضح routine بنائیں۔ سونے جاگنے کا وقت مقرر کریں۔ رات کو سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے اسکرین بند کرا دیں۔ خوراک میں بہت زیادہ junk food، sugary drinks، اور مسلسل snacking کم کریں۔ بچے کو دھوپ، کھیل، واک، یا کسی جسمانی سرگرمی کا موقع دیں۔ یہ سب چیزیں دماغی regulation بہتر کرتی ہیں۔ بہت سے بچے صرف بہتر نیند، کم اسکرین، اور structured day سے ہی کافی حد تک متوازن ہو جاتے ہیں۔

اگر بچہ بہت زیادہ hyperactive ہے، بار بار چیزیں بھولتا ہے، ہدایات follow نہیں کرتا، یا aggression غیر معمولی ہے، تو pediatrician یا child psychologist سے مشورہ کرنا بھی دانش مندی ہے۔ ہر مسئلے کو صرف بدتہذیبی نہ سمجھیں۔

نفسیاتی طریقہ: تعلق ٹھیک کریں، لیبل نہیں لگائیں

نفسیاتی طور پر بچے کی اصلاح کا پہلا اصول یہ ہے کہ اسے “خراب”، “نالائق”، “بگڑا ہوا” یا “کبھی نہ سدھرنے والا” کہہ کر label نہ کریں۔ جب بچہ بار بار منفی الفاظ سنتا ہے تو وہ انہی الفاظ کے مطابق اپنے آپ کو دیکھنے لگتا ہے۔ بگڑے ہوئے بچے کو سدھارنے کا طریقہ یہ ہے کہ شخصیت پر حملہ نہ کیا جائے بلکہ رویے کو الگ کر کے درست کیا جائے۔

مثلاً “تم بہت بدتمیز ہو” کے بجائے کہیں “تمہارا یہ انداز درست نہیں تھا”۔ “تم کبھی نہیں سنبھلو گے” کے بجائے کہیں “تم بہتر بن سکتے ہو، لیکن یہ رویہ بدلنا ہوگا”۔ اس طرح بچہ اپنے آپ کو reject نہیں بلکہ correct ہونے کے قابل محسوس کرتا ہے۔

بچے کے ساتھ روزانہ کچھ quality time ضرور گزاریں۔ صرف حکم دینا کافی نہیں، سننا بھی ضروری ہے۔ اس سے پوچھیں کہ وہ کیا محسوس کرتا ہے، کس بات پر غصہ آتا ہے، کس سے دل دکھا ہے، اور اسے کس چیز کی ضرورت ہے۔ کئی بار بچے کی نافرمانی اس کی بے زبانی ہوتی ہے۔

جذباتی نظم سکھائیں

بہت سے بچے برے نہیں ہوتے، بلکہ اپنے emotions handle نہیں کر پاتے۔ انہیں غصہ آتا ہے تو چیختے ہیں، تکلیف ہوتی ہے تو بدتمیزی کرتے ہیں، ناکامی ہوتی ہے تو چیزیں پھینکتے ہیں۔ اس لیے بگڑے ہوئے بچے کو سدھارنے کا طریقہ یہ بھی ہے کہ اسے صرف “چپ رہو” نہ کہا جائے بلکہ “اپنے جذبات سنبھالنے” کی تربیت دی جائے۔

اسے سکھائیں کہ غصہ آئے تو دس تک گنے، گہرا سانس لے، پانی پیے، کچھ دیر خاموش ہو جائے، یا اپنے احساسات الفاظ میں بتائے۔ گھر اور کلاس میں “پرسکون ہونے کا طریقہ” سکھانا بہت مفید ہوتا ہے۔ یہ تربیت فوری نتیجہ نہیں دیتی مگر دیرپا تبدیلی ضرور لاتی ہے۔

سماجی طریقہ: ماحول اور دوستیاں بدلیں

بچہ اکیلا نہیں سیکھتا، وہ ماحول سے سیکھتا ہے۔ اگر اس کے دوست بدزبان ہیں، اس کا زیادہ وقت غیر مفید آن لائن content میں گزر رہا ہے، یا گھر کا ماحول لڑائی، طنز، اور منفی energy سے بھرا ہے، تو اصلاح مشکل ہو جاتی ہے۔ اسی لیے بگڑے ہوئے بچے کو سدھارنے کا طریقہ سماجی سطح پر یہ ہے کہ اس کے گرد کا ماحول بہتر کیا جائے۔

والدین اس کے دوستوں، اسکرین مواد، مدرسہ/اسکول ماحول، اور خاندانی circles پر نظر رکھیں۔ اساتذہ کلاس میں ایسے بچے کو صرف سزا نہ دیں بلکہ مثبت peer group کے قریب لائیں۔ اسے کسی constructive سرگرمی سے جوڑیں، جیسے کھیل، تلاوت، تقاریر، مطالعہ، social service، یا creative tasks۔ جب بچہ مثبت social environment میں آتا ہے تو اس کی energy بھی مثبت سمت لیتی ہے۔

دینی طریقہ: دل کی اصلاح، صرف رویے کی نہیں

اسلامی تربیت میں اصلاح کا مقصد صرف خاموشی پیدا کرنا نہیں، بلکہ دل، نیت، اخلاق، اور کردار کو سنوارنا ہے۔ اس لیے بگڑے ہوئے بچے کو سدھارنے کا طریقہ دینی اعتبار سے یہ ہے کہ بچے کے دل میں اللہ کی محبت، جواب دہی کا شعور، اور ادب کی اہمیت پیدا کی جائے۔ مگر یہ کام صرف ڈانٹ کر نہیں ہوگا۔

گھر میں مختصر مگر مستقل دینی ماحول بنائیں۔ روزانہ چند منٹ قرآن سننا یا پڑھنا، ایک مختصر حدیث یا اخلاقی بات، دعا کی عادت، اور نماز کی gentle reminder بہت مفید ہوتی ہے۔ بچے کو صرف “یہ حرام ہے” کہنے کے بجائے یہ بھی سمجھائیں کہ اچھا اخلاق کیوں ضروری ہے، والدین کی عزت کیوں اہم ہے، سچائی کیوں پسندیدہ ہے، اور اللہ پاک نرمی، شکر اور ادب کو کیوں پسند فرماتے ہیں۔

والدین خود نماز، دعا، سچائی، اور نرمی کی مثال بنیں۔ بچہ جب دین کو ڈانٹ کی زبان میں نہیں بلکہ محبت اور عمل کی زبان میں دیکھتا ہے تو اس پر اثر زیادہ پڑتا ہے۔

وظیفہ اور دعا

وظیفہ اصلاح کا substitute نہیں، support ہے۔ یعنی کوشش، نگرانی، محبت، اور درست تربیت کے ساتھ دعا اور ذکر شامل کیا جائے۔ بچے کی اصلاح کیلئے یہ آسان معمول اپنایا جا سکتا ہے:

روزانہ فجر یا عشاء کے بعد 11 مرتبہ درودِ ابراہیمی پڑھیں، پھر
رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ
11 مرتبہ پڑھیں۔
اس کے بعد 21 مرتبہ
يَا هَادِيُ
پڑھ کر بچے پر محبت سے دم کریں یا اس کیلئے دعا کریں۔

ساتھ یہ دعا بھی کثرت سے مانگیں:
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ

یہ ذہن میں رہے کہ دعا اللہ سے مدد مانگنے کا ذریعہ ہے، مگر ساتھ practical تربیت بھی ضروری ہے۔

والدین اور اساتذہ کیلئے آخری مشورہ

اصلاح میں جلد بازی، ذلت، مارپیٹ، اور مایوسی نقصان دیتی ہے۔ بگڑے ہوئے بچے کو سدھارنے کا طریقہ یہ نہیں کہ آپ ہر وقت صرف غلطیاں گنواتے رہیں، بلکہ یہ ہے کہ اچھے رویے کو notice کریں، چھوٹی پیش رفت پر خوش ہوں، واضح حدود رکھیں، اور ایک ہی پیغام مستقل مزاجی سے دیں۔ اگر بچہ بہت شدید aggression، self-harm، یا خطرناک رویہ دکھا رہا ہو تو پیشہ ور child psychologist یا counselor سے رابطہ ضرور کریں۔

نتیجہ

بگڑے ہوئے بچے کو سدھارنے کا طریقہ سائنسی نظم، نفسیاتی فہم، سماجی نگرانی، اور دینی تربیت کے امتزاج میں ہے۔ جب والدین اور اساتذہ بچے کو مسئلہ نہیں بلکہ امانت سمجھ کر اس کی ضرورت، جذبات، ماحول، اور روحانی کیفیت پر کام کرتے ہیں، تو بڑی حد تک تبدیلی ممکن ہو جاتی ہے۔ اصلاح کا راستہ سختی سے زیادہ حکمت، شور سے زیادہ تعلق، اور مایوسی سے زیادہ دعا مانگتا ہے۔ یہی مثبت تربیت ہے، اور یہی بچے کو بگاڑ سے نکال کر سنوارنے کا مؤثر راستہ ہے۔

عام طورپر پوچھے جانے والے سوالات:

1) بگڑے ہوئے بچے کو سدھارنے کا طریقہ کیا ہے؟

بگڑے ہوئے بچے کو سدھارنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس کے رویے کی اصل وجہ سمجھی جائے، پھر محبت بھری firmness، واضح حدود، مستقل مزاجی، اچھے ماحول، اور جذباتی support کے ساتھ اصلاح کی جائے۔

2) نافرمان بچے کو کیسے سنبھالیں؟

نافرمان بچے کو سنبھالنے کیلئے چیخنے کے بجائے پرسکون انداز اپنائیں، مختصر اور واضح ہدایات دیں، اچھے رویے کی تعریف کریں، اور غلط رویے پر مناسب consequences استعمال کریں۔

3) بچے کیوں بگڑ جاتے ہیں؟

بچے غیر متوازن تربیت، توجہ کی کمی، غلط صحبت، زیادہ اسکرین ٹائم، گھریلو تناؤ، یا جذباتی مسائل کی وجہ سے بگڑ سکتے ہیں۔

4) کیا صرف سختی سے بچہ سدھر جاتا ہے؟

نہیں، صرف سختی سے اکثر بچہ مزید ضدی، خوفزدہ یا جھوٹا ہو سکتا ہے۔ حقیقی اصلاح محبت، رہنمائی، حدود، اور مسلسل تربیت سے آتی ہے۔

5) بچے کی اصلاح میں دینی تربیت کا کیا کردار ہے؟

دینی تربیت بچے کے دل میں اللہ کی محبت، ادب، سچائی، ذمہ داری، اور جواب دہی کا شعور پیدا کرتی ہے، جو اصلاحِ کردار میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

6) کیا بچے کی اصلاح کیلئے دعا اور وظیفہ بھی مفید ہیں؟

جی ہاں، دعا اور وظیفہ بہت مفید ہیں، لیکن ان کے ساتھ عملی تربیت، نگرانی، محبت، اور صحیح ماحول بھی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے:دورحاضر کے پیرنٹنگ چیلنجز اور حل

About Muhammad Younus

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے