غصہ کنٹرول کرنے کا طریقہ

غصہ کنٹرول کرنے کا طریقہ | غصہ پر قابو پانے کی دعا اور آسان علاج

ڈاکٹرمحمدیونس خالد

غصہ انسان کے فطری جذبات میں سے ایک ہے۔ ہر انسان کو کبھی نہ کبھی غصہ آتا ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب غصہ انسان کے الفاظ، فیصلوں، رویے اور رشتوں کو کنٹرول کرنے لگے۔ خاص طور پر والدین کے لیے غصہ ایک اہم مسئلہ بن سکتا ہے، کیونکہ والدین کا غصہ براہِ راست بچوں کی تربیت اور والدین بچوں کے تعلقات کو متاثر کرتا ہے۔

اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ غصہ کنٹرول کرنے کا طریقہ کیا ہے، شدید غصے کے وقت خود کو کیسے روکیں، غصہ پر قابو پانے کی دعا کیا ہے اور غصے کے لیے اسلامی و نفسیاتی حل کیا ہیں، تو اس مضمون میں آپ کو ایک عملی step-by-step طریقہ ملے گا۔

سب سے پہلے یہ آسان طریقہ آزمائیں

جب غصہ اچانک بہت بڑھ جائے تو فوراً مسئلہ حل کرنے یا بحث جاری رکھنے کی کوشش نہ کریں۔ پہلے خود کو calm کریں۔

غصے کے وقت پانچ عملی اقدامات۔

1۔ رک جائیں:
فوراً جواب نہ دیں۔ خاموش ہوجائیں اور اپنے آپ کو چند لمحوں کا وقفہ دیں۔

2۔ اعوذ باللہ پڑھیں:
کہیں: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

نبی کریم ﷺ نے غصے کی حالت میں اس کلمے کے ذریعے اللہ کی پناہ مانگنے کی ہدایت فرمائی۔ (صحیح مسلم 2610b، سنن ابی داؤد 4781)

3۔ گہری اور آہستہ سانس لیں:
ناک سے آہستہ سانس اندر لیں، چند لمحے روکیں اور پھر آہستہ باہر نکالیں۔ یہ عمل کئی مرتبہ کریں۔

4۔ اپنی جسمانی پوزیشن بدلیں:
اگر کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں، اور اگر غصہ برقرار رہے تو کچھ دیر لیٹ جائیں۔ غصے کے وقت حالت بدلنے کی یہ ہدایت حدیث میں بھی ملتی ہے۔ (سنن ابی داؤد 4782)

5۔ اس وقت فیصلہ یا جواب نہ دیں:
اپنے آپ سے کہیں: میں ابھی غصے میں ہوں، اس لیے ابھی بات نہیں کروں گا۔ پہلے خود کو پرسکون کروں گا، پھر مسئلہ حل کروں گا۔

یہی وہ بنیادی غصہ کنٹرول کرنے کا طریقہ ہے جسے آپ آج ہی اپنی زندگی میں استعمال کرنا شروع کرسکتے ہیں۔


غصہ کیا ہے اور ہمیں غصہ کیوں آتا ہے؟

غصہ ایک جذباتی ردعمل ہے جو اس وقت پیدا ہوسکتا ہے جب انسان کو لگے کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، اس کی بات نہیں مانی گئی، کسی نے اسے نظرانداز کیا، اس کی توقع پوری نہیں ہوئی یا اس کی حدود کو پامال کیا گیا۔

مثلاً:

  • بچہ بار بار ایک ہی بات نہ مانے۔
  • شریکِ حیات آپ کی بات سے اختلاف کرے۔
  • کوئی آپ کی بے عزتی کرے۔
  • کام بار بار خراب ہوجائے۔
  • ٹریفک میں کوئی راستہ روک دے۔
  • آپ کو محسوس ہو کہ لوگ آپ کی قدر نہیں کررہے۔
  • کسی نے آپ کے ساتھ وعدہ خلافی کی ہو۔
  • مسلسل تھکن، دباؤ یا مالی پریشانی ہو۔

ان حالات میں غصہ پیدا ہونا فطری ہوسکتا ہے۔ اصل مسئلہ صرف غصہ محسوس کرنا نہیں بلکہ غصے کے بعد ہم کیا کرتے ہیں؟ یہ زیادہ اہم ہے۔

ایک شخص غصے میں خاموش ہوکر سوچ سکتا ہے، جبکہ دوسرا چیخ سکتا ہے، گالی دے سکتا ہے یا کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسی لیے غصے پر قابو پانا ایک سیکھنے والی skill ہے۔


غصہ کنٹرول کرنے کا طریقہ: اصل اصول

غصے کو کنٹرول کرنے کے لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ "مجھے غصہ نہیں کرنا چاہیے۔”

آپ کو غصے کے پورے cycle کو سمجھنا ہوگا:

واقعہ → سوچ → جذبات → جسمانی ردعمل → رویہ → نتیجہ

مثلاً، واقعہ: بچے نے آپ کی بات نہیں مانی۔

سوچ: "یہ میری بالکل عزت نہیں کرتا۔”

جذبات: غصہ۔

جسمانی ردعمل: دل تیز دھڑکنا، آواز بلند ہونا، جسم میں تناؤ۔

رویّہ: چیخنا یا سخت الفاظ استعمال کرنا۔

نتیجہ: بچہ ڈر جاتا ہے، تعلق خراب ہوتا ہے اور مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

اب اگر آپ واقعے اور ردعمل کے درمیان ایک چھوٹا سا وقفہ پیدا کردیں تو نتیجہ بدل سکتا ہے۔

واقعہ → وقفہ → سوچ کی اصلاح → پرسکون جواب

یہی anger management کی بنیادی سوچ ہے۔ نفسیاتی طریقوں میں بھی غصے کے دوران جسم کو پرسکون کرنے، منفی یا مبالغہ آمیز سوچ کو زیادہ متوازن سوچ سے بدلنے اور بہتر communication کی مشق کی جاتی ہے۔


غصہ پر قابو کیسے پائیں؟ 10 عملی طریقے

1۔ اپنے غصے کے Trigger پہچانیں

ہر انسان کے غصے کے کچھ مخصوص triggers ہوتے ہیں۔

ایک کاغذ پر لکھیں:

  • مجھے سب سے زیادہ غصہ کب آتا ہے؟
  • کس شخص کے رویے سے غصہ آتا ہے؟
  • کون سی بات مجھے فوراً مشتعل کرتی ہے؟
  • غصے سے پہلے میرے ذہن میں کیا خیال آتا ہے؟
  • میرے جسم میں غصے کی پہلی علامت کیا ہوتی ہے؟

مثلاً آپ کو معلوم ہوسکتا ہے کہ آپ کو اصل میں بچے کی غلطی سے زیادہ اس وقت غصہ آتا ہے جب آپ پہلے ہی تھکے ہوئے ہوتے ہیں۔

یہ شناخت غصہ کی وجوہات اور علاج سمجھنے کی طرف پہلا قدم ہے۔


2۔ غصے کی پہلی علامت پر رک جائیں

غصہ اچانک بہت شدید محسوس ہوسکتا ہے، لیکن اکثر اس سے پہلے جسم کچھ signals دیتا ہے۔

مثلاً:

  • دل تیز دھڑکنا
  • مٹھیاں بھینچنا
  • آواز بلند ہونا
  • چہرہ گرم ہونا
  • سانس تیز ہونا
  • جسم میں تناؤ
  • فوراً جواب دینے کی شدید خواہش

جب یہ علامات محسوس ہوں تو خود سے کہیں:

"Warning! مجھے غصہ آرہا ہے۔ ابھی مجھے رکنا ہے۔”

یہ چھوٹا سا awareness step بہت اہم ہے۔


3۔ گہری سانس لینے کی مشق کریں

شدید غصے کے وقت ہمارا جسم tension کی حالت میں چلا جاتا ہے۔ controlled breathing جسمانی تناؤ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ایک آسان طریقہ:

4 سیکنڈ: سانس اندر لیں۔

2 سیکنڈ: سانس روکیں۔

6 سیکنڈ: آہستہ سانس باہر نکالیں۔

اسے چند مرتبہ دہرائیں۔

مقصد یہ نہیں کہ چند سیکنڈ میں غصہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ آپ اپنے جسم اور ذہن کو اتنا calm کریں کہ آپ سوچ سمجھ کر ردعمل دے سکیں۔


4۔ اپنے ذہن کی زبان تبدیل کریں

شدید غصے میں انسان اکثر ایسی سوچ سوچتا ہے:

"یہ ہمیشہ ایسا ہی کرتا ہے۔”

"اسے کبھی میری بات سمجھ نہیں آتی۔”

"سب لوگ میرے خلاف ہیں۔”

"یہ جان بوجھ کر مجھے پریشان کررہا ہے۔”

ایسی سوچ غصہ مزید بڑھا سکتی ہے۔

اس کے بجائے کہیں:

"یہ مسئلہ ہے، لیکن اسے حل کیا جاسکتا ہے۔”

"مجھے ابھی صرف اس ایک situation کو handle کرنا ہے۔”

"ممکن ہے اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہو۔”

"میں غصے کے بغیر بھی اپنی بات واضح کرسکتا ہوں۔”

نفسیاتی طور پر thoughts کو زیادہ متوازن انداز میں دیکھنا anger management کا اہم حصہ ہے۔


5۔ غصے میں بحث نہ کریں

کئی لوگ غصے میں مسئلہ فوراً حل کرنا چاہتے ہیں۔

یہ اکثر مسئلے کو مزید خراب کردیتا ہے۔

اگر آپ کا غصہ بہت زیادہ ہے تو کہیں:

"ہم اس موضوع پر بات کریں گے، لیکن ابھی نہیں۔ مجھے پہلے خود کو calm کرنا ہے۔”

اس کا مطلب مسئلے سے بھاگنا نہیں بلکہ اسے بہتر وقت کے لیے مؤخر کرنا ہے۔

خصوصاً میاں بیوی اور والدین بچوں کے معاملات میں یہ طریقہ بہت مفید ہوسکتا ہے۔


6۔ غصہ ختم کرنے کی دعا اور اسلامی طریقہ اپنائیں

اسلام نے غصے کو معمولی مسئلہ نہیں سمجھا بلکہ انسان کو غصے پر قابو پانے کی تربیت دی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو بار بار نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

"غصہ نہ کرو۔”

یہ حدیث صحیح بخاری میں موجود ہے۔ (صحیح بخاری 6116)

غصے کے وقت یہ پڑھیں: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

یعنی: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے۔

نبی کریم ﷺ نے غصے کی حالت میں اللہ کی پناہ مانگنے کی ہدایت فرمائی۔ (صحیح مسلم 2610b)

یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ دعا صرف الفاظ پڑھنے کا نام نہیں۔ دعا کے ساتھ اپنے رویے کو تبدیل کرنے کی کوشش بھی ضروری ہے۔


7۔ غصے میں اپنی جسمانی حالت تبدیل کریں

اگر آپ کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں۔

اگر بیٹھے ہیں اور غصہ برقرار ہے تو کچھ دیر لیٹ جائیں۔

سنن ابی داؤد میں غصے کی حالت میں کھڑے شخص کو بیٹھنے اور غصہ برقرار رہنے کی صورت میں لیٹنے کی ہدایت منقول ہے۔

اس کے ساتھ جگہ بھی تبدیل کی جاسکتی ہے۔

مثلاً: میں پانچ منٹ کے لیے دوسرے کمرے میں جارہا ہوں، پھر بات کرتے ہیں۔

لیکن یہ بات خاموش سزا یا تعلق ختم کرنے کے انداز میں نہ کہیں۔ مقصد خود کو regulate کرنا ہونا چاہیے۔


8۔ غصے میں الفاظ کا انتخاب کریں

غصے میں زبان سب سے پہلے بے قابو ہوتی ہے۔

والدین اکثر بچے سے کہتے ہیں:

"تم کبھی نہیں سدھرو گے۔”

"تم ہمیشہ مسئلہ کرتے ہو۔”

"تم بہت بدتمیز ہو۔”

ایسے جملے بچے کے کردار کو نشانہ بناتے ہیں۔

اس کے بجائے رویے پر بات کریں:

❌ "تم بہت بدتمیز ہو۔”

✅ "مجھے تمہارا اس انداز میں بات کرنا پسند نہیں آیا۔”

❌ "تم ہمیشہ میری بات نہیں مانتے۔”

✅ "میں چاہتا ہوں کہ جب میں تم سے بات کروں تو تم میری بات سنو۔”

یہ فرق مثبت پیرنٹنگ میں بہت اہم ہے۔

والدین بچوں کی تربیت میں غصے کے بجائے مؤثر communication، واضح حدود اور مستقل رویے کو اپنائیں تو بچے کو بھی جذبات کو بہتر انداز میں manage کرنا سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

اگر آپ والدین اور بچوں کے تعلق، تربیت اور روزمرہ parenting challenges پر مزید عملی رہنمائی چاہتے ہیں تو پیرنٹنگ (Parenting) کے مکمل گائیڈ سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔


9۔ ہر غصے کے پیچھے اصل ضرورت تلاش کریں

کبھی ہمارا غصہ اصل مسئلے پر نہیں ہوتا۔

مثلاً ایک والد شام کو گھر آتا ہے۔ وہ پورا دن کام کی وجہ سے تھکا ہوا ہے۔ گھر آتے ہی بچہ شور کرتا ہے۔

والد چیخ پڑتا ہے:

"چپ کرو! تمہیں ذرا بھی سمجھ نہیں!”

لیکن اصل مسئلہ صرف بچے کا شور نہیں تھا۔

ممکن ہے اصل میں:

تھکن + ذہنی دباؤ + نیند کی کمی + مسلسل ذمہ داریاں

مل کر غصہ بڑھا رہی ہوں۔

اس لیے خود سے پوچھیں:

"میں واقعی کس چیز پر غصہ کررہا ہوں؟”

یہ سوال بہت سے hidden triggers سامنے لاسکتا ہے۔


10۔ غصے کے بعد Repair ضرور کریں

اگر آپ غصے میں کسی پر چیخ چکے ہیں تو صرف یہ سوچ کر آگے نہ بڑھ جائیں کہ "اب تو غصہ ختم ہوگیا۔”

،اگر آپ سے غلطی ہوئی ہے تو معذرت کریں۔ مثلاً بچے سے کہیں:

"مجھے تمہارے اس رویے پر ناراضی ہوئی تھی، لیکن مجھے چیخنا نہیں چاہیے تھا۔ میری آواز غلط تھی۔ آئندہ میں بہتر طریقے سے بات کرنے کی کوشش کروں گا۔”

اس طرح آپ بچے کو صرف معافی نہیں سکھاتے بلکہ emotional responsibility بھی سکھاتے ہیں۔


شدید غصہ کو کیسے ختم کریں؟

اگر غصہ بہت شدید ہوگیا ہو، تو پہلے یہ فیصلہ نہ کریں کہ مجھے ابھی غصہ ختم کرنا ہے۔

 ،اس وقت پہلا مقصد یہ ہونا چاہیے،"مجھے غصے میں کوئی غلط عمل نہیں کرنا۔”

 اس کے بعد مندرجہ ذیل چند اقدامات اپنائیں۔ :

  1.  تھوڑی دیر کیلئے رک جائیں۔
  2.  پھراعوذ باللہ پڑھیں۔
  3. گہری سانس لیں۔
  4. جسمانی پوزیشن تبدیل کریں۔
  5. چند منٹ کے لیے situation سے الگ ہوجائیں۔
  6. پانی پی سکتے ہیں۔
  7. خود سے کہیں کہ ابھی فیصلہ نہیں کرنا۔
  8. غصہ کم ہونے کے بعد اصل مسئلہ دیکھیں۔
  9. پھر مناسب الفاظ میں بات کریں۔

یاد رکھیں، غصہ ختم کرنے کے نسخے کا مطلب کوئی ایک جادوئی نسخہ نہیں۔ مستقل بہتری کے لیے awareness، practice اور behavior change ضروری ہے۔


غصہ پر قابو پانے کا اسلامی طریقہ

اسلامی تعلیمات میں اصل طاقت صرف جسمانی قوت نہیں ہوتی بلکہ اپنے نفس کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حقیقی طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ (صحیح مسلم 2609a)

اس سے ہمیں ایک بنیادی اصول ملتا ہے:

غصہ آنا کمزوری نہیں، غصے کے وقت اپنے آپ کو بے قابو چھوڑ دینا مسئلہ ہے۔

اسلامی طریقے کو عملی شکل میں یوں اپناسکتے ہیں۔:

غصے کے وقت:

1۔ اللہ کی پناہ مانگیں۔

2۔ خاموش ہوجائیں۔

3۔ اپنی جسمانی پوزیشن تبدیل کریں۔

4۔ بحث جاری نہ رکھیں۔

5۔ اپنے الفاظ کو روکیں۔

6۔ غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد معاملہ حل کریں۔

یہ صرف مذہبی معلومات نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے لیے عملی self-control training بھی بن سکتی ہے۔


غصہ کی وجوہات اور علاج

غصہ صرف دوسرے لوگوں کی غلطیوں کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے مختلف عوامل ہوسکتے ہیں:

عام وجوہات

  • مسلسل ذہنی دباؤ
  • نیند کی کمی
  • تھکن
  • گھریلو تنازعات
  • مالی پریشانی
  • کام کا دباؤ
  • احساسِ بے قدری
  • بار بار ناکامی
  • غیر حقیقی توقعات
  • پرانے unresolved مسائل
  • communication problems
  • اپنی ضروریات کا اظہار نہ کرپانا

اس لیے غصہ کی وجوہات اور علاج کو سمجھنے کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ "کس نے مجھے غصہ دلایا؟”

یہ بھی دیکھیں: میں اس وقت کس ذہنی اور جسمانی حالت میں ہوں؟


غصے کو روکنے کے لیے ایک Daily Practice

غصہ کنٹرول کرنے کے لیے روزانہ صرف 5 منٹ کی practice شروع کریں۔

ایک notebook لیں اور روزانہ یہ پانچ سوال لکھیں:

1۔ آج مجھے کب غصہ آیا؟

2۔ Trigger کیا تھا؟

3۔ میں نے کیا سوچا؟

4۔ میں نے کیا ردعمل دیا؟

5۔ اگلی بار میں کیا مختلف کروں گا؟

مثلاً:

واقعہ: بچے نے homework نہیں کیا۔

میری سوچ: "یہ کبھی ذمہ دار نہیں بنے گا۔”

میرا ردعمل: میں نے چیخ کر بات کی۔

نیا ردعمل: پہلے وجہ پوچھوں گا، پھر واضح consequence طے کروں گا۔

یہ مشق آہستہ آہستہ آپ کو اپنے anger pattern کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔


والدین اپنے غصے کو کیسے کنٹرول کریں؟

والدین کے لیے غصہ کنٹرول کرنا خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ بچے صرف ہماری بات نہیں سنتے بلکہ ہمارے رویے سے بھی سیکھتے ہیں۔

اگر والد ہر غلطی پر چیختا ہے تو بچہ یہ سیکھ سکتا ہے کہ:

"مسئلہ حل کرنے کا طریقہ چیخنا ہے۔”

اگر والدین اختلاف کے باوجود پرسکون رہ کر بات کرتے ہیں تو بچہ سیکھتا ہے:

"غصہ آنے کے باوجود انسان اپنے رویے کو کنٹرول کرسکتا ہے۔”

اسی لیے parenting میں مقصد صرف بچے کو کنٹرول کرنا نہیں بلکہ اپنے ردعمل کو بھی تربیت دینا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مثبت پیرنٹنگ کیسے کریں؟ کے اصول غصے سے نمٹنے میں بھی بہت اہم ہیں۔ مثبت پیرنٹنگ کا مطلب بچے کی ہر بات مان لینا نہیں بلکہ محبت، احترام، واضح حدود اور مؤثر communication کے ساتھ تربیت کرنا ہے۔


غصہ کنٹرول کرنے کے لیے 7 جملے یاد رکھیں

جب آپ کو محسوس ہو کہ غصہ بڑھ رہا ہے تو ان میں سے کوئی ایک جملہ خود سے کہیں:

"مجھے ابھی جواب نہیں دینا۔”

"میں پہلے خود کو calm کروں گا۔”

"یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔”

"مجھے شخص نہیں، مسئلے سے نمٹنا ہے۔”

"میں غصے میں فیصلہ نہیں کروں گا۔”

"میں اپنی آواز کو کنٹرول کرسکتا ہوں۔”

"میرا مقصد جیتنا نہیں، مسئلہ حل کرنا ہے۔”

یہ جملے بار بار practice کرنے سے مشکل situations میں آپ کو pause لینے کی یاد دہانی کرا سکتے ہیں۔


کب ماہر سے مدد لینی چاہیے؟

اگر غصہ کبھی کبھار آتا ہے اور آپ اسے manage کرلیتے ہیں تو self-help techniques مددگار ہوسکتی ہیں۔

لیکن اگر غصہ:

  • بہت زیادہ اور بار بار آتا ہے،
  • رشتوں کو مسلسل نقصان پہنچا رہا ہے،
  • گھر میں خوف کا ماحول پیدا کررہا ہے،
  • جسمانی تشدد تک پہنچ جاتا ہے،
  • کام یا روزمرہ زندگی متاثر کررہا ہے،
  • آپ کو لگتا ہے کہ آپ غصے کے وقت خود پر قابو نہیں رکھ پاتے،
  • یا آپ بار بار کوشش کے باوجود بہتری نہیں لاپارہے،

تو کسی qualified psychologist یا mental-health professional سے مشورہ کرنا مناسب ہے۔ ماہرین triggers کی شناخت، سوچ کے patterns کو سمجھنے اور coping skills develop کرنے میں مدد دے سکتے ہیں؛ anger treatment میں cognitive-behavioral approaches بھی استعمال ہوتی ہیں۔

اگر کبھی غصے کے دوران کسی کو فوری نقصان پہنچانے کا خطرہ محسوس ہو تو situation سے فوراً دور ہوجائیں اور قابلِ اعتماد شخص یا مقامی ہنگامی/طبی مدد سے رابطہ کریں۔


خلاصہ: غصہ کنٹرول کرنے کا طریقہ

غصہ کنٹرول کرنے کا طریقہ صرف غصہ دبانے کا نام نہیں بلکہ اپنے جذبات، خیالات اور ردعمل کو سمجھ کر بہتر طریقے سے manage کرنا ہے۔

جب غصہ آئے تو:

رکیں → اعوذ باللہ پڑھیں → سانس لیں → پوزیشن تبدیل کریں → خاموش رہیں → اپنی سوچ دیکھیں → غصہ کم ہونے دیں → پھر مسئلہ حل کریں۔

اسلام ہمیں غصے کے وقت خود پر قابو رکھنے، اللہ کی پناہ مانگنے اور جذباتی ردعمل کو روکنے کی تعلیم دیتا ہے۔ نفسیاتی طریقے ہمیں triggers پہچاننے، جسمانی تناؤ کم کرنے، سوچ کو متوازن کرنے اور مؤثر communication کی مشق کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

خاص طور پر والدین کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بچے کی غلطی کو درست کرنا اور بچے پر غصہ نکالنا دو الگ چیزیں ہیں۔

بچے کی تربیت کے لیے حدود ضروری ہیں، لیکن حدود کے ساتھ تعلق، احترام اور پرسکون communication بھی ضروری ہے۔

آج سے صرف ایک عادت شروع کریں:

غصے میں جواب دینے سے پہلے 10 سیکنڈ کا وقفہ۔

شاید یہ صرف 10 سیکنڈ ہوں، لیکن یہی 10 سیکنڈ آپ کے ایک غلط ردعمل اور ایک بہتر فیصلے کے درمیان فرق پیدا کرسکتے ہیں۔

About Muhammad Younus

Check Also

مثبت پیرنٹنگ

مثبت پیرنٹنگ کیسے کریں؟ بچوں کی تربیت اور مثبت پرورش کا مکمل طریقہ

ڈاکٹرمحمدیونس خالد۔ بچوں کی تربیت صرف یہ سکھانے کا نام نہیں کہ بچہ بڑوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے