ڈاکٹرمحمدیونس خالد
بچوں کی تربیت والدین کی زندگی کی سب سے اہم ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ ہر والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے بااخلاق، ذمہ دار، خوداعتماد، فرمانبردار اور کامیاب انسان بنیں۔ لیکن صرف اچھی نیت کافی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات والدین بچوں کی بہتری کے لیے ایسے طریقے اختیار کر لیتے ہیں جو بظاہر درست محسوس ہوتے ہیں، مگر عملی طور پر بچے کی شخصیت، اعتماد اور والدین کے ساتھ تعلق کو متاثر کر سکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ تربیت کے دوران والدین کی 10 غلطیاں ایسی ہیں جو بہت سے گھرانوں میں غیر محسوس طریقے سے دہرائی جاتی ہیں۔ کبھی غصہ، کبھی ضرورت سے زیادہ تنقید، کبھی دوسروں سے موازنہ اور کبھی ہر معاملے میں حکم چلانا بچوں کی تربیت کو مشکل بنا دیتا ہے۔
اچھی تربیت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ بچہ والدین کی ہر بات مانے، بلکہ یہ ہے کہ وہ صحیح اور غلط میں فرق سمجھنے، ذمہ داری قبول کرنے، اپنے جذبات کو سنبھالنے اور اچھے فیصلے کرنے کے قابل بنے۔
اگر آپ والدین کی حیثیت سے بچوں کی تربیت کو ایک جامع انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں توہمارے ارٹیکل پیرنٹنگ (Parenting) سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ تربیت کے دوران والدین کی 10 غلطیاں کون سی ہیں اور ان سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔
1۔ ہر غلطی پر فوراً ڈانٹنا
بچوں سے غلطیاں ہونا ان کی نشوونما کا قدرتی حصہ ہے۔ لیکن بعض والدین بچے کی ہر چھوٹی غلطی پر فوراً غصہ، ڈانٹ یا سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
مثلاً بچہ پانی گرا دے، ہوم ورک بھول جائے یا کوئی چیز توڑ دے تو والدین فوراً کہتے ہیں:
"تم سے کوئی کام ٹھیک نہیں ہوتا!”
اس طرح بچے کو اپنی غلطی سمجھنے کے بجائے یہ پیغام ملتا ہے کہ میں ہی خراب ہوں۔
بہتر طریقہ یہ ہے کہ غلطی اور بچے کی شخصیت میں فرق رکھا جائے۔ کہیں:
"یہ کام غلط ہوا ہے، آؤ دیکھتے ہیں اسے کیسے درست کیا جا سکتا ہے۔”
اس طرح تربیت کے ساتھ مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوتی ہے۔
2۔ دوسرے بچوں سے موازنہ کرنا
والدین کی عام تربیتی غلطیوں میں سے ایک بچوں کا دوسروں سے موازنہ کرنا ہے۔
"دیکھو علی کتنے نمبر لیتا ہے۔”
"تمہاری بہن تم سے زیادہ سمجھدار ہے۔”
"تمہارے کزن کو دیکھو، وہ کتنا فرمانبردار ہے۔”
ایسے جملے بچے کو بہتر بنانے کے بجائے اس کے اندر احساسِ کمتری، حسد یا ناراضی پیدا کر سکتے ہیں۔
بچے کا موازنہ کسی دوسرے بچے سے کرنے کے بجائے اس کی اپنی گزشتہ کارکردگی سے کریں۔
مثلاً:
"پچھلے مہینے تم پانچ دن وقت پر پڑھنے بیٹھے تھے، اس مہینے ہم اسے دس دن تک لے کر چلتے ہیں۔”
یہ مثبت پیرنٹنگ کا زیادہ مؤثر انداز ہے۔
3۔ صرف نتائج پر توجہ دینا
بعض والدین کے لیے بچوں کی تربیت کا مطلب صرف اچھے نمبر، کامیابی اور مقابلے میں آگے نکلنا بن جاتا ہے۔
بچہ 90 نمبر لے آئے تو سوال ہوتا ہے:
"100 کیوں نہیں آئے؟”
لیکن یہ نہیں پوچھا جاتا:
"تم نے کتنی محنت کی؟”
بچے کی شخصیت صرف اس کے نمبروں سے نہیں بنتی۔ اس کے اندر محنت، دیانت، صبر، ذمہ داری، تعاون، خود نظم و ضبط اور اچھا اخلاق بھی پیدا کرنا ضروری ہے۔
کردار سازی اور شخصیت سازی کو تعلیمی کامیابی کے ساتھ برابر اہمیت دیں۔
4۔ بچوں کی بات نہ سننا
تربیت یک طرفہ عمل نہیں ہے۔ والدین بولتے رہیں اور بچے صرف سنتے رہیں، تو تعلق میں فاصلے پیدا ہو سکتے ہیں۔
بچے اگر اپنی بات، خوف، پریشانی یا خواہش والدین کے سامنے بیان کریں اور انہیں ہر مرتبہ ڈانٹ دیا جائے تو آہستہ آہستہ وہ باتیں چھپانا شروع کر سکتے ہیں۔
اس لیے بچے کی بات سننا بھی تربیت کا حصہ ہے۔
ضروری نہیں کہ آپ بچے کی ہر بات سے اتفاق کریں۔ پہلے اسے سمجھیں، پھر رہنمائی کریں۔
ایک سادہ اصول یاد رکھیں:
پہلے تعلق، پھر اصلاح۔
5۔ غصے میں تربیت کرنا
غصے کی حالت میں والدین اکثر ایسی بات کہہ دیتے ہیں جس کا بعد میں افسوس ہوتا ہے۔
"تم کبھی نہیں سدھو گے۔”
"تم بہت بدتمیز ہو۔”
"مجھے تم سے کوئی امید نہیں۔”
یہ الفاظ وقتی طور پر بچے کو خاموش کر سکتے ہیں، لیکن مستقل تربیت نہیں کرتے۔
جب والدین خود اپنے جذبات کو کنٹرول نہیں کر پاتے تو بچے بھی جذباتی نظم و ضبط سیکھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔
اس لیے بچے کو اصلاح کرنے سے پہلے خود کو پرسکون کریں۔ اگر ضروری ہو تو چند لمحوں کے لیے گفتگو روک دیں اور بعد میں بات کریں۔
6۔ ہر مسئلے کا حل سزا کو سمجھنا
سزا بعض حالات میں نظم قائم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن ہر مسئلے کا مستقل حل سزا نہیں۔
اگر بچہ ہوم ورک نہیں کرتا تو صرف موبائل چھین لینا مسئلہ حل نہیں کرتا۔ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہوم ورک کیوں نہیں ہو رہا۔
کیا بچہ تھکا ہوا ہے؟
کیا اسے سبق سمجھ نہیں آ رہا؟
کیا اس کا معمول غیر منظم ہے؟
یا وہ توجہ حاصل کرنا چاہتا ہے؟
اچھی تربیت میں صرف یہ نہیں دیکھا جاتا کہ "غلطی کیا ہوئی؟” بلکہ یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ غلطی کیوں ہوئی؟
7۔ والدین کا اپنے عمل میں مثال نہ بننا
بچے والدین کی باتوں سے زیادہ ان کے عمل سے سیکھتے ہیں۔
اگر والدین چاہتے ہیں کہ بچہ موبائل کم استعمال کرے لیکن خود ہر وقت موبائل پر رہتے ہیں، تو صرف نصیحت مؤثر نہیں ہوگی۔
اگر والدین چاہتے ہیں کہ بچہ احترام سے بات کرے لیکن گھر میں خود ایک دوسرے سے سخت لہجے میں بات کرتے ہیں تو بچہ الفاظ نہیں بلکہ رویہ سیکھے گا۔
اسی لیے بچوں کی تربیت کا ایک بنیادی اصول ہے:
جو رویہ آپ بچے میں دیکھنا چاہتے ہیں، پہلے اسے اپنے اندر پیدا کریں۔
8۔ ہر کام میں ضرورت سے زیادہ کنٹرول کرنا
والدین کا مقصد بچے کو ہمیشہ اپنے کنٹرول میں رکھنا نہیں بلکہ اسے آہستہ آہستہ خود ذمہ دار بنانا ہے۔
اگر والدین بچے کے کپڑے، کتابیں، دوست، پڑھائی، وقت اور ہر چھوٹے فیصلے کا خود فیصلہ کرتے رہیں تو بچے میں خود فیصلہ کرنے کی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے۔
عمر اور صلاحیت کے مطابق بچوں کو چھوٹے فیصلے کرنے کے مواقع دیں۔
مثلاً:
"تم اپنا ہوم ورک پہلے کرو گے یا کھانے کے بعد؟”
اختیار محدود ہو، مگر فیصلہ کرنے کی مشق بچے کو ضرور ملے۔
9۔ بچے کی شخصیت پر لیبل لگا دینا
"یہ تو سست ہے۔”
"یہ ضدی ہے۔”
"یہ شرارتی ہے۔”
"یہ بہت کمزور ہے۔”
ایسے الفاظ بار بار سننے سے بچہ اپنی شناخت انہی الفاظ کے مطابق بنانا شروع کر سکتا ہے۔
اس کے بجائے رویے کو بیان کریں، شخصیت کو نہیں۔
یہ کہنے کے بجائے:
"تم بہت سست ہو۔”
کہیں:
"آج تم نے اپنا کام شروع کرنے میں کافی دیر کی۔ آؤ اگلی بار اس کا بہتر طریقہ بناتے ہیں۔”
یہ معمولی فرق بچے کے اعتماد اور شخصیت پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے۔
10۔ تربیت میں مستقل مزاجی نہ ہونا
یہ تربیت کے دوران والدین کی 10 غلطیوں میں شاید سب سے زیادہ نظر انداز ہونے والی غلطی ہے۔
کبھی والدین کسی کام کو بہت غلط سمجھتے ہیں اور کبھی اسی کام کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کبھی موبائل کے لیے سخت اصول ہوتا ہے اور کبھی کوئی اصول نہیں ہوتا۔
اس طرح بچے کے لیے حدود واضح نہیں رہتیں۔
بچوں کو واضح، قابلِ فہم اور مستقل اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
مثلاً اگر طے ہے کہ رات کو سونے سے ایک گھنٹہ پہلے موبائل استعمال نہیں ہوگا تو والدین کو بھی اس اصول پر مستقل مزاجی سے عمل کرنا چاہیے۔
مثبت پیرنٹنگ مائنڈ سیٹ کیوں ضروری ہے؟
بچوں کی تربیت صرف چند تکنیکیں سیکھنے کا نام نہیں۔ والدین کا مائنڈ سیٹ، رویہ اور بچے کو دیکھنے کا انداز بھی انتہائی اہم ہے۔
اگر والدین بچے کو صرف "اپنی بات منوانے والا فرد” سمجھیں گے تو تربیت زیادہ تر کنٹرول بن جائے گی۔ لیکن اگر وہ بچے کو ایک ایسی شخصیت سمجھیں جو سیکھ رہی ہے، بڑھ رہی ہے اور اپنی شناخت بنا رہی ہے تو تربیت کا انداز بھی بدل جائے گا۔
اسی لیے مثبت پیرنٹنگ مائنڈ سیٹ کو سمجھنا والدین کے لیے بہت اہم ہے۔
مثبت پیرنٹنگ کا مطلب بچوں کو ہر بات کی اجازت دینا نہیں، بلکہ محبت، حدود، احترام، ذمہ داری اور رہنمائی کے درمیان متوازن تعلق قائم کرنا ہے۔
بچوں کی تربیت میں ایک اہم اصول
یاد رکھیں کہ بچے کو تبدیل کرنے سے پہلے اپنے تربیتی انداز کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
اگر بچہ بات نہیں سنتا تو صرف یہ سوال نہ کریں:
"میرا بچہ میری بات کیوں نہیں مانتا؟”
بلکہ یہ بھی پوچھیں:
"میں اس سے کس انداز میں بات کر رہا ہوں؟”
اگر بچہ غصہ کرتا ہے تو یہ بھی دیکھیں:
"کیا وہ میرے اندر غصے کا یہی انداز دیکھ رہا ہے؟”
اگر بچہ موبائل کا عادی ہو رہا ہے تو سوال کریں:
"ہمارے گھر میں اسکرین کے استعمال کے کیا اصول ہیں اور کیا ہم خود ان پر عمل کرتے ہیں؟”
یہ سوالات والدین کو الزام سے نکال کر تربیتی ذمہ داری اور عملی تبدیلی کی طرف لے جاتے ہیں۔
خلاصہ
تربیت کے دوران والدین کی 10 غلطیاں صرف بچوں کے رویے کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ والدین اور بچوں کے درمیان تعلق کو بھی کمزور کر سکتی ہیں۔ ان میں ہر غلطی پر ڈانٹنا، موازنہ کرنا، صرف نتائج پر توجہ دینا، بچے کی بات نہ سننا، غصے میں تربیت کرنا، ہر مسئلے کے لیے سزا استعمال کرنا، خود مثال نہ بننا، ضرورت سے زیادہ کنٹرول کرنا، شخصیت پر لیبل لگانا اور تربیت میں مستقل مزاجی نہ رکھنا شامل ہیں۔
اچھی تربیت کا مقصد صرف فرمانبردار بچہ بنانا نہیں بلکہ ایسا انسان تیار کرنا ہے جو اچھا کردار، خود اعتمادی، ذمہ داری، خود نظم و ضبط، مثبت سوچ اور صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
اس سفر میں والدین کو کامل ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہیں صرف یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ اپنی غلطیوں کو پہچانیں، ان سے سیکھیں اور ہر دن اپنے تربیتی انداز کو پہلے سے بہتر بنائیں۔
کیونکہ بچے کی تربیت میں سب سے بڑی تبدیلی اکثر بچے سے نہیں، والدین سے شروع ہوتی ہے۔
ایجوتربیہ پیرنٹنگ، اسلامی تربیت اور ذاتی نشوونما پر مستند مضامین اور عملی رہنمائی
