بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترم پرنسپل صاحب، معزز اساتذہ کرام، قابلِ احترام والدین اور میرے پیارے ساتھیو!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آج میں جس موضوع پر آپ کے سامنے چند الفاظ پیش کرنے جا رہا ہوں، وہ ہماری زندگی کا ایک ایسا موضوع ہے جس کے بغیر انسان کی کامیابی کا تصور ادھورا ہے۔
میری تقریر کا موضوع ہے:
"تعلیم کی اہمیت"
ایک خوبصورت شعر سے اپنی بات شروع کرتا ہوں:
تعلیم سے انسان کو ملتی ہے روشنی
اس کے بغیر زندگی رہتی ہے بے معنی
میرے عزیز ساتھیو!
ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیں…
اگر ہمارے پاس گھر ہو، کپڑے ہوں، کھانا ہو، موبائل ہو، پیسہ ہو، لیکن علم نہ ہو تو کیا ہم ان چیزوں کا صحیح استعمال کر سکیں گے؟
یقیناً نہیں!
تعلیم صرف کتابیں پڑھنے، امتحان پاس کرنے یا اچھی نوکری حاصل کرنے کا نام نہیں۔
تعلیم ہمیں صحیح اور غلط میں فرق کرنا، اچھے فیصلے کرنا، دوسروں کا احترام کرنا اور اپنی زندگی کو بہتر بنانا سکھاتی ہے۔
ذرا میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں:
آپ میں سے کتنے بچے ڈاکٹر، انجینئر، استاد، سائنس دان یا کامیاب کاروباری بننا چاہتے ہیں؟
ذرا ہاتھ کھڑا کیجیے!
ماشاءاللہ! بہت سے ہاتھ نظر آ رہے ہیں۔
لیکن میرے پیارے بچو!
کیا صرف خواہش کرنے سے ہم ڈاکٹر یا انجینئر بن سکتے ہیں؟
نہیں!
اس کے لیے ہمیں پڑھنا ہوگا، محنت کرنا ہوگی، وقت کی قدر کرنا ہوگی اور مسلسل سیکھنا ہوگا۔
یہی ہے تعلیم کی اہمیت!
تعلیم انسان کو صرف روزگار نہیں دیتی بلکہ اسے شعور، اعتماد اور کردار بھی عطا کرتی ہے۔
ایک پڑھا لکھا انسان اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو بہتر سمجھتا ہے۔ وہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے اور اپنے ملک کی ترقی میں حصہ لے سکتا ہے۔
اسلام نے بھی علم کی بہت زیادہ اہمیت بیان کی ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر نازل ہونے والی پہلی وحی میں فرمایا:
"اقْرَأْ"
یعنی:
"پڑھیے!”
غور کیجیے!
اسلام کی پہلی وحی ہی پڑھنے اور علم سے متعلق ہے۔
نبی کریم ﷺ نے بھی علم حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ اس سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی میں علم اور تعلیم کی کتنی اہمیت ہے۔
میرے عزیز دوستو!
آج دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔
سائنس ترقی کر رہی ہے، ٹیکنالوجی آگے بڑھ رہی ہے، مصنوعی ذہانت یعنی Artificial Intelligence دنیا کو تبدیل کر رہی ہے۔
ایسے دور میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دیتی ہیں۔
لیکن یاد رکھیے!
تعلیم کا مقصد صرف ذہین انسان بنانا نہیں، بلکہ اچھا انسان بنانا بھی ہے۔
اگر کوئی شخص بہت پڑھا لکھا ہو، لیکن جھوٹ بولے، دوسروں کو دھوکا دے اور اپنے والدین کا احترام نہ کرے تو اس کی تعلیم ادھوری ہے۔
اصل تعلیم وہ ہے جو ہمارے علم کے ساتھ کردار، اخلاق، تہذیب اور ذمہ داری کو بھی بہتر بنائے۔
اب میں اپنے پیارے ساتھیوں سے ایک اور سوال پوچھنا چاہتا ہوں:
کیا آپ آج سے صرف امتحان کے لیے پڑھیں گے یا اپنی زندگی بدلنے کے لیے؟
مجھے امید ہے کہ آپ کہیں گے:
اپنی زندگی بدلنے کے لیے!
شاباش!
تو آئیے، آج ہم سب ایک چھوٹا سا عہد کریں:
ہم علم حاصل کریں گے۔
اپنے اساتذہ کا احترام کریں گے۔
والدین کی بات سنیں گے۔
وقت ضائع نہیں کریں گے۔
کتابوں کو اپنا دوست بنائیں گے۔
اور اپنی تعلیم کو اپنے کردار اور اپنے معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کریں گے۔
کیونکہ یاد رکھیے:
ایک تعلیم یافتہ بچہ صرف اپنا مستقبل نہیں بناتا، وہ اپنے خاندان، معاشرے اور ملک کا مستقبل بھی بناتا ہے۔
اسی لیے ہمیں تعلیم کی اہمیت کو صرف تقریر کا موضوع نہیں بلکہ اپنی زندگی کا اصول بنانا چاہیے۔
آخر میں ایک شعر کے ساتھ اپنی تقریر ختم کرنا چاہوں گا:
علم کی شمع جو دل میں جلائے رکھنا
اپنے مستقبل کو روشن بنائے رکھنا
پڑھ کے خود بھی ترقی کی راہ پر چلنا
اور وطن کو بھی آگے بڑھائے رکھنا
محترم حاضرین!
آئیے ہم سب مل کر علم کو اپنائیں، تعلیم کو اپنی طاقت بنائیں اور اپنے کردار سے ثابت کریں کہ پاکستان کا مستقبل واقعی روشن ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نافع علم عطا فرمائے، علم پر عمل کرنے کی توفیق دے اور ہمیں اپنے والدین، اساتذہ، معاشرے اور ملک کے لیے فائدہ مند انسان بنائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔
ایجوتربیہ پیرنٹنگ، اسلامی تربیت اور ذاتی نشوونما پر مستند مضامین اور عملی رہنمائی
