علم کی طاقت اور اہمیت

علم کی طاقت اور اہمیت: علم کیسے انسان کو شعور، روشنی اور سمت دیتا ہے؟

قرآۃ العین کامران

انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کرنے والی سب سے بڑی نعمتوں میں علم نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ علم انسان کو صرف معلومات نہیں دیتا بلکہ اسے سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے، صحیح اور غلط میں فرق کرنے اور زندگی کے فیصلے شعور کے ساتھ کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ علم روشنی ہے۔ جس طرح روشنی میں انسان راستہ دیکھ لیتا ہے، اسی طرح علم انسان کو جہالت، گمراہی اور فکری اندھیروں سے نکال کر شعور، بصیرت اور صحیح سمت کی طرف لے جاتا ہے۔

اسلام میں علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید کی پہلی وحی ہی "اقْرَأْ” یعنی "پڑھیے” کے لفظ سے شروع ہوئی:

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ
"پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔”
(العلق: 1)

یہاں علم اور تعلیم کو اللہ کی معرفت اور رب کی پہچان کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

علم کے لغوی اور اصطلاحی معنی کیا ہیں؟

علم عربی زبان کا لفظ ہے جس کے بنیادی معنی کسی چیز کو جاننے، پہچاننے اور اس کی حقیقت سے واقف ہونے کے ہیں۔ اس کے مقابلے میں جہالت لاعلمی اور عدمِ معرفت کو کہا جاتا ہے۔

اصطلاحی اعتبار سے علم کسی حقیقت کا درست ادراک اور اس کے بارے میں قابلِ اعتماد فہم حاصل کرنے کا نام ہے۔ تاہم اسلام میں علم محض معلومات جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ ایسا شعور ہے جو انسان کے عقیدہ، کردار، فیصلوں اور عمل کو بہتر بنائے۔

اسی لیے ایک شخص کے پاس بہت سی معلومات ہوسکتی ہیں، مگر ضروری نہیں کہ وہ حقیقی معنوں میں صاحبِ علم بھی ہو۔ اصل سوال یہ ہے کہ جو کچھ انسان جانتا ہے، کیا وہ اسے صحیح زندگی گزارنے میں مدد دے رہا ہے؟

علم اور تعلیم میں کیا فرق ہے؟

تعلیم علم حاصل کرنے اور منتقل کرنے کا عمل ہے، جبکہ علم اس عمل کے نتیجے میں حاصل ہونے والی معرفت اور سمجھ ہے۔

مثلاً ایک طالب علم کتاب پڑھتا ہے، استاد سے سیکھتا ہے، تحقیق کرتا ہے اور تجربہ حاصل کرتا ہے؛ یہ حصولِ تعلیم کا عمل ہے۔ جب وہ کسی حقیقت کو سمجھ لیتا ہے اور اسے درست طور پر استعمال کرنے کے قابل ہوجاتا ہے تو یہ علم کی عملی صورت ہے۔

اس لیے اچھی تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ شعور، کردار، مہارت اور ذمہ داری پیدا کرنا بھی ہونا چاہیے۔

قرآن میں علم کی اہمیت

قرآن مجید علم کی قدر و منزلت کو مختلف انداز سے واضح کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
"کہہ دیجیے: کیا علم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہوسکتے ہیں؟”
(الزمر: 9)

یہ سوال دراصل علم کی عظمت واضح کرتا ہے کہ علم انسان کے مقام، سوچ اور عمل میں بنیادی فرق پیدا کرتا ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ
"اللہ تم میں سے ایمان والوں اور جنہیں علم دیا گیا ہے ان کے درجات بلند فرماتا ہے۔”
(المجادلہ: 11)

گویا ایمان کے ساتھ علم انسان کی روحانی اور اخلاقی بلندی کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔

علم انسان کو شعور کیسے دیتا ہے؟

شعور صرف یہ جاننے کا نام نہیں کہ کوئی چیز کیا ہے، بلکہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ وہ کیوں ہے، اس کا نتیجہ کیا ہوگا اور مجھے اس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟

مثلاً ایک شخص غصے کو محسوس کرتا ہے۔ یہ ایک تجربہ ہے۔ لیکن علم اسے یہ سمجھاتا ہے کہ غصہ کیوں پیدا ہوتا ہے، اس کے نقصانات کیا ہیں اور اسے کس طرح قابو کیا جاسکتا ہے۔

اسی طرح ایک طالب علم صرف یہ جان سکتا ہے کہ تعلیم ضروری ہے، لیکن علم و شعور اسے یہ سمجھاتا ہے کہ مجھے کیا سیکھنا ہے، کیوں سیکھنا ہے اور اپنے علم کو کہاں استعمال کرنا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ علم انسان کو محض معلومات رکھنے والا نہیں بلکہ باشعور انسان بناتا ہے۔

علم روشنی کیوں ہے؟

جہالت کو اندھیرے سے تشبیہ دینا صرف ایک خوبصورت مثال نہیں بلکہ انسانی زندگی کی ایک حقیقت کو واضح کرتا ہے۔

اندھیرے میں انسان کے سامنے راستہ موجود ہوتا ہے، لیکن وہ اسے دیکھ نہیں پاتا۔ اسی طرح جہالت میں صحیح راستہ موجود ہوسکتا ہے، مگر انسان اسے پہچان نہیں پاتا۔

علم اسے دکھاتا ہے:

کیا درست ہے؟
کیا غلط ہے؟
کیا فائدہ مند ہے؟
کیا نقصان دہ ہے؟
کیا مقصد ہے؟
اور کس سمت آگے بڑھنا ہے؟

اسی لیے علم روشنی ہے اور علمِ نافع انسان کے لیے چراغِ راہ بن جاتا ہے۔

علم کی طاقت کیا ہے؟

دنیا میں طاقت کی کئی شکلیں ہیں: دولت، عہدہ، جسمانی قوت، ٹیکنالوجی اور سیاسی اختیار۔ لیکن علم ایسی طاقت ہے جو انسان کو باقی طاقتوں کو سمجھنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔

ایک صاحبِ علم انسان مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے، نئے حل تلاش کرسکتا ہے، ٹیکنالوجی تخلیق کرسکتا ہے، کاروبار قائم کرسکتا ہے اور معاشرے کی ترقی میں کردار ادا کرسکتا ہے۔

اسی لیے علم فرد کی طاقت بھی ہے اور قوم کی طاقت بھی۔

جو قوم علم، تحقیق، تعلیم اور ہنر میں آگے بڑھتی ہے، وہ اپنے وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنے اور نئے مسائل کا حل تلاش کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے۔

علمِ دین حاصل کرنے کا مقصد کیا ہے؟

اسلام میں علمِ دین حاصل کرنے کا مقصد صرف معلومات یا مذہبی اصطلاحات یاد کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو پہچاننا، صحیح عقیدہ سمجھنا، عبادات درست کرنا، حلال و حرام میں فرق کرنا اور اپنے کردار کو شریعت کے مطابق بہتر بنانا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"من يرد الله به خيراً يفقهه في الدين”

"اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔”

(صحیح بخاری، 71؛ صحیح مسلم، 1037)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی سمجھ اور فقہ اللہ کی طرف سے خیر کی علامتوں میں سے ہے۔

علمِ نافع کیا ہے؟

اسلام ہمیں صرف علم حاصل کرنے نہیں بلکہ علمِ نافع حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

علمِ نافع وہ علم ہے جو انسان کی زندگی میں حقیقی فائدہ پیدا کرے، اسے اللہ کے قریب کرے، اس کے کردار کو بہتر بنائے یا مخلوق کے لیے مفید ثابت ہو۔

اس میں دینی علم بنیادی حیثیت رکھتا ہے، لیکن انسانی زندگی کے مفید دنیاوی علوم بھی معاشرے کے لیے اہم ہیں۔ طب، انجینئرنگ، سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم، زراعت، معیشت اور دیگر مفید شعبے انسانی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے انتقال کے بعد جن چیزوں کا ثواب جاری رہتا ہے ان میں "علم ينتفع به” یعنی ایسا علم بھی شامل ہے جس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں مروی ہے۔

حصولِ علم کی فضیلت

رسول اللہ ﷺ نے علم حاصل کرنے کی کوشش کو بہت بڑی فضیلت قرار دیا:

"جو شخص علم کی تلاش میں کوئی راستہ اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔”

یہ مفہوم صحیح مسلم کی معروف حدیث میں وارد ہوا ہے۔

اس لیے حصولِ علم صرف دنیاوی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مسلمان کے لیے نیت درست ہونے کی صورت میں عبادت اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

اسلافِ کرام علم کو اتنی اہمیت کیوں دیتے تھے؟

اسلامی تاریخ میں صحابہ کرامؓ، تابعین اور بعد کے علماء نے علم کے حصول کو غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک علم صرف کتابیں پڑھنے کا نام نہیں تھا بلکہ علم، عمل، اخلاص اور کردار ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔

ایک عالم کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ کتنا بول سکتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کا علم اس کے کردار اور عمل میں کس حد تک ظاہر ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی علمی روایت میں استاد، کتاب، مطالعہ، تحقیق، سوال، گفتگو، سفر اور عملی تربیت سب کو اہم سمجھا گیا۔

علم اور عمل کا تعلق

اگر علم انسان کے عمل کو تبدیل نہ کرے تو اس علم کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔

آپ کو معلوم ہے کہ صحت کے لیے ورزش ضروری ہے، لیکن اگر آپ ورزش نہیں کرتے تو صرف معلومات آپ کی صحت نہیں بدلیں گی۔

اسی طرح نماز کی اہمیت جاننا ایک بات ہے اور نماز کی پابندی کرنا دوسری بات۔

اس لیے علم کا بہترین نتیجہ عمل ہے۔

علم → شعور → صحیح فیصلہ → درست عمل → بہتر کردار

یہی علم کی حقیقی طاقت ہے۔

آج کے دور میں علم کیوں ضروری ہے؟

آج معلومات کی کمی نہیں بلکہ صحیح علم اور درست فہم کی ضرورت زیادہ ہے۔ سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ نے معلومات تک رسائی آسان کردی ہے، لیکن ہر معلومات درست نہیں ہوتی۔

اس لیے آج انسان کو صرف یہ نہیں سیکھنا کہ کیا جاننا ہے بلکہ یہ بھی سیکھنا ہے کہ:

  • معلومات کا ذریعہ قابلِ اعتماد ہے یا نہیں؟
  • خبر حقیقت ہے یا افواہ؟
  • دلیل مضبوط ہے یا کمزور؟
  • میری رائے حقیقت پر مبنی ہے یا صرف جذبات پر؟
  • اس علم کو استعمال کرنے کا درست طریقہ کیا ہے؟

یہی تنقیدی سوچ، تحقیق اور شعوری فیصلہ سازی جدید دور میں علم کی اہم شکلیں ہیں۔

علم حاصل کرنا کیوں ضروری ہے؟

علم اس لیے ضروری ہے کیونکہ انسان کو زندگی کے ہر مرحلے پر فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔

والدین کو بچوں کی تربیت کے لیے علم چاہیے۔

استاد کو مؤثر تعلیم کے لیے علم چاہیے۔

کاروباری شخص کو مارکیٹ اور معیشت کی سمجھ چاہیے۔

ڈاکٹر کو انسانی جسم اور بیماریوں کا علم چاہیے۔

اور مسلمان کو اپنے رب، دین، عبادات، معاملات اور اخلاق کا علم چاہیے۔

یعنی علم کی دنیا زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرتی ہے۔

علم کی طاقت کو اپنی زندگی میں کیسے استعمال کریں؟

علم کو حقیقی طاقت بنانے کے لیے پانچ اصول اپنائیں:

1۔ نیت درست کریں: علم صرف دکھاوے یا مقابلے کے لیے نہیں، فائدے اور اصلاح کے لیے حاصل کریں۔

2۔ بنیادی دینی علم حاصل کریں: اپنے عقائد، عبادات، اخلاق اور معاملات کی ضروری معلومات حاصل کریں۔

3۔ اپنے شعبے میں ماہر بنیں: جس کام کو آپ پیشہ بنانا چاہتے ہیں، اس میں مسلسل سیکھتے رہیں۔

4۔ علم پر عمل کریں: جو سیکھیں اسے اپنی زندگی میں نافذ کریں۔

5۔ علم دوسروں تک پہنچائیں: اپنے علم کو شیئر کریں، سکھائیں اور ایسا کام چھوڑیں جس سے آپ کے بعد بھی لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں۔

نتیجہ: علم صرف روشنی نہیں، سمت بھی ہے

علم کی اہمیت اس لیے نہیں کہ وہ ہمیں بہت سی معلومات دے دیتا ہے، بلکہ اس لیے ہے کہ وہ ہمیں سوچنے، سمجھنے، فیصلہ کرنے اور عمل کرنے کے قابل بناتا ہے۔

صحیح علم انسان کو جہالت کے اندھیرے سے نکالتا، شعور کی روشنی دیتا اور زندگی کی سمت متعین کرتا ہے۔

لیکن سب سے قیمتی علم وہ ہے جو انسان کو صرف زیادہ جاننے والا نہیں بلکہ بہتر انسان بنائے۔

اسی لیے علم حاصل کیجیے، مگر علمِ نافع حاصل کیجیے؛ سیکھئے، مگر عمل کے لیے سیکھئے؛ اور اپنے علم کو صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھیں۔

کیونکہ ایک کتاب سے روشن ہونے والا ذہن ایک انسان کو بدل سکتا ہے، اور ایک انسان کے ذریعے روشن ہونے والا علم پوری نسلوں کو بدل سکتا ہے۔

تعلیم کے بارے میں تفصیل سے جانیے اس آرٹیکل میں۔

About Muhammad Younus

Check Also

ذہنی اور جذباتی صحت

ذہنی اور جذباتی صحت کو کیسے بہتر بنائیں؟ مکمل گائیڈ

انسان کی کامیاب اور خوش گوار زندگی کے لیے جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے