Tarbiyat kya hy

تربیت کیا ہے اور کیا نہیں؟ بچوں کی تربیت کا درست مفہوم

ڈاکٹرمحمدیونس خالد

اگر آپ کسی بچے سے کہیں کہ "جھوٹ نہیں بولنا”، "نماز پڑھنی ہے”، "بڑوں کا احترام کرنا ہے” اور وہ آپ کی موجودگی میں یہ سب کرنے لگے، تو کیا اس کا مطلب ہے کہ اس کی تربیت ہوگئی؟

ضروری نہیں!

اصل سوال یہ ہے کہ آپ کی نگرانی نہ ہو تو وہ کیا کرے گا؟ اگر بچہ صرف والدین کے ڈر، سزا یا نگرانی کی وجہ سے اچھا رویہ اختیار کرتا ہے تو ابھی اصل تبدیلی اس کی شخصیت کا حصہ نہیں بنی۔

اسی لیے والدین کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تربیت کیا ہے، اور کن چیزوں کو ہم عموماً تربیت سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ تربیت کا مکمل متبادل نہیں ہوتیں۔

تربیت کا مطلب کیا ہے؟

تربیت صرف کسی بچے کو کچھ باتیں سکھانے، احکام یاد کروانے یا اچھے برے کاموں کی فہرست دینے کا نام نہیں۔ تربیت دراصل بچے کی سوچ، رجحانات، جذبات، عادات، کردار اور رویوں کی ایسی تدریجی نشوونما ہے جس سے وہ صحیح فیصلے کرنے اور ذمہ داری کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل ہو۔

سادہ الفاظ میں:

تربیت کا مقصد صرف یہ نہیں کہ بچہ اچھا کام کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اچھا کام صحیح وجہ، صحیح نیت اور اندرونی آمادگی کے ساتھ کرنا سیکھے۔

مثلاً اگر بچہ مہمان کے آنے پر سلام کرتا ہے کیونکہ والدین اسے ہر بار یاد دلاتے ہیں تو یہ ایک اچھی عادت کی ابتدا ہے۔ لیکن جب وہ خود سے سلام کرنے، احترام کرنے اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنے لگے تو یہ کردار سازی کی طرف قدم ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بچوں کی تربیت میں صرف معلومات نہیں بلکہ تعلق، ماحول، مثال اور مسلسل عمل بھی اہم ہوتے ہیں۔

تربیت صرف تعلیم کا نام نہیں

تعلیم اور تربیت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، لیکن دونوں ایک چیز نہیں۔

تعلیم بچے کو یہ بتا سکتی ہے کہ سچ بولنا اچھی بات ہے۔

تربیت بچے کو مشکل صورتحال میں بھی سچ بولنے کا حوصلہ اور عادت دے سکتی ہے۔

تعلیم اسے بتاتی ہے کہ غصہ ایک جذباتی کیفیت ہے۔

تربیت اسے غصے کے وقت اپنے الفاظ اور ردعمل کو سنبھالنا سکھاتی ہے۔

اسی لیے ایک بچہ بہت کچھ جاننے کے باوجود اپنے رویے میں اس علم کا اظہار نہ کرے تو ہمیں صرف مزید معلومات دینے کے بجائے اس کے ماحول، عادات، تعلق اور عملی رویوں پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

تربیت کیا نہیں ہے؟

1۔ ہر وقت نگرانی کرنا تربیت نہیں

کچھ والدین سمجھتے ہیں کہ بچے کی تربیت کا مطلب ہے اس کی ہر حرکت پر نظر رکھنا۔

"فون مت دیکھو۔”

"یہ مت کرو۔”

"وہاں مت جاؤ۔”

"میں دیکھ رہا ہوں تم کیا کر رہے ہو۔”

نگرانی بعض حالات میں ضروری ہوسکتی ہے، خاص طور پر چھوٹے بچوں کے لیے، لیکن مسلسل کنٹرول خود تربیت نہیں ہے۔

اگر بچہ صرف اس وقت اچھا رویہ اختیار کرتا ہے جب والدین اسے دیکھ رہے ہوں تو مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا۔ مقصد یہ ہے کہ آہستہ آہستہ اس کے اندر خود احتسابی اور ذمہ داری پیدا ہو۔

2۔ ڈانٹ اور سزا تربیت کا مکمل متبادل نہیں

ایک بچہ ہوم ورک نہیں کرتا۔ والد غصے میں آکر ڈانٹتے ہیں اور کہتے ہیں:

"اگر آج کام مکمل نہ کیا تو موبائل چھین لوں گا!”

بچہ خوف سے کام مکمل کر دیتا ہے۔

لیکن کیا اس نے محنت کی قدر سیکھ لی؟ ضروری نہیں۔

ممکن ہے اس نے صرف یہ سیکھا ہو کہ سزا سے بچنے کے لیے کام کرنا ہے۔

اصلاح اور حدود ضروری ہوسکتی ہیں، لیکن مؤثر تربیت میں بچے کو یہ سمجھنے میں بھی مدد دی جاتی ہے کہ مطلوبہ رویہ کیوں اہم ہے۔

3۔ لالچ دے کر اچھا کام کروانا مکمل تربیت نہیں

"اگر تم نماز پڑھو گے تو تمہیں پیسے ملیں گے۔”

"اگر تم نے کمرہ صاف کیا تو چاکلیٹ ملے گی۔”

مناسب مواقع پر reward یا reinforcement مفید ہوسکتا ہے، لیکن اگر ہر اچھے کام کے پیچھے صرف انعام ہو تو بچہ یہ سیکھ سکتا ہے کہ اچھا کام اپنی قدر کی وجہ سے نہیں بلکہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

تربیت کا اگلا مرحلہ یہ ہے کہ بچے کے اندر اچھائی کی قدر اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔

4۔ صرف رٹوانا تربیت نہیں

بچے کو یہ جملہ یاد ہے:

"جھوٹ بولنا بری بات ہے۔”

لیکن جب اسے اپنی غلطی چھپانے کا موقع ملتا ہے تو وہ جھوٹ بول دیتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ یاد کرنا بے فائدہ ہے۔ علم اور یادداشت ضروری ہیں، لیکن علم کا کردار اور عمل میں منتقل ہونا بھی ضروری ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں تربیت، تعلیم سے آگے بڑھ کر شخصیت سازی بنتی ہے۔

پھر حقیقی تربیت کیسے ہوتی ہے؟

اچھی تربیت عموماً تین چیزوں سے مضبوط ہوتی ہے:

تعلق + مثال + مسلسل مشق

بچہ وہ بات زیادہ گہرائی سے سیکھتا ہے جو وہ اپنے قریب کے لوگوں میں دیکھتا ہے۔

اگر والد بچے سے غصے میں چیخ کر کہیں:

"غصہ نہیں کرنا!”

تو پیغام کمزور ہوجاتا ہے۔

لیکن اگر والد خود اختلاف کے وقت پرسکون رہنے، معذرت کرنے اور گفتگو سے مسئلہ حل کرنے کی مثال قائم کریں تو بچہ ایک عملی سبق دیکھتا ہے۔

اسی لیے مثبت تربیت میں والدین کا اپنا رویہ بھی تربیت کا حصہ بن جاتا ہے۔

بچے کو صرف یہ نہ بتائیں کہ "دوسروں کا احترام کرو”، بلکہ گھر میں اس سے احترام سے بات بھی کریں۔

صرف یہ نہ کہیں کہ "سچ بولو”، بلکہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کی مثال بھی دکھائیں۔

صرف یہ نہ کہیں کہ "نماز کی پابندی کرو”، بلکہ نماز کو اپنی زندگی میں اہمیت دیتے ہوئے بچہ خود بھی یہ تعلق دیکھے۔

اسلامی تربیت میں اصل مقصد کیا ہے؟

اسلامی تربیت کا مقصد صرف بچے کو کچھ مذہبی معلومات یاد کروانا نہیں بلکہ اس کے اندر اللہ سے تعلق، درست نیت، ذمہ داری، اچھا کردار اور عمل کی رغبت پیدا کرنا بھی ہے۔

قرآن و سنت کی روشنی میں اولاد کی تربیت میں والدین کی اپنی عملی مثال، محبت، حکمت، رہنمائی اور مناسب حدود اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اگر آپ اسلامی تربیت کے وسیع تصور، اس کے مقاصد اور قرآن و سنت سے اس کی بنیاد کو تفصیل سے سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمارا تفصیلی مضمون بچوں کی تربیت قرآن و سنت کی روشنی میں ضرور پڑھیں۔

اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ اسلامی تربیت ہمارے بچوں اور خاندان کے لیے کیوں ضروری ہے؟ اس موضوع پر ہمارا مضمون اسلامی تربیت ضروری کیوں؟ آپ کو اس کے مقصد اور اہمیت کو مزید سمجھنے میں مدد دے گا۔

ایک آسان اصول یاد رکھیں

اگلی بار جب آپ اپنے بچے کے کسی رویے کو درست کرنے کی کوشش کریں تو صرف یہ سوال نہ کریں:

"میں اسے کیسے روکوں؟”

بلکہ یہ سوال کریں:میں اس کے اندر کون سی سوچ، قدر، عادت یا کردار پیدا کرنا چاہتا ہوں؟

یہ معمولی سا سوال والدین کے اندازِ تربیت کو بدل سکتا ہے۔

کیونکہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ بچہ آپ کے سامنے اچھا بن جائے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ آہستہ آہستہ آپ کی غیر موجودگی میں بھی صحیح انتخاب کرنے کے قابل ہوجائے۔

اور یہی تربیت کا بنیادی مقصد ہے:
بچے کو صرف قابو میں رکھنا نہیں، بلکہ اسے اندر سے مضبوط، ذمہ دار اور اچھے کردار کا انسان بننے میں مدد دینا۔

About Muhammad Younus

Check Also

love with discipline

محبت اور ڈسپلن تربیت کی دو بنیادیں: والدین کیلئے عملی رہنمائی

بچوں کی اچھی تربیت کسی ایک چیز سے مکمل نہیں ہوتی۔ نہ صرف محبت کافی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے