ڈاکٹرمحمدیونس خالد
بچے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور والدین کے لیے ایک اہم ذمہ داری ہیں۔ ہر والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے تعلیم یافتہ، کامیاب، بااخلاق، ذمہ دار اور معاشرے کے لیے مفید انسان بنیں۔ لیکن صرف اچھی تعلیم، مہنگا اسکول، جدید سہولیات اور دنیاوی کامیابی اس مقصد کے لیے کافی نہیں۔
بچے کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو پہچانے، صحیح اور غلط میں فرق کرے، اپنے نفس کو قابو میں رکھے، والدین کا احترام کرے، دوسروں کے حقوق ادا کرے اور اپنی زندگی کو ایک واضح مقصد کے ساتھ گزارے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی تربیت کی ضرورت سامنے آتی ہے۔
اسلامی تربیت ضروری کیوں؟
اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ بچے کو کچھ دینی معلومات یاد کرائی جائیں، بلکہ اسلامی تربیت دراصل بچے کی شخصیت، سوچ، کردار، عادات اور رویے کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق پروان چڑھانے کا عمل ہے۔
اسلامی تربیت بچے کو صرف یہ نہیں بتاتی کہ کیا پڑھنا ہے، بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ کیسے جینا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا
"اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔”
(سورۃ التحریم: 6)
اس آیت میں اپنے گھر والوں کی اصلاح اور حفاظت کی ذمہ داری کی طرف واضح توجہ دلائی گئی ہے۔ اس لیے اولاد کی تربیت محض ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ والدین کی دینی ذمہ داری بھی ہے۔
تربیت صرف نصیحت کرنے کا نام نہیں
بعض والدین کے نزدیک تربیت کا مطلب بچوں کو بار بار نصیحت کرنا، ڈانٹنا، غلطی پر سزا دینا یا انہیں مختلف احکام دیتے رہنا ہے۔ حقیقت میں تربیت اس سے کہیں وسیع عمل ہے۔
تربیت میں کیا کیا شامل ہے:
- بچے کی سوچ کی تعمیر
- صحیح اور غلط کی پہچان
- اچھی عادات پیدا کرنا
- اخلاق و کردار کی تشکیل
- خود احتسابی پیدا کرنا
- اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنا
- ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا
- جذبات پر قابو پانا
- دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا
- عملی زندگی کے لیے تیار کرنا
اسی لیے اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ تربیت حقیقت میں کیا ہے اور کیا نہیں ہے تو اس موضوع کی تفصیلی وضاحت کے لیے مضمون "تربیت کیا ہے کیا نہیں ہے" بھی ضرور پڑھیں۔
اسلامی تربیت اور عام پرورش میں کیا فرق ہے؟
بچے کی پرورش اور بچے کی تربیت بظاہر ایک ہی چیز محسوس ہوتی ہیں، لیکن دونوں میں اہم فرق ہے۔
پرورش میں بچے کی جسمانی ضروریات پوری کرنا، اسے کھانا، لباس، تعلیم، رہائش اور دیگر سہولیات فراہم کرنا شامل ہے۔
جبکہ تربیت کا مقصد اس کے اندر ایسی شخصیت پیدا کرنا ہے جو ان سہولیات کو صحیح مقصد کے لیے استعمال کر سکے۔
مثلاً بچے کو موبائل فون دے دینا پرورش کا ایک حصہ ہوسکتا ہے، لیکن اسے موبائل کے درست اور غلط استعمال کی سمجھ دینا ڈیجیٹل تربیت ہے۔
اسی طرح بچے کو اسکول بھیجنا تعلیم کا حصہ ہے، لیکن اسے علم کا مقصد، استاد کا احترام، سچائی، ذمہ داری اور علم پر عمل سکھانا تربیت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تعلیم اور تربیت دونوں ایک دوسرے کے تکمیلی عمل ہیں۔
قرآن و سنت میں اولاد کی تربیت کی اہمیت
اسلام نے والدین کو اولاد کے معاملے میں بے فکر نہیں چھوڑا۔ قرآن مجید میں حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو کی جانے والی نصیحتیں تربیتِ اولاد کا ایک خوبصورت نمونہ پیش کرتی ہیں۔
انہوں نے اپنے بیٹے کو سب سے پہلے توحید کی تعلیم دی:
يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ
"اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا۔”
(سورۃ لقمان: 13)
اس کے بعد نماز، نیکی کا حکم، برائی سے روکنے، صبر، عاجزی اور اچھے اخلاق کی تعلیم دی گئی۔
یہ ترتیب ہمیں بتاتی ہے کہ اسلامی تربیت صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ عقیدہ، عبادت، اخلاق، کردار، معاملات اور معاشرت سب کو شامل کرتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
"تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اس حدیث کی روشنی میں والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ ان کی صحیح رہنمائی اور تربیت بھی ہے۔
بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار
بچے وہی نہیں سیکھتے جو والدین انہیں کہتے ہیں، بلکہ وہ بہت کچھ وہ سیکھتے ہیں جو وہ والدین کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
اگر والدین بچے کو سچ بولنے کی نصیحت کریں لیکن خود جھوٹ بولیں تو بچے کے لیے عملی نمونہ نصیحت سے زیادہ طاقتور ہوگا۔
اگر والدین نماز کی اہمیت بیان کریں لیکن خود نماز کے معاملے میں غفلت کریں تو بچے پر مطلوبہ اثر پیدا ہونا مشکل ہوگا۔
اس لیے اسلامی تربیت کا آغاز بچے سے پہلے والدین کی اپنی اصلاح سے ہوتا ہے۔
والدین کے کردار اور ذمہ داری پر مزید رہنمائی کے لیے مضمون "تربیت اولاد اور والدین کی ذمہ داری" اور "بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار" اس موضوع کو مزید واضح کرتے ہیں۔
اسلامی تربیت صرف مذہبی معلومات کا نام نہیں
ایک بچہ بہت سی سورتیں، احادیث اور دعائیں یاد کر سکتا ہے، لیکن اگر وہ جھوٹ بولتا ہے، بدتمیزی کرتا ہے، دوسروں کے حقوق پامال کرتا ہے یا غصے پر قابو نہیں رکھتا تو صرف معلومات اس کی مکمل تربیت کی علامت نہیں۔
اسلامی تربیت کا اصل مقصد علم کو عمل اور عمل کو کردار میں تبدیل کرنا ہے۔
مثلاً:
علم → سچ بولنا
علم → نماز کی پابندی
علم → والدین کا احترام
علم → امانت داری
علم → دوسروں کے حقوق کا خیال
علم → غصے پر قابو
علم → اللہ تعالیٰ کی جواب دہی کا احساس
یہی دینی تربیت کی عملی روح ہے۔
تربیت اور تزکیۂ نفس کا تعلق
انسان کے اندر خواہشات، جذبات، غصہ، حسد، خود پسندی اور دوسری نفسی کمزوریاں ہوسکتی ہیں۔ اسلام انسان کو صرف ظاہری اعمال کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ اس کے باطن کی اصلاح بھی چاہتا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا
"یقیناً کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، اور نامراد ہوا جس نے اسے آلودہ کیا۔”
(سورۃ الشمس: 9-10)
اسی لیے اسلامی تربیت اور تزکیۂ نفس ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
بچے کو صرف یہ بتانا کہ غصہ بری چیز ہے کافی نہیں؛ اسے غصے کو سنبھالنے، رکنے، سوچنے اور مناسب ردعمل دینے کی مشق بھی کرانی ہوگی۔
روحانی نشوونما اور تزکیۂ نفس کے موضوع پر مزید تفصیل کے لیے "روحانی ترقی اور تزکیہ نفس" ایک مفید متعلقہ مضمون ہے۔
تربیت کی اہمیت بچے کے مستقبل پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟
بچپن میں بننے والی عادات، سوچ اور رویے انسان کی شخصیت پر طویل اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔
ایک ایسا بچہ جسے چھوٹی عمر سے:
- سچ بولنے کی عادت ہو
- وقت کی قدر کا شعور ہو
- نماز کی پابندی کی تربیت ملی ہو
- ذمہ داری اٹھانے کی مشق ہو
- دوسروں کا احترام کرنا آتا ہو
- اپنی خواہشات کو کنٹرول کرنا آتا ہو
- غلطی تسلیم کرنے کی ہمت ہو
وہ مستقبل میں زندگی کے مختلف چیلنجز کا سامنا زیادہ ذمہ داری کے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔
اسی لیے تربیت کی اہمیت کو صرف موجودہ رویوں کی اصلاح تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ دراصل بچے کے مستقبل کے کردار اور شخصیت کی تعمیر کا عمل ہے۔
اولاد کی تعلیم و تربیت دینی فریضہ کیوں ہے؟
والدین عام طور پر بچوں کی دنیاوی تعلیم کے بارے میں بہت فکر مند ہوتے ہیں۔ وہ اسکول، ٹیوشن، امتحانات، نتائج اور مستقبل کے کیریئر پر توجہ دیتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن بچے کی دینی و اخلاقی تربیت کو نظر انداز کرنا ایک بڑا خلا پیدا کرسکتا ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے اولاد کی تعلیم و تربیت میں دین، اخلاق، کردار اور ذمہ داری کی تعلیم بھی شامل ہے۔
بچے کو قرآن پڑھانا، نماز سکھانا، حلال و حرام کی بنیادی سمجھ دینا، اچھے اخلاق کی تربیت کرنا اور اللہ تعالیٰ کی جواب دہی کا احساس پیدا کرنا والدین کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
اس موضوع پر مزید تفصیلی بحث کے لیے "اولاد کی تعلیم و تربیت قرآن وسنت کی روشنی میں" کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔
اسلامی تربیت کب شروع ہونی چاہیے؟
اسلامی تربیت کے لیے کسی خاص عمر کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
تربیت دراصل بچے کی پیدائش سے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ ابتدا میں بچہ والدین کے رویوں سے سیکھتا ہے، پھر زبان، عادات، ماحول اور مشاہدے کے ذریعے سیکھتا ہے، اور عمر بڑھنے کے ساتھ اسے شعوری تعلیم، گفتگو، مثالوں، کہانیوں اور عملی ذمہ داریوں کے ذریعے تربیت دی جاتی ہے۔
اس لیے تربیت کا ایک بنیادی اصول ہے:
عمر کے مطابق تربیت، نہ کہ صرف حکم کے ذریعے تربیت۔
چھوٹے بچے کو کھیل اور مثال کے ذریعے سمجھایا جاسکتا ہے، جبکہ بڑے بچے کے ساتھ دلیل، گفتگو، مشاورت اور ذمہ داری کے ذریعے کام کرنا زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔
اسلامی تربیت کے چند بنیادی اصول
ایک مؤثر اسلامی تربیتی نظام کے لیے والدین درج ذیل اصولوں کو سامنے رکھ سکتے ہیں:
1۔ محبت کے ساتھ تربیت
بچے کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ والدین اس کی اصلاح چاہتے ہیں، اس کی تحقیر نہیں۔
2۔ عمل کے ذریعے تعلیم
والدین خود وہ بنیں جو وہ اپنے بچوں کو بنانا چاہتے ہیں۔
3۔ تدریج
ہر عادت ایک دن میں نہیں بنتی۔ بچے کو مستقل مزاجی اور مناسب تکرار کی ضرورت ہوتی ہے۔
4۔ محبت اور حدود کا توازن
محبت کا مطلب ہر بات مان لینا نہیں اور ڈسپلن کا مطلب سختی یا خوف پیدا کرنا نہیں۔ صحت مند تربیت میں محبت اور واضح حدود دونوں ضروری ہیں۔
5۔ گفتگو
صرف حکم دینے کے بجائے بچے سے بات کریں، اس کی بات سنیں اور اس کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
6۔ عملی مشق
بچے کو ذمہ داری دیں، اسے فیصلہ کرنے کے مواقع دیں اور غلطیوں سے سیکھنے کا موقع فراہم کریں۔
اسلامی تربیت ضروری کیوں؟ — اصل مقصد کیا ہے؟
اب سوال دوبارہ سامنے آتا ہے کہ اسلامی تربیت ضروری کیوں؟
اس کا بنیادی جواب یہ ہے کہ اسلام انسان کی زندگی کو صرف دنیاوی کامیابی تک محدود نہیں کرتا۔ ایک مسلمان کے لیے زندگی اللہ تعالیٰ کی بندگی، اچھے کردار، ذمہ داری، آخرت کی جواب دہی اور مخلوق کے حقوق کی ادائیگی سے وابستہ ہے۔
اس لیے والدین کا مقصد صرف ایسا بچہ تیار کرنا نہیں ہونا چاہیے جو اچھی نوکری حاصل کرے، بلکہ ایسا انسان تیار کرنا بھی ہونا چاہیے جو:
اچھا مسلمان، اچھا انسان، ذمہ دار فرد اور معاشرے کے لیے مفید شخصیت بن سکے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی تربیت میں ایمان کے ساتھ اخلاق، عبادات کے ساتھ معاملات، علم کے ساتھ عمل اور دنیاوی کامیابی کے ساتھ آخرت کی کامیابی کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔
والدین آج سے کیا شروع کرسکتے ہیں؟
اگر آپ اپنے گھر میں اسلامی تربیت کا باقاعدہ آغاز کرنا چاہتے ہیں تو ایک ہی وقت میں بہت کچھ تبدیل کرنے کے بجائے چند عملی اقدامات سے شروع کریں:
- روزانہ چند منٹ بچوں سے دینی اور اخلاقی گفتگو کریں۔
- گھر میں نماز کے لیے مثبت ماحول بنائیں۔
- کسی ایک اخلاقی عادت پر چند ہفتے کام کریں۔
- بچوں کے سامنے اپنے رویے کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
- ہفتے میں ایک دن اسلامی کہانی یا سیرت کا واقعہ سنائیں۔
- بچوں کو گھر کی مناسب ذمہ داریاں دیں۔
- غلطی پر صرف سزا دینے کے بجائے اس سے سیکھنے کا موقع دیں۔
- ہر بچے کی عمر، مزاج اور ضرورت کے مطابق تربیتی انداز اختیار کریں۔
نتیجہ: اسلامی تربیت ایک مسلسل سفر ہے
اولاد کی تربیت کوئی ایک لیکچر، چند نصیحتیں یا کچھ مذہبی معلومات منتقل کرنے کا نام نہیں۔ یہ ایک مسلسل اور مرحلہ وار عمل ہے جس میں ایمان، عبادت، اخلاق، کردار، عادات، جذبات، تعلقات اور عملی زندگی سب شامل ہیں۔
قرآن و سنت ہمیں یہ رہنمائی دیتے ہیں کہ والدین اپنی اولاد کے ایمان، کردار اور آخرت کے بارے میں سنجیدہ ہوں۔ اس لیے اسلامی تربیت ضروری کیوں؟ کا جواب دراصل بچے کے پورے مستقبل اور اس کی آخرت کی ذمہ داری سے جڑا ہوا ہے۔
ایک کامیاب والدین وہ نہیں جو صرف بچے کو بہت کچھ بتا دیں، بلکہ وہ ہیں جو بچے کو ایسا ماحول، تعلق، مثال اور عملی تربیت فراہم کریں جس میں وہ اچھی بات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکے۔
اسی لیے اسلامی تربیت کو ایک اضافی سرگرمی نہیں بلکہ والدین کی روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بنانا چاہیے۔
ایجوتربیہ پیرنٹنگ، اسلامی تربیت اور ذاتی نشوونما پر مستند مضامین اور عملی رہنمائی
