ڈاکٹرمحمدیونس خالد
آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایک ہی گھر میں پلنے والے دو بچے ایک جیسے کیوں نہیں ہوتے؟
ایک بچہ اپنی غلطی تسلیم کرلیتا ہے، دوسرا ہر بار بہانہ بناتا ہے۔
ایک کو کوئی نہ دیکھ رہا ہو تب بھی وہ امانت میں خیانت نہیں کرتا، دوسرا نگرانی نہ ہونے پر اصول توڑ دیتا ہے۔
ایک غصے میں بھی اپنی زبان سنبھال لیتا ہے، دوسرا معمولی بات پر چیخنے لگتا ہے۔
یہ فرق صرف ذہانت، تعلیم یا اسکول کا نہیں ہوتا۔ بچے کی سوچ، عادات، رویوں، اقدار اور کردار کی تعمیر میں تربیت کا بھی بنیادی کردار ہوتا ہے۔
اسی لیے والدین کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تربیت کی اہمیت صرف بچے کو اچھا بچہ بنانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس شخصیت کی بنیاد رکھتی ہے جو وہ مستقبل میں بنے گا۔
تربیت صرف اچھا رویہ سکھانے کا نام نہیں
تربیت ایک مسلسل عمل ہے جس میں بچے کی سوچ، جذبات، عادات، اخلاق، کردار اور ذمہ داری کے احساس کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔
مثلاً ایک والد اپنے بچے سے کہتا ہے:
"جھوٹ نہیں بولنا!”
بچہ پوچھتا ہے:
"لیکن ابو، اگر سچ بولنے سے مجھے سزا ملے تو؟”
یہاں تربیت کا اصل کام شروع ہوتا ہے۔
صرف حکم دینا کافی نہیں۔ بچے کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ضروری ہے کہ سچائی کی قدر کیا ہے، مشکل وقت میں درست فیصلہ کیسے کیا جائے اور اپنی غلطی کی ذمہ داری کیسے قبول کی جائے۔
یہی وجہ ہے کہ تعلیم اور تربیت ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ تعلیم علم دیتی ہے، جبکہ تربیت اس علم کو رویے اور کردار میں ڈھالنے میں مدد دیتی ہے۔
1۔ تربیت بچے کے کردار کی بنیاد بناتی ہے
بچے کو سچائی، امانت داری، صبر، احترام، رحم، ذمہ داری اور خود احتسابی جیسے اوصاف کتاب سے معلوم ہوسکتے ہیں، لیکن ان اوصاف کا عملی کردار بننا ایک مسلسل تربیتی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔
مثلاً اگر گھر میں والدین خود وعدہ پورا کرتے ہیں تو بچہ وعدے کی اہمیت دیکھتا ہے۔
اگر والد اپنی غلطی پر بچے سے کہتے ہیں:
"بیٹا، مجھ سے غلطی ہوئی، مجھے معاف کردو۔”
تو بچہ سیکھتا ہے کہ غلطی تسلیم کرنا کمزوری نہیں۔
اور اگر گھر میں ہر غلطی پر الزام، چیخ اور جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے تو بچہ بھی یہی طریقے سیکھ سکتا ہے۔
یعنی بچے صرف ہماری باتیں نہیں سنتے، ہمارے رویے بھی سیکھتے ہیں۔
2۔ تربیت بچے کو صحیح اور غلط میں فرق کرنے کے قابل بناتی ہے
چھوٹے بچے کے لیے والدین اکثر "صحیح” اور "غلط” کا معیار ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ تربیت کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ بچہ ہر فیصلہ صرف والدین کے ڈر سے نہ کرے بلکہ اس کے اندر اندرونی اخلاقی شعور پیدا ہو۔
مثلاً:
والدین گھر میں موجود ہیں، اس لیے بچہ موبائل استعمال نہیں کرتا۔
یہ صرف پابندی ہے۔
لیکن جب والدین موجود نہ ہوں اور بچہ خود فیصلہ کرے کہ "مجھے اپنی مقررہ حد سے زیادہ موبائل استعمال نہیں کرنا چاہیے”، تو یہاں خود نظم و ضبط پیدا ہونا شروع ہوتا ہے۔
اسی لیے مؤثر تربیت کا مقصد صرف بچے کو کنٹرول کرنا نہیں بلکہ اسے خود ذمہ دار بنانا بھی ہے۔
3۔ تربیت عادات کو شخصیت کا حصہ بناتی ہے
بچے کی شخصیت بڑی بڑی تقریروں سے نہیں بنتی؛ روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے معمولات بھی اس کی تعمیر کرتے ہیں۔
صبح اٹھنے کا انداز، چیزیں اپنی جگہ رکھنا، وقت کی پابندی، دوسروں سے بات کرنے کا طریقہ، کھانے کے آداب، نماز کی پابندی، مطالعہ، صفائی اور وعدہ پورا کرنا—یہ سب عادات رفتہ رفتہ شخصیت کا حصہ بن سکتی ہیں۔
فرض کریں ایک بچہ ہر روز اپنا اسکول بیگ خود تیار کرتا ہے۔
والدین نے اسے صرف ایک دن نہیں سکھایا، بلکہ مستقل مزاجی سے موقع دیا۔
کچھ عرصے بعد اسے ہر کام کے لیے یاد دہانی کی ضرورت نہیں رہتی۔
یہی habit building ہے، اور تربیت اسی مسلسل عمل کے ذریعے بچے کو خود مختاری اور ذمہ داری کی طرف لے جاتی ہے۔
4۔ تربیت جذبات کو سنبھالنا سکھاتی ہے
بچے کا غصہ آنا، رونا، ضد کرنا یا مایوس ہونا فطری جذبات ہیں۔ تربیت کا مقصد یہ نہیں کہ بچہ کبھی غصہ نہ کرے۔
اصل مقصد یہ ہے کہ وہ آہستہ آہستہ یہ سیکھے:
"مجھے غصہ آرہا ہے، لیکن مجھے ہر بات پر چیخنا یا کسی کو مارنا ضروری نہیں۔”
مثلاً بچہ کھیل میں ہار کر غصے میں کھلونا پھینک دیتا ہے۔
والدین فوراً چیخنے کے بجائے کہیں:
"تم ہارنے پر ناراض ہوئے ہو۔ غصہ آنا ٹھیک ہے، لیکن چیز پھینکنا درست نہیں۔ آؤ پہلے خود کو پرسکون کرتے ہیں، پھر بات کرتے ہیں۔”
اس طرح بچہ صرف سزا سے نہیں بلکہ emotional regulation یعنی جذبات کو سنبھالنے کا ہنر سیکھتا ہے۔
5۔ تربیت بچے کے مستقبل کے فیصلوں پر اثر ڈالتی ہے
بچپن میں بننے والی اقدار بڑے ہوکر مختلف فیصلوں میں سامنے آتی ہیں۔
کون سے دوست منتخب کرنے ہیں؟
پیسے کے معاملے میں ایمانداری کیسے رکھنی ہے؟
مشکل وقت میں کیا فیصلہ کرنا ہے؟
سوشل میڈیا کا استعمال کس حد تک کرنا ہے؟
تعلیم اور کام میں ذمہ داری کیسے نبھانی ہے؟
ہر موقع پر والدین ساتھ موجود نہیں ہوں گے۔
اسی لیے تربیت کا ایک اہم مقصد بچے کے اندر ایسی decision-making skills اور اقدار پیدا کرنا ہے جو اسے والدین کی غیر موجودگی میں بھی درست انتخاب کرنے میں مدد دیں۔
6۔ تربیت گھر کے ماحول کو بھی بدل دیتی ہے
اکثر ہم سمجھتے ہیں کہ صرف بچے کی تربیت ہونی ہے، لیکن حقیقت میں بچے کی تربیت پورے گھر کے ماحول سے جڑی ہوتی ہے۔
اگر گھر میں گفتگو احترام سے ہوتی ہے تو بچہ احترام سیکھتا ہے۔
اگر اختلاف کے وقت بات چیت ہوتی ہے تو بچہ مسئلہ حل کرنا سیکھتا ہے۔
اگر والدین ہر وقت موبائل میں مصروف رہتے ہیں تو بچے کو صرف "موبائل کم استعمال کرو” کہنا کم مؤثر ہوسکتا ہے۔
اس لیے والدین کا اپنا کردار بھی بچوں کی تربیت کا اہم حصہ ہے۔
تربیت کی ایک بڑی خوبی یہی ہے کہ جب والدین اپنے رویے پر بھی کام شروع کرتے ہیں تو گھر کا ماحول بدلنا شروع ہوسکتا ہے۔
7۔ اسلامی تربیت بچے کو مقصدِ زندگی سے جوڑتی ہے
مسلمان والدین کے لیے تربیت کا دائرہ صرف دنیاوی کامیابی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ بچے کے اندر اللہ تعالیٰ سے تعلق، عبادت کی رغبت، اچھے اخلاق، ذمہ داری، حیا، سچائی اور دوسروں کے حقوق کا شعور بھی پیدا کرنا اہم ہے۔
اسلامی تربیت میں ظاہری عادات کے ساتھ باطنی کیفیت اور اخلاق کی اصلاح پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔ اسلامی مصادر میں والدین کی ذمہ داری، اخلاق و آداب اور بچے کے دینی و اخلاقی ماحول کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔
اگر آپ اس موضوع کو قرآن و سنت کے وسیع تناظر میں سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمارا تفصیلی بچوں کی تربیت قرآن و سنت کی روشنی میں مضمون پڑھیں۔
اور اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ موجودہ دور میں اسلامی تربیت بچوں اور خاندان کے لیے کیوں ضروری ہے تو اسلامی تربیت ضروری کیوں؟ بھی ضرور پڑھیں۔
8۔ تربیت صرف بچپن تک محدود نہیں
ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ تربیت صرف چھوٹے بچوں کی ضرورت ہے۔
حقیقت میں بچے کی عمر کے ساتھ تربیت کا انداز بدلتا رہتا ہے۔
چھوٹے بچے کو بنیادی آداب اور عادات کی ضرورت ہوتی ہے۔
بڑے بچے کو ذمہ داری، خود نظم و ضبط اور جذباتی سمجھ کی ضرورت ہوتی ہے۔
نوجوان کو شناخت، اقدار، مقصدِ زندگی، تعلقات، ڈیجیٹل دنیا اور مستقبل کے فیصلوں میں رہنمائی کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
اس لیے تربیت ایک one-time activity نہیں بلکہ زندگی کے مختلف مراحل کے ساتھ بدلنے والا مسلسل عمل ہے۔
اگر تربیت نہ ہو تو کیا ہوتا ہے؟
یہ ضروری نہیں کہ تربیت پر کم توجہ دینے والا ہر بچہ لازماً برا انسان بن جائے۔ بچوں کی شخصیت پر خاندان، معاشرہ، تعلیم، دوست، ذاتی مزاج اور دیگر بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔
لیکن تربیت سے غفلت کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ والدین بچے کی شخصیت سازی کے عمل میں اپنی رہنمائی کا کردار کم کردیتے ہیں، جبکہ بچہ پھر بہت سے رویے باہر کے ماحول سے سیکھ سکتا ہے۔
آج یہ ماحول صرف محلہ یا اسکول نہیں رہا؛ YouTube، TikTok، Instagram، gaming، social media اور online communities بھی بچے کے سیکھنے کے ذرائع بن چکے ہیں۔
اسی لیے آج تربیت کی ضرورت کم نہیں ہوئی؛ اس کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا ہے۔
تو تربیت کی اہمیت کا خلاصہ کیا ہے؟
ایک لمحے کے لیے اپنے بچے کے مستقبل کا تصور کریں۔
آپ چاہتے ہیں کہ وہ صرف اچھے نمبروں والا نہ ہو بلکہ اچھا انسان بھی ہو۔
صرف ذہین نہ ہو بلکہ ذمہ دار بھی ہو۔
صرف کامیاب نہ ہو بلکہ باکردار بھی ہو۔
صرف آپ کے سامنے فرمانبردار نہ ہو بلکہ آپ کی غیر موجودگی میں بھی صحیح فیصلہ کرنے کے قابل ہو۔
یہ تبدیلی صرف نصیحتوں سے نہیں آتی۔
اس کے لیے محبت، تعلق، مثال، رہنمائی، حدود، مستقل مزاجی اور عملی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسی لیے والدین کے لیے تربیت کی اہمیت کو سمجھنا اتنا ضروری ہے۔
یاد رکھیں:
آپ اپنے بچے کے لیے صرف آج کا رویہ نہیں بنا رہے؛ آپ کل کے انسان کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
اور شاید تربیت کا سب سے خوبصورت پہلو یہی ہے کہ اس کا اثر صرف ایک بچے تک محدود نہیں رہتا۔ ایک باکردار بچہ آگے چل کر ایک بہتر خاندان، بہتر تعلقات اور بہتر معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
ایجوتربیہ پیرنٹنگ، اسلامی تربیت اور ذاتی نشوونما پر مستند مضامین اور عملی رہنمائی
