کیا بچوں کے درمیان وقفہ صرف ماں کی صحت کی وجہ سے ہی کیا جا سکتا ہے؟ کیا بچوں کی بہتر تربیت اور بہتر پرورش ونگہداشت کے لیے بھی حمل میں عارضی وقفہ کرنا جائز ہے؟ اور اگر والدین یہ فیصلہ کریں کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دینے کے لیے دو بچوں کے درمیان چاریا پانچ سال کا وقفہ رکھیں تو کیا یہ اسلامی نقطۂ نظر سے درست ہے؟
یہ سوال آج بہت سے مسلمان اور دین سے محبت رکھنے والے والدین کے لیے اہم ہے، کیونکہ اولاد صرف پیدا کرنا کافی نہیں؛ بلکہ ان کی بہتر تعلیم، تربیت، کردار سازی، دینی نشوونما اور جذباتی ضروریات پوری کرنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔
اسلام اولاد کو نعمت قرار دیتا ہے اور ذمہ داری یا آزمائش بھی۔ محض مالی تنگی کے خوف سے اولاد سے گریز کی ترغیب نہیں دیتا۔ تاہم شرعی فتاویٰ میں بعض عوارض اور موجودہ بچوں کی مناسب تربیت متاثر ہونے کی صورت میں عارضی طور پر بچوں میں وقفہ رکھنے کی گنجائش بھی بیان کی گئی ہے۔
فیملی و تربیہ پلاننگ سے یہی مراد ہے کہ میاں بیوی صرف یہ نہ سوچیں کہ بس بچے ہوں، بلکہ یہ بھی سوچیں کہ موجودہ اور آنے والے بچوں کی صحت، تعلیم، تربیت، دینی نشوونما اور والدین کی توجہ کس طرح بہتر طور پر یقینی بنائی جا سکتی ہے۔
کیا بچوں کی تربیت کے لیے وقفہ کرنا جائز ہے؟
یہ اس مضمون کا بنیادی سوال ہے۔ پوچھا جاتا ہے کہ اگر بیوی یہ چاہتی ہو کہ بچوں کے درمیان زیادہ وقفہ ہو کیونکہ جلدی جلدی بچے پیدا ہونے سے ان کی تربیت مناسب طور پر نہیں ہو پاتی تو کیا ایسا وقفہ شرعی طور پر جائز ہے؟
جواب ہے کہ اگر مسلسل اولاد ہونے کی وجہ سے بچوں کی تربیت متاثر ہونے کا اندیشہ ہو تو اولاد میں وقفہ کرنا جائز ہے اور مناسب شرعی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مستقل نس بندی کرانا چائز نہیں۔ البتہ اس معاملے کو میاں بیوی باہمی مشورے سے طے کریں۔
یہ نکتہ والدین کے لیے بہت اہم ہے:
آئندہ آنے والی اولاد اور موجودہ اولاد کی ذمہ داری دونوں کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھنا چاہیے۔ یعنی بچے کی پیدائش کا مقصد صرف تعداد بڑھانا نہیں ہوناچاہیے بلکہ اس بچے کی مناسب پرورش، دین، اخلاق اور کرداری کی تربیت بھی ضروری ہے۔ تاکہ وہ بچہ ملک وملت کا سرمایہ بن سکے۔
صرف "خرچ کہاں سے آئے گا؟” کی وجہ سے وقفہ؟
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص صرف اس خوف سے اولاد کے درمیان وقفہ کرے کہ ایک اور بچہ پیدا ہوگیا تو اسے کھلائیں گے کہاں سے؟، تو یہ کوئی شرعی عذر نہیں۔ اسلام والدین کو رزق کے معاملے میں اللہ تعالیٰ پر توکل کی تعلیم دیتا ہے۔
لیکن آنے والے بچے کی مناسب نگہداشت، اس کی نفسیاتی ضروریات کی تکمیل اور اس کی مناسب تعلیم وتربیت کی ذمہ داری بہرحال والدین کے کندھے پر ہے۔ اس کیلئے سوچنا والدین کا فرض ہے۔
لہٰذا فیملی و تربیہ پلاننگ کو "غربت سے بچنے کی منصوبہ بندی” نہیں بلکہ موجودہ بچوں کی ذمہ داری بہتر طور پر ادا کرنے کی عارضی تدبیر کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
چار سال کا وقفہ کیوں؟
چار سال یا پانچ سال کا وقفہ کوئی لازمی وقفہ نہیں۔ البتہ والدین اپنی خاندانی صورتِ حال اور بچوں کی تعلیم وتربیت کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے یہ منصوبہ بنا سکتے ہیں کہ اگر انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ایک بچے کو مناسب توجہ، تعلیم، تربیت اور نگہداشت دینے کے لیے زیادہ وقت درکار ہے تو وہ عارضی وقفے کے بارے میں باہمی مشورہ کر سکتے ہیں۔
مثلاً ایک خاندان یہ طے کرتا ہے کہ پہلا بچہ پیدا ہوا اب چار سال تک اس کی پرورش ونگہداشت بہتر طورپر کی جائے اور پھراگلے بچے کی منصوبہ بندی کی جائے تو یہ درست عمل ہے۔
اس کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ پہلے بچے کی ابتدائی تربیت، زبان، بنیادی دینی تعلیم، عادات، خود انحصاری اور جذباتی ضروریات پر والدین مناسب توجہ دے سکیں۔ تاکہ چار سال لازمی نہیں بلکہ ایک ممکنہ تربیتی منصوبہ ہے۔
بچے کی تربیت کے لیے وقفہ کیوں مفید ہو سکتا ہے؟
چھوٹے بچوں کو صرف خوراک اور کپڑوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ انہیں وقت، توجہ، محبت، نگرانی اور تربیت بھی چاہیے۔ اگر بہت کم وقفے میں کئی بچے پیدا ہو جائیں تو بعض والدین کے لیے ہر بچے کی انفرادی ضروریات پر توجہ دینا مشکل ہو سکتا ہے۔
مثلاً ایک دو سال کا بچہ مسلسل نگرانی چاہتا ہے، جبکہ چار سال کا بچہ زبان، عادات، اخلاق، خود انحصاری اور بنیادی دینی تعلیم کی تربیت کے مرحلے میں ہوتا ہے۔ اگر وقفہ نہ کیا جائے اور ایک نوزائیدہ بچہ بھی گھر میں آ جائے تو ماں اور باپ کی جسمانی اور ذہنی مصروفیت بہت بڑھ سکتی ہے۔
اس لیے تربیہ پلاننگ کا سوال یہ ہونا چاہیے، ہم اپنے اگلے بچے کیلئے کب پلان کریں تا کہ موجودہ بچوں کی ذمہ داری بھی بہتر طریقے سے ادا کر سکیں؟
فیملی و تربیہ پلاننگ کے 5 اہم پہلو
1۔ جسمانی صحت
اگر مسلسل حمل اور ولادت سے ماں کی صحت متاثر ہو رہی ہو یا بچے کی صحت متاثر ہورہی ہو تو طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔ شرعی فتاویٰ میں بھی عورت کی صحت کو عارضی وقفے کے قابلِ اعتبار عذر کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
2۔ موجودہ بچوں کی تربیت
والدین یہ دیکھیں کہ کیا وہ موجودہ بچوں کو مطلوبہ وقت اور توجہ دے پا رہے ہیں؟ اگر مسلسل ولادت کی وجہ سے تربیت ودرست نگہداشت متاثر ہونے کا حقیقی اندیشہ ہو تو اس پہلو کو بھی سنجیدگی سے دیکھا جا سکتا ہے۔
3۔ دینی تربیت
بچے کو نماز، قرآن، اخلاق، حیا، سچائی، ذمہ داری اور اسلامی آداب سکھانے کے لیے بھی والدین کی مستقل توجہ ضروری ہے۔ لہذا والدین کے پاس مناسب فرصت اور وقت دستیاب ہونا چاہیے۔
4۔ تعلیمی ضروریات
بچوں کی ابتدائی تعلیم، مطالعہ، اسکول کی نگرانی، ہوم ورک اور صلاحیتوں کی نشوونما بھی والدین کی توجہ چاہتی ہے۔
5۔ جذباتی تعلق
بچے کے لیے یہ احساس ضروری ہے کہ والدین اس کے لیے دستیاب ہیں، اس کی بات سنتے ہیں اور اس کی شخصیت کو اہمیت دیتے ہیں۔ غرض تربیت کے تقاضوں کی تکیمل کیلئے والدین کے پاس وقت اور فرصت ہونا ضروری ہے۔
تربیہ پلاننگ صرف بچوں کے درمیان وقفہ نہیں!
یہ بات بہت اہم ہے۔ اگر والدین چار سال کا وقفہ رکھ بھی لیں لیکن ان چار سالوں میں بچے کو موبائل، ٹی وی اوردیگر مصروفیات کے حوالے کر دیں تو صرف وقفہ تربیت کی ضمانت نہیں بنے گا۔
اصل تربیہ پلاننگ یہ ہے کہ وقفہ کے دوران بچے پر والدین کی بھرپور توجہ، بچے سے مضبوط تعلق ، اس کی تعلیم و تربیت پر توجہ ،کردار سازی اور دین واخلاق کی بنیادیں بنانے پر کام کریں۔ یہ سب مل کر بچے کی جامع تربیت بناتے ہیں۔
میاں بیوی کو فیصلہ کیسے کرنا چاہیے؟
اولاد میں وقفے کا فیصلہ صرف شوہر یا صرف بیوی کا نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں کو ایک دوسرے کی صحت، صلاحیت، حالات اور تربیتی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیے۔
بیوی کی جسمانی اور ذہنی کیفیت کو اہمیت دی جائے، جبکہ شوہر کی خواہش اور خاندانی منصوبہ بندی کے پہلو کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔
عارضی اور مستقل طور پر اولاد روکنے میں فرق
اسلامی فقہ میں عارضی وقفہ اور مستقل طور پر تولیدی صلاحیت ختم کرنا ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
شرعی عذر کی صورت میں عارضی مانعِ حمل تدابیر کی گنجائش دینی فتاوی بیان کی گئی ہے، جبکہ مستقل نس بندی یا تولیدی صلاحیت ختم کرنے کے طریقوں سے منع کیا گیا ہے۔
اس لیے کسی مخصوص مانعِ حمل طریقے کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کے بجائے کسی طبی اور شرعی صورتِ حال کو درست انداز سے ڈیل کرنے کیلئے مستند ڈاکٹر اور مفتی سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
اسلام کا مقصد صرف زیادہ بچے یا کم بچے نہیں، بلکہ ذمہ دارانہ زندگی اختیار کرنا اور اس کے قابل بنانا ہے
اسلام اولاد کی کثرت کی ترغیب دیتا ہے، لیکن والدین پر بچوں کے حقوق اور تربیت کی ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے۔
اس لیے مسلمان والدین کو دونوں انتہاؤں سے بچنا چاہیے:
پہلی انتہا: صرف معاشی خوف کی وجہ سے اولاد سے گریز کرنا۔
دوسری انتہا: بچوں کی تعداد بڑھاتے جانا مگر ان کی تعلیم و تربیت، صحت، اخلاق اور دینی نشوونما کی ذمہ داری کے بارے میں منصوبہ بندی نہ کرنا۔
متوازن راستہ یہ ہے کہ اللہ پر توکل کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھا جائے۔
خلاصہ:
فیملی و تربیہ پلاننگ کا مقصد اولاد کو محدود کرنا نہیں بلکہ موجودہ بچوں کی ذمہ داری کو بہتر انداز میں ادا کرنے کے لیے عارضی اور شرعی حدود کے اندر منصوبہ بندی کرنا ہے۔
اگر والدین یہ محسوس کریں کہ بہت کم وقفے میں مسلسل بچوں کی پیدائش سے موجودہ بچوں کی تعلیم، تربیت، صحت یا مناسب توجہ متاثر ہو رہی ہے تو معتبر اہلِ علم کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق باہمی مشورے سے عارضی وقفے کی گنجائش موجود ہے۔
چار سال کا وقفہ بھی بعض خاندانوں کے لیے ایک عملی تربیتی منصوبہ ہو سکتا ہے، لیکن اسے شرعی طور پر مقررہ مدت یا ہر خاندان کے لیے لازمی اصول نہیں سمجھنا چاہیے۔
ہمارا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہمارے کتنے بچے ہیں؟ بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کی کتنی اچھی تعلیم و تربیت کر رہے ہیں؟
کیونکہ اسلام میں اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمت بھی ہے اور والدین کے لیے ایک بڑی آزمائش اور ذمہ داری بھی۔
اچھی تربیت کے لیے وقت چاہیے، توجہ چاہیے، مناسب وسائل چاہییں اور سب سے بڑھ کر والدین کی شعوری کوشش چاہیے۔
ایجوتربیہ پیرنٹنگ، اسلامی تربیت اور ذاتی نشوونما پر مستند مضامین اور عملی رہنمائی
