Positive parenting Guide in Urdu

مثبت پیرنٹنگ کیسے کریں؟ والدین کیلئے مکمل گائیڈ

ڈاکٹرمحمدیونس خالد۔ پیرنٹنگ وتربیہ کوچ / کاونسلر

مثبت پیرنٹنگ کیسے کریں؟ یہ سوال آج کے دور میں تقریباً ہر والدین کے ذہن میں آتا ہے۔ اگر آپ مثبت پیرنٹنگ، بچوں کی اچھی تربیت کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ یا بچوں کو پیار سے کیسے سمجھائیں یا چیخے بغیر بچوں کو کیسے سمجھائیں جیسے سوالات کے جواب تلاش کر رہے ہیں، تو یہ پیرنٹنگ  گائیڈ آپ ہی کیلئے ہے۔ اس مضمون میں ہم مثبت پیرنٹنگ کے پورے تصور کو آسان، عملی اور گہرے انداز میں سمجھیں گے تاکہ والدین اپنے بچوں کی بہتر تربیت، مضبوط شخصیت سازی، جذباتی نشوونما اور اچھے رویّے کی بنیاد رکھ سکیں۔

مثبت پیرنٹنگ کا مطلب  صرف ایک نرم رویہ ہی  نہیں، بلکہ یہ ایک سوچ، ایک بہتر طریقۂ تربیت اور موثر ایک عملی نظام ہے۔ اس کا مقصد بچوں کو خوف، شرمندگی، ڈانٹ اور سختی کے ذریعے چلانا نہیں، بلکہ محبت، احترام، رہنمائی، مستقل مزاجی اور سمجھ داری کے ذریعے ان کی شخصیت کو پروان  چڑھانا ہے۔ مثبت پیرنٹنگ میں والدین صرف حکم دینے والے نہیں ہوتے بلکہ رول ماڈل، رہنما، کوچ اور جذباتی سہارا بھی ہوتے ہیں۔

آئیے جانتے ہیں کہ مثبت پیرنٹنگ کیا ہے؟

مثبت پیرنٹنگ سے مراد بچوں کی ایسی تربیت ہے جس میں محبت، احترام، حکمت ودانائی ، حدود، رہنمائی اور جذباتی تعلق کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ اس میں بچے کو دبایا نہیں جاتا بلکہ سنبھالا جاتا ہے۔ اسے توڑا نہیں جاتا بلکہ بنایا جاتا ہے۔ اسے صرف غلطی پر روکا نہیں جاتا بلکہ صحیح راستہ بھی سکھایا جاتا ہے۔

سادہ الفاظ میں، مثبت پیرنٹنگ یہ ہے کہ بچے کو ایک معزز  انسان سمجھ کر اس کی عزت کی جائے۔ اس کے جذبات کو سنا اور سمجھا جائے۔ اس کی غلطی پر چیخنے کے بجائے رہنمائی کی جائے۔ ڈسپلن کو سزا نہیں بلکہ تربیت کے طور پر ڈیل کیا جائے۔ والدین اور بچے کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط بنایا جائے۔

مثبت پیرنٹنگ کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بچے کو ہر بات کی آزادی دے دی جائے یا اسے کبھی روکا نہ جائے۔ بلکہ اس کا مطلب ہے کہ محبت اور (firmness) دونوں کو ساتھ لے کر چلا جائے۔

مثبت پیرنٹنگ کیوں ضروری ہے؟

آج کے دور میں بچوں کے مسائل پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ اسکرین ٹائم، جذباتی دباؤ، ضد، بے صبری، چڑچڑاپن، کانفڈینس کی کمی، توجہ حاصل کرنے کے حربے، بدتمیزی اور عدم تعاون جیسے مسائل عام ہو چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر والدین صرف ڈانٹ،دھونس،  دھمکی یا سزا پر انحصار کریں گے، تو بظاہر وقتی اطاعت تو مل سکتی ہے، مگر بچے کی اندرونی شخصیت کمزور ہو سکتی ہے۔

 ایسے وقت میں مثبت پیرنٹنگ  بچے کو محفوظ جذباتی ماحول فراہم کرتی  ہے، اس کی خود اعتمادی بڑھاتی ہے۔ بچوں میں تعاون پیدا کرتی ہے۔ والدین اور بچے کے تعلق کو مضبوط بناتی ہے۔ بچوں کی پرورش ونگہداشت کے دوران چیخنے چلانے اور روزانہ کے جھگڑوں کو کم کرتی ہے۔  بچوں کے علاوہ خود والدین کے اندر اچھے اخلاق اور (self-discipline) پیدا کرتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر پیرنٹنگ کا یہ انداز بچے کو خوف نہیں، شعور کے ساتھ صحیح فیصلہ کرنا سکھاتا ہے۔

 ایک بات یاد رکھیے۔ جو بچہ اپنے والدین سے  عزت پاتا ہے، وہ  دوسروں عزت دینا بھی  سیکھتا ہے۔جس بچہ کو سنا جاتا ہے، وہ دوسروں کی  بات سننا سیکھتا ہے۔ اور جو بچہ اپنے والدین سے بہتر  رہنمائی پاتا ہے، وہ آہستہ آہستہ خود کو سنبھالنا سیکھتا ہے۔

: مثبت پیرنٹنگ کے بنیادی اصول

یہ وہ اصول ہیں جنہیں پیش نظر رکھ والدین اپنے بچوں کی مثبت پیرنٹنگ کرسکتے ہیں۔

. محبت اور تعلق کو بنیاد بنائیں۔

بچہ سب سے پہلے تعلق سے سیکھتا ہے، نصیحت سے بعد میں۔ اگر بچہ یہ محسوس کرے کہ میرے والدین مجھے سمجھتے ہیں، مجھ سے محبت کرتے ہیں، میری بات سنتے ہیں، تو وہ ان کی بات ماننے کے لیے زیادہ تیار ہوتا ہے۔

: 2. عزت کے ساتھ تربیت کریں۔

بچے سے بات کرتے وقت لہجہ، الفاظ اور انداز نہایت اہم ہوتے ہیں۔ اگر ہم بچے کی غلطی پر اسے ذلیل کریں گے، دوسروں کے سامنے شرمندہ کریں گے، تو اس کی (self-worth) متاثر ہوگی۔

: 3. حدود واضح رکھیں۔

مثبت پیرنٹنگ کا مطلب بچوں کو ہرچیز کی اجازت دے کر (loose parenting) کرنا  نہیں ہے۔ بلکہ اس اس پیرنٹنگ طریقہ کار میں  بچے کیلئے  اصول، روٹین اور (boundaries)یعنی حدود کو واضح کرنا  ضروری ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ (boundaries)  سختی، خوف اور ذلت کے بغیر دی جاتی ہیں۔

. مستقل مزاجی ضروری ہے۔

اگر آج ایک بات پر منع کیا اور کل اسی چیز کی اجازت دے دی، تو بچہ کنفیوز ہوگا۔ مثبت پیرنٹنگ میں مستقل مزاج یا  (consistency) بہت اہم چیز ہوتی  ہے۔

: 5.  بچے کے جذبات کو سمجھیں، صرف اس کا  رویہ نہ دیکھیں۔

کبھی بچہ ضد کر رہا ہوتا ہے، مگر اصل مسئلہ تھکن، توجہ کی کمی، بھوک، حسد یا (frustration) ہوتا ہے۔ سمجھدار والدین صرف رویّہ نہیں، اس کے پیچھے کا سبب بھی دیکھتے ہیں۔

 6. بچے کیلئے خود مثال بنیں ۔

اگر والدین خود چیختے ہیں، ڈانٹے ہیں  اور چاہتے ہیں کہ بچہ نرمی سے بات کرے، تو یہ ممکن نہیں۔ بچے ہماری باتوں سے کم اور ہمارے طرزِ عمل یا روے  سے زیادہ سیکھتے ہیں۔

 مثبت پیرنٹنگ کیسے کریں؟ عملی طریقے

یہاں ہم مثبت پیرنٹنگ کے چند پریکٹیکل طریقے آپ کے ساتھ شئیر کریں گے۔ انہیں اپنانے سے آپ کی پیرنٹنگ مثبت ہوتی چلی جائے گی۔

1. بچے کو پیار سے کیسے سمجھائیں۔

جب بچہ غلطی کرے تو فوراً چیخنے کے بجائے پہلے خود کو calm کریں۔ پھر بچے کی سطح پر آ کر اس سے مختصر، واضح اور نرمی سے بات کریں۔مثلاً اس سے  پوچھیں کہ  کیا آپ کا  یہ طریقہ درست  تھا؟ آؤ، میں تمہیں اس سے  بہتر طریقہ بتاتا  / بتاتی ہوں۔

 پھر کہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ تم upset ہو، لیکن یہ انداز ٹھیک نہیں۔یہی اصل جواب ہے اس سوال کا کہ بچوں کو پیار سے کیسے سمجھائیں۔

 2. چیخے بغیر بچوں کو کیسے سمجھائیں؟

چیخنے سے بچہ وقتی طور پر رک سکتا ہے، مگر اندر سے سیکھتا نہیں۔ اکثر یا تو ڈر جاتا ہے، یا ضدی ہو جاتا ہے، یا اندر ہی اندر والدین سے  دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ آپ  چیخنے کے بجائے (eye contact ) کریں۔  اپنا لہجہ نرم مگر پُراثر  رکھیں۔ مختصر جملے بولیں لمبی بات نہ کریں۔  ایک وقت میں صرف  ایک ہدایت دیں۔ بعد میں فالو اپ ضرور کریں۔

 3. مثبت پیرنٹنگ ٹپس۔

یہاں ہم چند موثر پیرنٹنگ ٹپس بھی آپ کےساتھ شئیر کریں گے۔ جنہیں اپنانے سے آپ کیلئے بڑی آسانی ہوسکتی ہے۔ یہ  ٹپس والدین کیلئے بہت مفید ہیں۔  مثلا

  • روزانہ کم از کم 15 سے 20 منٹ بچوں کو  کوالٹی  ٹائم  دیں۔
  • بچے کی اچھی بات کو  فوراً نوٹس کریں۔  تاکہ نوٹس کرنے پر بچے کو خوشی کا احساس ہو۔
  • صرف غلطیوں پر بات نہ کریں، خوبیوں کو بھی لائی لائٹ کریں۔
  • گھر کے رولز بنائیں۔ اور وہ رولز سب کیلئے بالکل واضح کریں۔
  • کم وعدے کریں مگر ہر وعدہ پورہ کریں۔
  • بچے جذباتی طور پر پریشان ہوں یا خود والدین جذباتی پر ناآسودہ ہوں اس  وقت لیکچر بالکل  نہ دیں۔
  • بچوں کو ڈسپلن کرنے کی کوشش  سے پہلے  تعلق بہتر بنانے پر کام  کریں۔

 بچوں کی حوصلہ افزائی کیسے کریں؟

بچے کی حوصلہ افزائی صرف “شاباش” کہنے سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے  (effort) اور کوشش کو (appreciate) کرنے، ایکنالج کرنے  یا تعریف کرنے  سے ہوتی ہے۔ مثلا اگر بچہ کوئی کام مکمل نہ بھی کرے، تب بھی اس کی کوشش کو سراہیں۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ

  • تم نے کوشش اچھی کی۔
  • مجھے خوشی ہے کہ تم نے ہمت نہیں ہاری۔
  • آؤ، اگلی بار اسے اور بہتر کریں گے۔

حوصلہ افزائی بچے میں باربار کوشش کرنے کی جرات پیداکرتی ہے۔ اس میں خوداعتمادی اور گروتھ مائنڈ سیٹ پیدا کرتی ہے۔

: بچوں میں خود اعتمادی پیدا کریں۔

خود اعتمادی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بچے کو یہ احساس ہو کہ میں قابل ہوں۔  میری بات سنی جاتی ہے۔ میری کوشش میرے ولدین   اور چاہنے والوں کیلئے  اہم ہے۔ اور یہ کہ مجھ سے محبت کی جاتی ہے۔   یہاں خوداعتمادی کو بڑھانے کیلئے میں  چند تدابیر بھی آپ کو  دے رہاہوں۔

بچوں میں خوداعتمادی  بڑھانے کے طریقے:

  • اپنے بچوں کو  چھوٹے چھوٹے  فیصلوں میں شامل کریں۔
  • کسی کے سامنے  ان کی تذلیل بالکل  نہ کریں۔
  • دوسرے بچوں سے اپنے بچوں کو ( compare) تقابل نہ کریں۔
  • ان کی( abilities)صلاحیتوں  کے مطابق انہیں  ذمہ داری دیں۔
  • کوشش پر ان ہی  تعریف کردیا کریں، ہمیشہ  رزلٹ  result کا انتظار نہ کریں۔

 بچوں کی غلطیوں پر درست رد عمل دینا سیکھیں۔

آپ بچے کی  ایک ہی غلطی کو اس کی پوری شخصیت نہ بنا دیں۔ غلطی پر  تم” بہت بدتمیز ہو”  کہنے کے بجائے کہیں:
“تمہارا یہ رویہ درست نہیں تھا۔”

یعنی بچے کو لیبل نہ کریں۔  اس غلط رویے کو ہائی لائٹ  کریں اور درست متبادل  (alternative) بتائیں۔  اس کے ساتھ ہی بچے موقع دیں کہ وہ خود کو بہتر کرے۔ کیونکہ غلطی تربیت کا موقع فراہم کرتی  ہے،  اسے  جنگ کا میدان نہ بنائیں۔

بچوں کی تعریف کرنے کا صحیح طریقہ

ہر تعریف مفید نہیں ہوتی۔ بعض اوقات جنرل تعریفیں نہ صرف اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ بلکہ نقصان بھی پہنچاسکتی ہیں ۔ صحیح تعریف وہ ہے جو specific ہو۔ یعنی تعریف کی خاص وجہ بتا کر کی جائے۔ مثلاً۔

  • “تم نے آج اپنی کتابیں خود سمیٹیں، یہ بہت اچھی بات ہے۔”
  • “تم نے بہن کے ساتھ sharing کی، مجھے اس  پر بہت  خوشی ہوئی۔”
  • “آج تم نے غصے کے باوجود خود کو سنبھالا، یہ بہت اہم بات  ہے۔”

 خلاصہ یہ ہے ک صحیح تعریف اچھی عادت کو reinforce کرتی ہے مزید تقویت پہنچاتی ہے۔  بچے کو اپنی خوبی کی وجہ  کا شعور دیتی ہے اور اندرونی طورپر اس کی موٹیویشن بڑھاتی ہے

 بچوں کو عزت کے ساتھ ڈسپلن کیسے کریں؟

یہ مثبت پیرنٹنگ کا مرکزی سوال ہے۔ بچوں کی مثبت تربیت میں ڈسپلن کا مقصد سزا دینا نہیں ہوتا۔ بلکہ اسے  سیلف کنٹرول سکھانا  ہوتا ہے۔

 آئیے محبت و عزت کے ساتھ ڈسپلن کے چند اصولوں کو سمجھتے ہیں۔ :

  • ڈسپلن کیلئے  پہلے  اصول وضوابط  اچھی طرح واضح کریں۔  اور ان اصولوں کی خلاف ورزی کے نتائج    (consequence) پہلے سے معلوم ہوں۔
  • غصے میں بچے کو  کبھی  سزا دیں اور نہ  اس کی بے عزتی کریں۔  اپنے عمل میں  (consistency) رکھیں۔
  • بعد میں بچے سے تعلق normalize کریں

مثلاً اگر بچہ چیزیں پھیلاتا ہے:

  • پہلے rule بتائیں
  • پھر کہیں: “اگر تم نے نہیں سمیٹا تو ابھی کھیل روکنا پڑے گا”
  • consequence calm انداز میں نافذ کریں۔

بچوں سے مضبوط تعلق کیسے بنائیں؟

بچے سے مضبوط تعلق مثبت پیرنٹنگ کی روح ہے۔

مضبوط تعلق کیلئے:

  • روزانہ quality time دیں
  • موبائل ہٹا کر پوری توجہ سے سنیں
  • بچے کی دلچسپی میں دلچسپی لیں
  • اس کے خوف اور خوشی دونوں سنیں
  • اس کے لیے emotional safe space بنیں

کبھی کبھی صرف یہ پوچھ لینا کہ آج تمہارے دن کی سب سے اچھی  یا سب سے مشکل بات کیا تھی؟بہت بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔

 بچوں کو ڈانٹنا نقصان دہ کیوں؟

بار بار ڈانٹنے سے بچے میں خوف،  ضد،  جھوٹ،  ،والدین سے فاصلہ پیدا ہوتاہے۔ اس سے بچے کی سیلف اسٹیم کم یا ختم ہوجاتی ہے۔ اور بچہ اموشنل شٹ ڈاون یعنی ایک اداسی کی کیفیت میں چلا جاتاہے۔

ڈانٹ سے  بچہ ڈانٹ سے خاموش تو ہو سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ بہتر بھی ہو۔مثبت پیرنٹنگ کا  مقصد بچے سے  اطاعت کروانا  نہیں بلکہ  اس کی اصلاح اور کردار سازی ہے۔

 خوش مزاج بچہ کیسے بنائیں؟

پہلے خوش مزاجی کا مطلب سمجھ لیتے ہیں۔  دیکھیےخوش مزاج بچہ وہ نہیں جو ہر وقت ہنستا رہے، بلکہ وہ بچہ  ہے جو جذباتی طور پر متوازن ہو، اپنے گھر میں سکون اور  محفوظ محسوس کرے، اور محبت، کھیل، تعلق اور acceptance پائے۔

خوش مزاجی ہم اپنے بچے کے اندر کیسے لاسکتے ہیں۔ اس  کیلئے گھر کا ماحول نرم رکھیں۔ مسلسل تنقید سے اجتناب کریں۔ بچوں کو  کھیل کا وقت دیں۔ بچے کی بات کو سنجیدگی سے سنیں ، اور بچے کی چھوٹی خوشیوں کو celebrate کریں۔ ان اقدامات سے بچہ خوش مزاج بن سکتا ہے۔

 بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں کیسے ابھاریں؟

بچے فطری طور پر  (creative) یعنی تخلیقی ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ہر کام میں صرف “صحیح جواب” اور “غلط جواب” کا ماحول ہو، تو کریٹیوٹی دب جاتی ہے۔ ذیل میں ہم کریٹیوٹی بڑھانے کے چند طریقوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

  • بچوں سے (open-ended questions) یعنی سوچ وبچار کے بعد جواب والے سوالات  پوچھیں۔
  • انہیں ڈرائنگ، بات چیت اور کہانیوں  کا خوب موقع دیں۔
  •  بچوں سے ہر چیز میں perfection نہ مانگیں۔  انہیں غلطی کرنے  کی گنجائش دیں۔
  • ان کے آئیڈیاز  کو سنیں او راہمیت دیں۔

بچوں کو وقت دینے کی اہمیت

بچوں کو مہنگی چیزوں سے زیادہ والدین کی توجہ چاہیے ہوتی ہے۔ اس کیلئے بچوں کوالٹی ٹائم دیں۔  کوالٹی ٹائم باہمی  تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔بدتمیزی  کوکم کرتا ہے، اور (attention-seeking behavior) کم کرتا ہے۔  یہ بچوں میں اعتماد پیدا کرتا ہے۔ لہذا

روزانہ کچھ وقت صرف بچے کیلئے مخصوص کریں، چاہے 15 منٹ ہی کیوں نہ ہوں۔

بچوں کی جذباتی ذہانت بہتر بنائیں

جذباتی ذہانت یا اموشنل انٹیلی جنس کا مطلب ہے کہ بچہ اپنے جذبات کو پہچانے، بیان کرے، انہیں ویگولیٹ کرسکے اور دوسروں کے جذبات بھی سمجھے۔ جذباتی ذہانت  کو بچے میں پیدا کرنا والدین کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔  ذیل میں ہم  جذباتی ذہانت بڑھانے کے کچھ طریقے آپ کے ساتھ شئیر کررہے ہیں۔

جذباتی ذہانت (اموشنل انٹیلی جنس ) بڑھانے کے طریقے:

  • بچے کے جذبات یا اموشنز  کو نام دیں۔ تاکہ اسے اپنے جذبات اموشنز کے بارے میں پتہ ہو۔ مثلا “تم ناراض ہو؟”
  •  اس وقت تمہیں غصہ آرہا ہے۔ اسے سکھائیں کہ غصہ آنا  بذات خود برا نہیں، مگر غصہ  سے بے قابو ہوکر  غلط ردعمل برا ہے
  • والدین بچےکے ساتھ ہمدردی کا اظہار  کریں
  • کہانیاں اور روزمرہ واقعات ڈسکس  کریں۔ اس سے بچہ خود کو ان کہانیوں کے کردار کے طور پر دیکھنا اور اپنے جذبات کو بہتر بنانا سیکھ جاتاہے۔

 بچوں کو ذمہ دار کیسے بنائیں؟

 احساس ذمہ داری وہ صفت ہے جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو ذمہ دار بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔  بچوں کو ذمہ داری سکھانے کیلئے انہیں چھوٹے چھوٹے  کام دیں  تاکہ وہ ذمہ دار بن سکیں۔  مثلا اپنا بیگ سمیٹنا اور درست جگہ خود رکھنا،  اسی طرح  پانی کی بوتل  خالی ہوجائے تو اسے بھرنا اور فریج میں رکھنا ۔

اپنے کھلونے سمیٹنا اور درست جگہ پر رکھنا۔ چھوٹے چھوٹے کاموں کی لسٹ بنا کر  اس لسٹ کو فالو کرنا وغیرہ۔ اس طرح کی  ذمہ داری بچے کو دینے اس میں  ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے، مسلسل ڈانٹ سے بچے ذمہ دار  نہیں بنتے۔

 بچوں میں شکرگزاری پیدا کرنا

شکرگزاری  انسان میں خوشی، قناعت اور اخلاقی حسن پیدا کرتی ہے۔ یہ انسان کی خوب صورت صفات میں سے ایک صفت ہے۔  ہمیں خود اور بچوں میں شکرگزاری کی کیفیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اور بچوں کو اس کی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔  ذیل کے اقدامات سے ہم  اپنے اور  بچوں کے اندر شکرگزاری کی کیفیت پیدا کرسکتے ہیں۔  مثلا

  • روزانہ اللہ کی  3 نعمتیں خود بھی  یاد کریں اور بچوں سے بھی  کروائیں۔  پھر اللہ کا شکر ادا کریں۔
  • گھر میں ہر بات پر تھینک یو اور جزاک اللہ بولنے کی عادت ڈالیں۔
  • اس کام کیلئے خود کو مثال بنائیں۔ بچے خود ہی سیکھ جائیں گے۔

 بچوں کو  خدا کے علاوہ ہر خوف سے دور رکھیں۔

بچوں کو سدھارنے کیلئے انہیں  خوف دلانا، ڈرانا ، مار پیٹ کرنا، دھمکی یا شرمندگی کا استعمال زندگی بھر کیلئے  نقصان دیتا ہے۔ خوف بچوں کے اوپر والدین کا  وقتی کنٹرول تو  دیتا ہے، مگر ان میں  شعور پیدا نہیں کرتا۔

خوف دلانے  کے بجائے انہیں عمل کیلئے  واضح اصول بتائیں۔  اور ساتھ ان اصولوں کے فوائد اور عمل نہ کرکے نے نتائج بھی بتائیں۔

اصولوں پر عمل نہ کرنے کی صورت محبت بھرے ٹون میں انہیں نتائج کا سامنا کروائیں۔ یعنی مستقل  نتائج   (consistent consequences)

تاہم بچوں کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط اور محفوظ بنائیں۔

 بچوں میں تعاون پیدا کرنے کا طریقہ

بچہ اس وقت زیادہ cooperate کرتا ہے جب اسے احترام ملتا ہے،  اسے پہلے سے پتا ہوتا ہےکہ  کیا کرنا ہے، اور  اسے choices ملتی ہیں۔ اسی  اس سے حکم کے بجائے تعاون طلب کیا جاتا ہےمثلاًبچے سے کہا جائے “چلو، ہم دونوں مل کر کمرہ سمیٹتے ہیں”۔  یا بچے سے آپشن پوچھے جائیں ۔ کہ “پہلےہوم ورک کریں یا   کمرہ سمیٹیں؟ چوائس تم کر لو۔

 بچوں کو موٹیویٹ کرنے کے مثبت طریقے۔

بچوں پر چیخنے چلانے، انہیں  دوسروں سے کمپئر کرنے یا شرمندہ کرنے سے ان کے اندر موٹیویشن  کم ہوجاتی ہے۔  مثبت موٹیویشن کیلئے انہیں کام کا مقصد بتائیں۔ان کی کوششوں کی تعریف کریں حوصلہ افزائی کریں۔ اسی طرح انہیں ایسے گولز دیں جو وہ اسانی سے حاصل کرسکتے  ہوں۔ چھوٹے چھوٹے اسٹپس میں کرنے کا طریقہ بھی بچوں کو سکھانے سے ان میں موٹیویشن پید ا ہوجاتی ہے۔

مثبت پیرنٹنگ کیلئے خود کو کیسے تیار کریں؟

بچوں کی تربیت شروع کرنے سے پہلے والدین کو خود اپنی تربیت بھی کرنی ہوتی ہے۔ خود کی  تیاری کیلئے اپنے مزاج کا جائزہ لیں اسے بہتر کریں۔ اپنی زبان اور  tone بہتر کریں۔ بچے کی نفسیات اور سائیکالوجی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

بچے  سے غیر حقیقی امید وابستہ نہ کریں۔ میاں بیوی دونوں سیکھنے والی اپروچ اپنائیں۔ ایک دوسرے تعاون کے طریقے اپنا ئیں۔ بچوں کی پیرنٹنگ سے والدین خود پیرنٹنگ کا پورا نظام سیکھنے کی کوشش کریں۔ ایک حقیقت یاد رکھیں بچوں کی تربیت سے پہلے خود  والدین  کی تربیت کی ضرورت پڑتی ہے۔

 گھر میں مثبت پیرنٹنگ کا ماحول کیسے بنائیں؟

گھر کا ماحول بچے کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ مثبت ماحول کے عناصر یہ ہیں:

  • باہمی احترام، نرم گفتگو، گھر کیلئے واضح اصول
  • دعاؤں اور شکرگزاری کی فضا، کم چیخنا، زیادہ  سمجھنا اور سمجھانا
  • اسی طرح فیملی ٹائم کی پابندی
  • ہراصول کی پابندی اور مستقل مزاجی
  • باہمی تعاون کا ماحول وغیرہ۔

 مثبت پیرنٹنگ میں والدین کی عام غلطیاں

پیرنٹنگ کرتے ہوئے والدین سے عام طور نا سمجھی میں غلطیاں ہوجاتی ہیں جن کا خمیازہ اولاد کے بڑے ہوئے کے بعد انہیں بھگتنا پڑتا ہے۔ ذیل میں ان غلطیوں کی نشاندہی کر تے ہیں۔ مثلا ہر چھوٹی بات پر بچوں کو ڈانٹنا، تربیتی عمل میں غیر مستقل مزاجی۔ بچوں پر بہت زیادہ پابندہ۔ بچوں کی صرف غلطیوں پر نظر رکھنا۔ بچے کو سنے بغیر فیصلہ کرنا جس سے بچے متاثر ہوتےہیں۔ اسی طرح ہمیشہ مصروف رہ کر بچے کو کوالٹی ٹائم نہ دینا۔ وغیرہ

اگر یہ غلطیاں ہو جائیں تو مایوس نہ ہوں۔ خود کو بہتر بنانے پر کام شروع کریں۔ رزلٹ آنا شروع ہوجائے گا۔ کیونکہ مثبت پیرنٹنگ پرفیکشن کا نام  نہیں، بلکہ درست ڈائرکشن کا نام ہے۔

 مثبت پیرنٹنگ کیلئے روزانہ کا مختصر عملی پلان:

 مثبت پیرنٹنگ کیلئے آپ روزانہ یہ 7 کام کریں:

  1. بچے کو عزت واحترام اور محبت دیں۔
  2. دن میں کم از کم 10 منٹ بچہ پر پوری توجہ دیں۔
  3. بچے کی ایک اچھی بات کی specific تعریف کریں۔ یعنی اس کوشش کو ہائی لائٹ کرکے تعریف کریں۔
  4. دھیمے اور محبت والے انداز میں مطلوبہ کاموں کی تاکید کریں۔
  5. بچے کے جذبات سنیں او رسمجھنے کی کوشش کریں۔
  6. بچے پر چیخنے کے بجائے تھوڑی دیر کیلئے ٹھہرجائیں۔ اور دھیمے انداز میں بچے کو بات سمجھائیں۔
  7. پیار سے بچے کو ہیومن ٹچ دیں۔

 نتیجہ

مثبت پیرنٹنگ کیسے کریں؟ اس کا جواب ایک جملے میں یہ ہے:
بچے کو محبت، احترام، حدود، رہنمائی، تعلق اور مستقل مزاجی کے ساتھ اس طرح سنبھالیں کہ وہ صرف آپ سے ڈرے نہیں، بلکہ آپ پر اعتماد بھی کرے، آپ کی بات سمجھے بھی، اور آہستہ آہستہ خود کو بہتر بنانا بھی سیکھے۔

مثبت پیرنٹنگ بچوں کو صرف تابعدار بچہ  نہیں بناتی، بلکہ متوازن، ذمہ دار، خوداعتماد اور جذباتی طور پر مضبوط  انسان بنانے میں مدد دیتی ہے۔یہ راستہ آسان تو  نہیں، مگر نہایت بابرکت، مؤثر اور دیرپا ہے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے کے اندر اچھا اخلاق، خود اعتمادی، تعاون، شکرگزاری اور ذمہ داری پیدا ہو، تو آج ہی سے اپنے لہجے، اپنے ردعمل، اپنے وقت اور اپنے تعلق کو بہتر بنانا شروع کریں۔ یہی بچوں کی مثبت پیرنٹنگ اور  تربیت کی اصل بنیاد ہے۔

سوالات وجوابات:

مثبت پیرنٹنگ کیا ہے؟

مثبت پیرنٹنگ بچوں کی ایسی تربیت ہے جس میں محبت، احترام، واضح حدود، جذباتی تعلق اور حکمت کے ساتھ رہنمائی شامل ہو۔

مثبت پیرنٹنگ کیسے کریں؟

بچے کو سنا جائے، پیار سے سمجھایا جائے، واضح rules دیے جائیں، عزت کے ساتھ ڈسپلن کیا جائے اور مستقل مزاجی رکھی جائے۔

کیا مثبت پیرنٹنگ میں سزا نہیں ہوتی؟

اس میں توہیں  آمیز سزا نہیں ہوتی، بلکہ  ٹھنڈے مزاج سے  ڈسپلن کرنے کی کوشش  کے ساتھ بچے کو غلطی کرنے پر منطقی نتائج کا سامنا کرایا جاتاہے۔

چیخے بغیر بچوں کو کیسے سمجھائیں؟

پہلے خود کو ٹھنڈا کریں، پھر بچے سے  مختصر الفاظ میں پرعزم ہوکر  بات کریں، بچے کے جذبات بھی  سمجھیں، اور گھر کے رولز یا اصول  واضح انداز میں دہرائیں۔

پوزیٹیو پیرنٹنگ یا مثبت پیرنٹنگ  کا اصل مقصد کیا ہے؟

اس کا مقصد بچے کو خوف کے بجائے شعور، تعلق، اعتماد اور سیلف ڈسپلن  کے ساتھ بہتر انسان بنانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے