محمدراشد
علامہ محمد اقبال اردو اور فارسی کے عظیم شاعر، مفکر اور فلسفی تھے۔ ان کی شاعری محض جذبات اور خیالات کا اظہار نہیں، بلکہ انسان کو خود شناسی، خود اعتمادی، بلند مقصد اور مسلسل جدوجہد کی دعوت بھی دیتی ہے۔
آج کے دور میں پرسنل ڈویلپمنٹ (Personal Development) یعنی ذاتی ترقی اور شخصیت سازی کے جن تصورات پر گفتگو کی جاتی ہے، ان میں سے کئی پہلو علامہ اقبال کے فلسفے اور شاعری میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔
اقبال کے نزدیک انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر، اپنے کردار کو مضبوط بنا کر اور ایک بامقصد زندگی اختیار کرکے اپنی شخصیت کو بلند کرسکتا ہے۔
اس مضمون میں ہم علامہ اقبال کی شاعری اور پرسنل ڈویلپمنٹ کے تعلق کو سمجھیں گے اور جانیں گے کہ اقبال کا فلسفۂ خودی، خود شناسی، خود اعتمادی اور عمل کا پیغام ہماری عملی زندگی میں کس طرح رہنمائی فراہم کرسکتا ہے۔
علامہ اقبال کا فلسفۂ خودی کیا ہے؟
علامہ اقبال کے فکر و فلسفے میں خودی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اقبال کی خودی سے مراد محض اپنی ذات سے محبت یا خود پسندی نہیں، بلکہ اپنی شخصیت، صلاحیتوں، ذمہ داریوں اور مقصدِ حیات کا شعور حاصل کرنا ہے۔
اقبال کے نزدیک خودی کی تعمیر ایمان، کردار، مسلسل عمل اور اخلاقی بلندی کے ذریعے ہوتی ہے۔ انسان کو اپنی شخصیت اس انداز میں پروان چڑھانی چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانے اور انہیں ایک بلند مقصد کے لیے استعمال کرے۔
اقبال کا مشہور شعر ہے:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
اس شعر میں خودی کی بلندی اور انسان کی باطنی قوت کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اسے عملی زندگی میں اپنی صلاحیتوں کی نشوونما، کردار کی مضبوطی اور بلند اہداف کے لیے جدوجہد کی ترغیب کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
اقبال کی خودی کا مفہوم غرور یا تکبر نہیں، بلکہ خود آگاہی، خودداری اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ اپنی شخصیت کی تعمیر ہے۔
1۔ خود شناسی: اپنی صلاحیتوں اور کمزوریوں کو پہچاننا
پرسنل ڈویلپمنٹ کا پہلا قدم خود شناسی ہے۔ جب تک انسان اپنی خوبیوں، کمزوریوں، دلچسپیوں اور صلاحیتوں کو نہیں پہچانتا، وہ اپنی ترقی کے لیے درست سمت کا انتخاب نہیں کرسکتا۔
علامہ اقبال انسان کو اپنی ذات میں غور و فکر کرنے اور اپنی حقیقت کو پہچاننے کی دعوت دیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن، اپنا تو بن
اس شعر میں خود شناسی اور اپنی شخصیت کو پہچاننے کا پیغام نمایاں ہے۔
عملی طور پر خود شناسی کے لیے انسان کو اپنے آپ سے چند سوالات کرنے چاہییں:
- میری بنیادی صلاحیتیں کیا ہیں؟
- میری کون سی عادات میری ترقی میں رکاوٹ ہیں؟
- میں کن کاموں میں بہتر کارکردگی دکھاتا ہوں؟
- میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟
- میں اپنی صلاحیتوں کو دوسروں کے لیے کس طرح مفید بنا سکتا ہوں؟
اپنی خوبیوں اور کمزوریوں کا جائزہ لینا شخصیت سازی کی بنیاد ہے۔
2۔ خود اعتمادی: اپنی صلاحیتوں پر یقین
خود اعتمادی پرسنل ڈویلپمنٹ کا اہم جزو ہے۔ خود اعتمادی کا مطلب اپنی صلاحیتوں پر مناسب اعتماد رکھنا، مشکلات کا سامنا کرنا اور ناکامی کے باوجود کوشش جاری رکھنا ہے۔
اقبال کی شاعری انسان کو بلند حوصلگی، خودداری اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ترغیب دیتی ہے۔
ان کا مشہور شعر ہے:
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
اس شعر میں بلند پروازی اور محدود سوچ سے آگے بڑھنے کا پیغام ملتا ہے۔
عملی زندگی میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچانے، نئی مہارتیں سیکھے، چھوٹے اہداف مقرر کرے اور اپنی کامیابیوں سے حوصلہ حاصل کرے۔
خود اعتمادی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی کمزوریوں سے انکار کرے، بلکہ اپنی خامیوں کو تسلیم کرتے ہوئے بہتری کی کوشش کرے۔
3۔ مقصدِ حیات: زندگی کو بامعنی بنانا
پرسنل ڈویلپمنٹ میں مقصدِ حیات کی بڑی اہمیت ہے۔ جب انسان کو اپنی زندگی کا مقصد معلوم ہوتا ہے تو اس کے لیے ترجیحات طے کرنا اور اپنے وقت و صلاحیتوں کو درست سمت میں استعمال کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
علامہ اقبال کی شاعری انسان کو بلند مقاصد، خود آگاہی اور بامقصد جدوجہد کی دعوت دیتی ہے۔
اقبال کا یہ شعر مقصد اور خودی کے تعلق کو واضح کرتا ہے:
یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی
اس شعر میں اجتماعی مقصد، اخوت اور محبت کی اہمیت نمایاں ہے۔
عملی طور پر انسان کو اپنی زندگی کے مختلف شعبوں، مثلاً تعلیم، خاندان، معاشرت، پیشہ ورانہ زندگی اور روحانی تربیت کے لیے واضح اہداف مقرر کرنے چاہییں۔
ایک مسلمان کے لیے مقصدِ حیات کا تعین دینی اقدار، اللہ تعالیٰ کی رضا اور انسانیت کے لیے مفید کردار کے ساتھ مربوط ہونا چاہیے۔
4۔ مسلسل جدوجہد: کامیابی کے لیے عمل ضروری ہے
اقبال کی شاعری میں عمل، کوشش اور مسلسل جدوجہد کو نمایاں مقام حاصل ہے۔
انسان صرف خواب دیکھنے سے ترقی نہیں کرتا، بلکہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے عملی اقدامات اور مستقل مزاجی ضروری ہیں۔
اقبال کہتے ہیں:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
اس شعر میں عمل کی اہمیت اور انسانی کردار کی ذمہ داری کو واضح کیا گیا ہے۔
پرسنل ڈویلپمنٹ کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے اہداف کو چھوٹے اور قابلِ عمل مراحل میں تقسیم کرے، روزانہ ان پر کام کرے اور اپنی پیش رفت کا جائزہ لیتا رہے۔
مثلاً اگر کوئی شخص مطالعے کی عادت پیدا کرنا چاہتا ہے تو وہ روزانہ دس صفحات پڑھنے سے آغاز کرسکتا ہے۔ اسی طرح کوئی نئی مہارت سیکھنے کے لیے روزانہ مخصوص وقت مختص کرسکتا ہے۔
مسلسل چھوٹی کوششیں وقت کے ساتھ بڑی تبدیلیوں کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
5۔ کردار سازی اور اخلاقی ترقی
شخصیت سازی صرف ظاہری کامیابی، دولت یا شہرت حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ اچھے اخلاق اور مضبوط کردار کی تعمیر بھی اس کا اہم حصہ ہے۔
علامہ اقبال کی شاعری میں خودداری، سچائی، اخلاص، بلند ہمتی اور اخلاقی ذمہ داری جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔
ان کے نزدیک انسان کی شخصیت کی حقیقی بلندی اس کے کردار اور عمل سے وابستہ ہے۔
عملی زندگی میں کردار سازی کے لیے انسان کو سچ بولنے، وعدہ پورا کرنے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے، اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔
یہی خوبیاں انسان کو ایک قابلِ اعتماد فرد اور معاشرے کا مفید رکن بناتی ہیں۔
6۔ وقت کی قدر اور نظم و ضبط
ذاتی ترقی کے لیے وقت کا درست استعمال اور نظم و ضبط ضروری ہے۔
اقبال کی شاعری انسان کو سستی، بے عملی اور محدود سوچ سے نکل کر اپنے امکانات کو بروئے کار لانے کی دعوت دیتی ہے۔
انسان اگر اپنے وقت کو غیر ضروری سرگرمیوں میں ضائع کرتا رہے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر طور پر استعمال نہیں کر پاتا۔
عملی طور پر وقت کی قدر کرنے کے لیے روزانہ کے اہم کاموں کی فہرست بنائیں، ترجیحات طے کریں اور غیر ضروری مصروفیات کو محدود کریں۔
نظم و ضبط کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے طے شدہ مقاصد کے لیے مستقل مزاجی سے کام کرے، چاہے ہر روز اس کا دل کام کرنے کو نہ بھی چاہے۔
7۔ مشکلات کا سامنا اور بلند حوصلگی
زندگی میں ناکامی، مشکلات اور غیر متوقع حالات کا سامنا ہر انسان کو کرنا پڑتا ہے۔
اقبال کی شاعری مشکلات سے گھبرانے کے بجائے ہمت، کوشش اور بلند حوصلگی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
ان کا مشہور شعر ہے:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اس شعر کو نئے امکانات تلاش کرنے، اپنی حدود سے آگے بڑھنے اور مسلسل ترقی کی کوشش کرنے کے پیغام کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔
عملی زندگی میں ناکامی کو سیکھنے کا موقع سمجھنا، اپنی غلطیوں کا جائزہ لینا اور ضرورت کے مطابق حکمتِ عملی تبدیل کرنا ترقی کے اہم مراحل ہیں۔
علامہ اقبال کی شاعری سے پرسنل ڈویلپمنٹ کے 5 عملی اسباق
اقبال کے فلسفے اور شاعری سے ذاتی ترقی کے لیے درج ذیل عملی اسباق حاصل کیے جا سکتے ہیں:
- خود شناسی: اپنی صلاحیتوں، کمزوریوں اور دلچسپیوں کو پہچانیں۔
- مقصد کا تعین: اپنی زندگی کے لیے واضح اور بامعنی اہداف مقرر کریں۔
- خود اعتمادی: اپنی صلاحیتوں پر اعتماد رکھتے ہوئے نئی مہارتیں سیکھیں۔
- مسلسل جدوجہد: روزانہ اپنے مقاصد کے لیے عملی اقدامات کریں۔
- کردار سازی: اپنی اخلاقی خوبیوں کو بہتر بنائیں اور ذمہ داری کے ساتھ زندگی گزاریں۔
یہ اصول انسان کو اپنی شخصیت بہتر بنانے اور اپنی صلاحیتوں کو بامقصد انداز میں استعمال کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
پرسنل ڈویلپمنٹ اور اقبال کے فلسفے کا تعلق
جدید پرسنل ڈویلپمنٹ میں خود شناسی، خود اعتمادی، اہداف کا تعین، عادات کی اصلاح اور صلاحیتوں کی نشوونما پر توجہ دی جاتی ہے۔
علامہ اقبال کے فلسفے میں بھی خودی، خود آگاہی، عمل، بلند مقصد اور کردار سازی جیسے موضوعات اہم ہیں۔
تاہم اقبال کے فلسفۂ خودی کو جدید پرسنل ڈویلپمنٹ کے ساتھ مکمل طور پر یکساں قرار دینا درست نہیں، کیونکہ اقبال کا تصور ایک وسیع اخلاقی، روحانی اور فلسفیانہ پس منظر رکھتا ہے۔
اگر آپ ذاتی ترقی کے تصور، اس کی اہمیت، فوائد اور عملی طریقوں کے بارے میں مزید تفصیل سے جاننا چاہتے ہیں تو ہمارا پلر آرٹیکل پرسنل ڈویلپمنٹ کیا ہے؟ اہمیت، فوائد اور خود کو بہتر بنانے کے 7 عملی طریقے ضرور پڑھیں۔
خلاصہ
علامہ اقبال کی شاعری انسان کو اپنی ذات پہچاننے، صلاحیتوں کو نکھارنے، بلند مقاصد اختیار کرنے اور مسلسل جدوجہد کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
ان کے فلسفۂ خودی میں خود شناسی، خود اعتمادی، کردار سازی اور بامقصد زندگی کے اہم پہلو موجود ہیں۔
اگر ہم اقبال کے ان پیغامات کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں تو اپنی شخصیت کو بہتر بنانے، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور معاشرے کے لیے مفید کردار ادا کرنے کی سمت میں پیش رفت کرسکتے ہیں۔
اقبال کا پیغام یہی ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچانے، اپنے کردار کو مضبوط بنائے اور اپنی زندگی کو ایک بلند مقصد کے لیے وقف کرے۔
ایجوتربیہ پیرنٹنگ، اسلامی تربیت اور ذاتی نشوونما پر مستند مضامین اور عملی رہنمائی

Good Article Sir Rashid May Allah Bless you with Success..