ڈاکٹرمحمدیونس خالد
انسان زندگی بھر بہت سے سوالات کے جواب تلاش کرتا ہے: میں کیا بنوں؟ کون سا کیریئر اختیار کروں؟ کتنی تعلیم حاصل کروں؟ اچھی جاب کیسے حاصل کروں؟ کاروبار کیسے کامیاب بناؤں؟ زیادہ پیسہ کیسے کماؤں؟
لیکن ان تمام سوالات سے بھی زیادہ بنیادی سوال یہ ہے:
آخر زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟
اگر انسان کو اپنی زندگی کا مقصد ہی معلوم نہ ہو تو وہ تعلیم، دولت، عہدہ، شہرت اور کامیابی حاصل کرنے کے باوجود اندر سے بے سمت رہ سکتا ہے۔ اسلام انسان کو زندگی کا ایک واضح مقصد، سمت اور ترجیح فراہم کرتا ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی کا اصل مقصد صرف دنیاوی کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو پہچاننا، اس کی بندگی کرنا، اس کی رضا حاصل کرنا اور آخرت کی کامیابی کے لیے زندگی گزارنا ہے۔
زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟
قرآن مجید انسان کے مقصدِ تخلیق کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے:
"وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ”
"میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔”
(الذاریات: 56)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا مقصدِ تخلیق اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔
لیکن عبادت کا مطلب صرف نماز، روزہ، تلاوت اور دیگر مخصوص عبادات تک محدود نہیں۔ اسلام میں عبادت ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ انسان اگر حلال روزی کمانے، اپنے خاندان کی کفالت کرنے، علم حاصل کرنے، لوگوں کی خدمت کرنے اور معاشرے میں خیر پھیلانے کا کام اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے تو یہ کام بھی عبادت بن سکتا ہے۔
لہٰذا مقصدِ حیات یہ نہیں کہ انسان دنیا چھوڑ دے، بلکہ یہ ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق گزارے۔
اسلام کا تصورِ حیات کیا ہے؟
اسلام کا تصورِ حیات انسان کو یہ سمجھاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور آخرت کی زندگی دائمی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ”
"اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے۔”
(آل عمران: 185)
اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا بے فائدہ ہے۔ بلکہ دنیا آخرت کی تیاری کا میدان ہے۔ انسان یہاں اپنے اعمال کے ذریعے اپنی آخرت بناتا ہے۔
اسی لیے اسلام دنیا اور آخرت میں تضاد پیدا نہیں کرتا۔ وہ انسان کو دنیا میں محنت کرنے، علم حاصل کرنے، رزق کمانے اور معاشرے کی تعمیر کرنے کی ترغیب دیتا ہے، لیکن یہ سب کچھ آخرت کے بڑے مقصد سے جوڑ دیتا ہے۔
بامقصد زندگی اور بے مقصد زندگی میں کیا فرق ہے؟
بامقصد زندگی وہ ہے جس میں انسان کو معلوم ہو کہ وہ کیوں زندہ ہے، اس کی ترجیحات کیا ہیں اور اسے اپنی زندگی کس سمت میں لے کر جانا ہے۔
اس کے برعکس بے مقصد زندگی میں انسان اکثر دوسروں کی خواہشات، معاشرتی دباؤ، مقابلے اور وقتی خواہشات کے پیچھے چلتا رہتا ہے۔
مثلاً کوئی شخص صرف اس لیے ڈاکٹر بننا چاہتا ہے کہ لوگ اسے کامیاب سمجھیں، کوئی صرف دولت کے لیے کاروبار کرتا ہے اور کوئی صرف شہرت کے لیے اپنا کیریئر بناتا ہے۔ یہ چیزیں بذاتِ خود بری نہیں، لیکن اگر ان کے پیچھے زندگی کا کوئی بلند مقصد نہ ہو تو انسان اپنی کامیابی کے باوجود مقصدِ حیات سے دور ہوسکتا ہے۔
اسلام ہمیں کامیابی کا معیار بھی یاد دلاتا ہے:
"قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا”
"یقیناً وہ کامیاب ہوگیا جس نے اپنے نفس کو پاک کرلیا۔”
(الشمس: 9)
یعنی حقیقی کامیابی صرف باہر کی دنیا میں حاصل ہونے والی کامیابی نہیں بلکہ انسان کی اندرونی اصلاح اور اللہ کے سامنے کامیابی بھی ہے۔
بامقصد اور بامعنی زندگی کیسے گزاری جائے؟
بامقصد اور بامعنی زندگی کے لیے انسان کو اپنی زندگی کے مختلف شعبوں کو اپنے مقصدِ حیات کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔
ایک آسان تصور یوں سمجھیں:
اللہ کی رضا → زندگی کا اصل مقصد → کردار و عمل → تعلیم و کیریئر → خدمتِ انسانیت → دنیا میں مثبت اثر → آخرت کی کامیابی
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا مقصدِ حیات ایک ہو سکتا ہے، لیکن اس مقصد کو پورا کرنے کے ذرائع مختلف ہوسکتے ہیں۔
تعلیم اور مقصدِ حیات
تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں۔ اسلام علم کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔
قرآن میں دعا سکھائی گئی:
"رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا”
"اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔”
(طٰہٰ: 114)
ایک مسلمان طالب علم اپنی تعلیم کو مقصدِ حیات سے یوں جوڑ سکتا ہے:
میں علم اس لیے حاصل کرتا ہوں کہ اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو بہتر بناؤں، اپنی ذات اور معاشرے کے لیے مفید بنوں اور حلال طریقے سے خیر پیدا کرسکوں۔
اس طرح تعلیم صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ شخصیت سازی اور خدمت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
جاب اور مقصدِ حیات
ایک مسلمان کی جاب صرف تنخواہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہونی چاہیے۔
اگر کوئی شخص حلال روزگار کماتا ہے، اپنے والدین اور خاندان کی کفالت کرتا ہے، اپنے کام میں دیانت داری اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے تو اس کی ملازمت بھی نیکی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"کسی شخص نے اس کھانے سے بہتر کھانا نہیں کھایا جو اس نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا۔”
(صحیح البخاری، 2072)
لہٰذا سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ "مجھے کون سی جاب ملے گی؟”
بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے:
"میں اپنی صلاحیتوں کے ذریعے حلال رزق کماتے ہوئے اللہ کی رضا اور لوگوں کی بھلائی کے لیے کیا کرسکتا ہوں؟”
بزنس اور مقصدِ حیات
اسلام میں حلال کاروبار قابلِ قدر ذریعۂ معاش ہے۔ لیکن کاروبار کا مقصد صرف زیادہ سے زیادہ پیسہ جمع کرنا نہیں ہونا چاہیے۔
ایک مسلمان کاروباری شخص کا تصور یہ ہوسکتا ہے:
میں حلال کاروبار کروں گا، دیانت داری اختیار کروں گا، لوگوں کو حقیقی فائدہ دوں گا، اپنے خاندان کی کفالت کروں گا، ملازمین کے حقوق ادا کروں گا اور اپنے مال کو اللہ کی رضا کے کاموں میں استعمال کروں گا۔
قرآن تجارت میں باہمی رضامندی اور حلال کمائی کے اصول کی رہنمائی کرتا ہے:
"اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، مگر یہ کہ باہمی رضامندی سے تجارت ہو۔”
(النساء: 29)
یوں کاروبار بھی مقصدِ حیات سے جڑ سکتا ہے۔
ہر انسان اپنی زندگی کو مقصدِ حیات سے کیسے جوڑے؟
آپ طالب علم ہوں، استاد، ڈاکٹر، انجینئر، تاجر، ملازم، والدین، کسان یا کسی بھی شعبے سے وابستہ ہوں، اپنے لیے یہ پانچ سوالات لکھیں:
1۔ میں اللہ کے سامنے اپنی زندگی کا مقصد کیا سمجھتا ہوں؟
2۔ اللہ نے مجھے کون سی صلاحیتیں دی ہیں؟
3۔ میں ان صلاحیتوں کو کس حلال شعبے میں استعمال کرسکتا ہوں؟
4۔ میرے کام سے لوگوں کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟
5۔ میں اپنی موجودہ زندگی کو آخرت کی کامیابی کے ساتھ کیسے جوڑ سکتا ہوں؟
ان سوالات کے جواب آپ کو اپنے مقصدِ حیات اور عملی زندگی کے درمیان تعلق سمجھنے میں مدد دیں گے۔
کامیاب زندگی کا اسلامی فارمولا
اسلامی تصور کے مطابق زندگی کا مقصد صرف یہ نہیں کہ انسان کتنا کما گیا، کتنا مشہور ہوا یا کتنا بڑا عہدہ حاصل کیا۔
اصل سوال یہ ہے:
اس نے اپنی زندگی کس کے لیے گزاری اور اپنی صلاحیتوں کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔”
(صحیح البخاری، 1؛ صحیح مسلم، 1907)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی ظاہری کام مختلف نیتوں کی وجہ سے مختلف معنویت اختیار کرسکتا ہے۔
ایک استاد اگر صرف تنخواہ کے لیے پڑھاتا ہے اور دوسرا بچوں کی تعلیم و تربیت کو خدمت سمجھ کر انجام دیتا ہے تو دونوں کا ظاہری کام ایک ہوسکتا ہے، لیکن نیت اور مقصد میں فرق ہوسکتا ہے۔
بامقصد اور بامعنی زندگی کا راز
زندگی کا اصل مقصد دنیا کو چھوڑنا نہیں بلکہ دنیا کو آخرت سے جوڑنا ہے۔
تعلیم حاصل کریں، مگر علم کو خیر کے لیے استعمال کریں۔
جاب کریں، مگر حلال کمائی اور دیانت کو اختیار کریں۔
کاروبار کریں، مگر حرام طریقوں سے بچیں اور لوگوں کو فائدہ پہنچائیں۔
خاندان بنائیں، مگر اسے محبت، تربیت اور ذمہ داری کا مرکز بنائیں۔
مال کمائیں، مگر اسے اپنا معبود نہ بنائیں۔
صلاحیتیں حاصل کریں، مگر انہیں اللہ کی عطا سمجھیں۔
اور زندگی کے ہر مرحلے میں یہ سوال سامنے رکھیں:
"کیا میری موجودہ زندگی مجھے اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے قریب لے جارہی ہے؟”
یہی وہ سوچ ہے جو ایک عام زندگی کو بامقصد اور بامعنی زندگی میں تبدیل کرسکتی ہے۔
خلاصہ
زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی رضا کا حصول ہے۔ انسان دنیا میں مختلف کردار اور پیشے اختیار کرسکتا ہے، لیکن اس کا بنیادی مقصد تبدیل نہیں ہوتا۔
کوئی تعلیم کے ذریعے، کوئی جاب کے ذریعے، کوئی کاروبار کے ذریعے، کوئی تدریس کے ذریعے اور کوئی خدمتِ خلق کے ذریعے خیر پیدا کرسکتا ہے۔
اس لیے کامیاب انسان وہ نہیں جو صرف بڑا کیریئر بنا لے، بلکہ وہ ہے جو اپنے کیریئر کو اپنے مقصدِ حیات کے ساتھ جوڑ دے۔
اپنا مقصد پہچانیے، اپنی صلاحیتوں کو درست سمت دیجیے اور اپنی پوری زندگی کو اللہ کی رضا کے لیے بامقصد بنائیے۔
ایجوتربیہ پیرنٹنگ، اسلامی تربیت اور ذاتی نشوونما پر مستند مضامین اور عملی رہنمائی
