bachon ki jazbati nashonuma

بچوں کی جذباتی نشونما کیسے کریں؟ والدین، اساتذہ کیلئے پریکٹیکل گائیڈ

بچوں کی جذباتی نشونما  پیرنٹنگ تربیت کا اہم ترین حصہ ہے۔ کیونکہ بچے صرف جسمانی یا ذہنی طور پر نشونما نہیں پاتے، بلکہ ان کے اندر جذباتی دنیا بھی آہستہ آہستہ تشکیل پا رہی ہوتی ہے۔ یہی جذباتی دنیا بعد میں ان کے اعتماد، تعلقات، پڑھائی، رویّے، برداشت، صبر، ہمدردی، اور زندگی کے بڑے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

 اسی لیے بچوں کی جذباتی نشونما محض ایک اضافی موضوع نہیں بلکہ اچھی تربیت، بہتر تعلیم، اور مضبوط شخصیت کی اہم ترین بنیاد ہے۔

اکثر والدین بچوں کی خوراک، تعلیم، اور ڈسپلن پر توجہ دیتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر بچہ اپنے جذبات کو سمجھنا، بیان کرنا، اور سنبھالنا نہ سیکھے تو وہ اندر سے کمزور، چڑچڑا، ضدی، یا حد سے زیادہ حساس بن سکتا ہے۔

دوسری طرف جس بچے کی جذباتی نشوونما بہتر ہو، وہ ناکامی میں بھی خود کو سنبھال سکتا ہے، دوسروں کے جذبات سمجھ سکتا ہے۔ وہ اپنی بات مناسب انداز میں کہ سکتا ہے، اور زندگی کے دباؤ کا بہتر مقابلہ کرسکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بچوں کی جذباتی نشونما کیسے کریں یہ سوال آج کے تمام والدین، اساتذہ، اور مربی حضرات کے لیے نہایت اہم ہوچکا ہے۔ اس جامع اور پریکٹیکل گائیڈ میں ہم سمجھیں گے کہ بچوں کی جذباتی نشوونما کیا ہے؟ اس کی اہمیت کیا ہے؟

 کن علامات سے پتہ چلتا ہے کہ بچہ جذباتی طور پر مضبوط یا کمزور ہو رہا ہے، اور والدین روزمرہ زندگی میں کن عملی اقدامات کے ذریعے اپنے بچوں کی جذباتی تربیت بہتر بنا سکتے ہیں۔

بچوں کی جذباتی نشونما سے کیا مراد ہے؟

بچوں کی جذباتی نشونما سے مراد بچے کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہونا ہے کہ وہ اپنے جذبات کو پہچانے، انہیں مناسب انداز سے ظاہر کرے، دوسروں کے احساسات کو سمجھے، اور مشکل حالات میں اپنے ردِعمل کو متوازن رکھ سکے۔

یعنی بچہ یہ سیکھے کہ:

  • اسے غصہ کیوں آیا
  • وہ اداس کیوں ہوا
  • اسے خوف کس چیز سے محسوس ہوتا ہے
  • خوشی کو کس طرح شیئر کیا جاتا ہے
  • مایوسی میں خود کو کیسے سنبھالا جاتا ہے
  • دوسروں کے دکھ اور خوشی کو کیسے سمجھا جاتا ہے

یہی صلاحیت بعد میں emotional intelligence، self-control، empathy، patience، اور resilience کی شکل اختیار کرتی ہے۔

بچوں کی جذباتی نشونما کیوں ضروری ہے؟

اگر والدین شروع سے بچوں کی جذباتی نشونما پر توجہ دیں تو اس کے اثرات بچے کی پوری زندگی پر پڑتے ہیں۔ جذباتی طور پر متوازن بچہ:

  • زیادہ پُراعتماد ہوتا ہے
  • اپنی بات بہتر انداز میں کہتا ہے
  • دوسروں سے بہتر تعلقات بناتا ہے
  • غصہ، ضد، اور حسد کو نسبتاً بہتر سنبھالتا ہے
  • ناکامی کے بعد جلد سنبھل جاتا ہے
  • کلاس روم میں بہتر سیکھتا ہے
  • ذہنی دباؤ کا مقابلہ بہتر کرتا ہے
  • سماجی زندگی میں زیادہ کامیاب رہتا ہے

اس کے برعکس اگر بچے کے جذبات کو مسلسل نظر انداز کیا جائے، اسے ڈانٹ کر خاموش کرایا جائے، یا اس کے احساسات کو کم تر سمجھا جائے تو وہ یا تو حد سے زیادہ حساس ہو جاتا ہے، یا جذبات چھپانے لگتا ہے، یا پھر غصہ، ضد، خوف، بے اعتمادی، اور تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔

جذباتی طور پر صحت مند بچے کی نشانیاں

ہر بچہ الگ ہوتا ہے، مگر کچھ عمومی نشانیاں یہ بتاتی ہیں کہ بچے کی جذباتی نشوونما درست سمت میں جا رہی ہے:

  1. وہ اپنے احساسات کو لفظوں میں بیان کرنے لگتا ہے

مثلاً: “مجھے برا لگا”، “میں ڈر گیا تھا”، “مجھے حسد ہورہا ہے”، “میں خوش ہوں۔”

  1. وہ غلطی کے بعد فوراً ٹوٹ نہیں جاتا

بچہ ناراض تو ہوتا ہے، مگر کچھ مدد ملنے پر سنبھل جاتا ہے۔

  1. وہ دوسروں کے احساسات محسوس کرتا ہے

مثلاً اگر کسی دوست کو چوٹ لگے تو اسے پریشانی محسوس ہو۔

  1. وہ انتظار اور برداشت سیکھتا ہے

ہر خواہش فوری پوری نہ ہونے پر بھی مکمل بکھر نہ جائے۔

  1. وہ محفوظ تعلق محسوس کرتا ہے

اسے یقین ہو کہ میرے والدین میری بات سنیں گے اور مجھے قبول کریں گے۔

بچوں کی جذباتی نشونما میں رکاوٹ بننے والی عام غلطیاں

کئی بار والدین نیت اچھی رکھتے ہیں لیکن چند عام غلطیاں بچے کی جذباتی تربیت کو نقصان پہنچا دیتی ہیں۔

ہر احساس کو ڈانٹ سے روک دینا

“چپ ہو جاؤ”، “اتنی سی بات پر رونا بند کرو”، “بڑے ہوکر بھی ڈرتے ہو؟”
ایسے جملے بچے کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ اس کے جذبات غلط ہیں۔

بچے کا مذاق اڑانا

اگر بچہ ڈر، رنج، شرمندگی یا حسد کا اظہار کرے اور بڑوں کی طرف سے مذاق بنے، تو وہ آئندہ اپنے احساسات چھپانے لگتا ہے۔

صرف کارکردگی پر توجہ دینا

جب والدین ہمیشہ نمبر، کامیابی، یا فرمانبرداری پر زور دیتے ہیں مگر بچے کی اندرونی کیفیت نہیں سنتے، تو بچہ emotionally disconnected ہو سکتا ہے۔

مستقل چیخنا یا سخت ردِعمل

گھر کا ماحول اگر ہمیشہ تناؤ، چیخ، تنقید، یا خوف پر مبنی ہو تو بچوں کی جذباتی نشونما متاثر ہوتی ہے۔

بچے کا دوسروں سے موازنہ

“دیکھو تمہارا بھائی کتنا سمجھدار ہے”، “فلاں بچہ کتنا مضبوط ہے”
موازنہ بچے میں احساسِ کمتری، حسد، اور ناراضی پیدا کرتا ہے۔

بچوں کی جذباتی نشونما کیسے کریں؟ والدین کیلئے پریکٹیکل گائیڈ

اب اصل سوال یہ ہے کہ بچوں کی جذباتی نشونما کیسے کریں؟ اس کے لیے چند نہایت عملی اور مؤثر اصول درج ذیل ہیں۔

  1. بچے کے جذبات کو پہچانیں اور نام دیں

بچے ہمیشہ اپنے احساسات کو الفاظ میں بیان نہیں کر پاتے۔ کبھی وہ غصہ کرتے ہیں، کبھی خاموش ہو جاتے ہیں، کبھی روتے ہیں، کبھی ضد کرنے لگتے ہیں۔ والدین کا کام صرف رویّہ دیکھنا نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود احساس کو سمجھنا ہے۔

مثلاً:

  • “لگتا ہے تمہیں برا لگا ہے”
  • “تم شاید اس وقت پریشان ہو”
  • “مجھے لگ رہا ہے تم ناراض ہو کیونکہ تمہاری بات نہیں سنی گئی”

جب آپ بچے کے جذبات کو نام دیتے ہیں تو وہ آہستہ آہستہ self-awareness سیکھتا ہے۔ یہی جذباتی نشوونما کا پہلا قدم ہے۔

  1. احساسات کو قبول کریں، ہر رویّے کو نہیں

یہ بہت اہم اصول ہے۔ ہر احساس جائز ہو سکتا ہے، لیکن ہر رویّہ درست نہیں ہوتا۔
مثلاً آپ کہہ سکتے ہیں:

“مجھے معلوم ہے تمہیں بہت غصہ آیا ہے، لیکن مارنا درست نہیں ہے۔”

اس جملے میں آپ نے:

  • بچے کے احساس کو تسلیم کیا
  • مگر غلط عمل کو limit بھی دی

یہی balanced parenting ہے۔ اس سے بچہ سیکھتا ہے کہ جذبات رکھنا غلط نہیں، مگر انہیں سنبھالنا ضروری ہے۔

  1. بچے کو غور سے سنیں

بہت سے بچوں کو نصیحت سے زیادہ سننے والے کان چاہیے ہوتے ہیں۔ جب بچہ کچھ کہنا چاہے تو فوراً لیکچر شروع نہ کریں۔ پہلے سنیں، پھر سمجھیں، پھر جواب دیں۔

چند خوبصورت جملے:

  • “میں تمہاری بات سن رہا ہوں”
  • “پوری بات بتاؤ”
  • “پھر کیا ہوا؟”
  • “اس وقت تمہیں کیسا لگا؟”

جب بچہ یہ محسوس کرتا ہے کہ میری بات اہم ہے تو اس کے اندر اعتماد، تعلق، اور emotional safety بڑھتی ہے۔ بچوں کی جذباتی نشونما کیلئے یہ بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔

  1. گھر میں محفوظ اور پُرسکون ماحول بنائیں

بچہ اپنے جذبات کو سب سے پہلے گھر کے ماحول سے سیکھتا ہے۔ اگر گھر میں احترام، نرمی، گفتگو، اور قبولیت ہو تو بچہ بھی ایسا ہی بنتا ہے۔ اگر گھر میں مسلسل چیخنا، طنز، تحقیر، اور خوف ہو تو بچہ یا تو aggressive ہو جاتا ہے یا emotionally withdrawn۔

اس لیے:

  • شوہر اور بیوی ایک دوسرے سے احترام سے بات کریں
  • بچوں کے سامنے حد سے زیادہ جھگڑے نہ ہوں
  • غلطی پر اصلاح ہو، تذلیل نہ ہو
  • گھر میں شفقت اور ترتیب دونوں موجود ہوں
  1. بچے کو جذبات ظاہر کرنے کا درست طریقہ سکھائیں

صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ “غصہ مت کرو”۔ اصل تربیت یہ ہے کہ بچہ سیکھے:

  • غصہ آئے تو گہری سانس لے
  • اداسی ہو تو کسی سے بات کرے
  • خوف ہو تو سوال پوچھے
  • مایوسی ہو تو تھوڑا وقفہ لے
  • حسد ہو تو اپنے احساس کو پہچان کر شکر کی مشق کرے

والدین بچوں کو یہ جملے سکھا سکتے ہیں:

  • “میں ناراض ہوں”
  • “مجھے مدد چاہیے”
  • “مجھے یہ بات پسند نہیں آئی”
  • “میں ابھی تھوڑا upset ہوں”

یہ الفاظ بچے کو emotional language دیتے ہیں، جو بچوں کی جذباتی نشونما میں بہت مددگار ہے۔

  1. خود نمونہ بنیں

بچے کانوں سے کم اور آنکھوں سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود ہر بات پر پھٹ پڑیں، غصے میں چیخیں، دوسروں کو برا کہیں، یا اپنے جذبات کو بے قابو انداز میں ظاہر کریں تو بچہ وہی انداز اپنا لیتا ہے۔

اس کے برعکس اگر والدین کہیں:

  • “میں اس وقت ناراض ہوں، مجھے دو منٹ چاہئیں”
  • “میں نے سخت لہجے میں بات کی، یہ میری غلطی تھی”
  • “میں پریشان ہوں مگر میں سنبھلنے کی کوشش کر رہا ہوں”

تو بچہ عملی طور پر emotional regulation سیکھتا ہے۔

  1. بچے کے ساتھ روزانہ خاص وقت گزاریں

ہر روز 15 سے 20 منٹ کا focused وقت بچے کیلئے حیرت انگیز نتائج دے سکتا ہے۔ اس دوران:

  • موبائل دور رکھیں
  • صرف بچے کی بات سنیں
  • اس کے ساتھ کھیلیں
  • اس کے دن کے بارے میں پوچھیں
  • اس کی چھوٹی کامیابیوں کو appreciate کریں

یہ مختصر مگر معیاری وقت بچے کو emotional security دیتا ہے۔ ایسی security کے بغیر بچوں کی جذباتی نشونما ادھوری رہتی ہے۔

  1. بچے کو empathy سکھائیں

جذباتی طور پر mature بچہ صرف اپنے احساسات نہیں بلکہ دوسروں کے احساسات بھی سمجھتا ہے۔ یہ empathy ہے، اور یہی اچھی شخصیت، اچھے تعلقات، اور اچھی تربیت کا اہم حصہ ہے۔

آپ روزمرہ زندگی میں پوچھ سکتے ہیں:

  • “اگر تمہاری جگہ وہ بچہ ہوتا تو کیسا محسوس کرتا؟”
  • “تمہارے دوست کو برا کیوں لگا ہوگا؟”
  • “اگر کسی کا کھلونا ٹوٹ جائے تو اسے کیسا لگے گا؟”

کہانیوں، واقعات، اور گھریلو حالات کے ذریعے بچے میں empathy پیدا کی جا سکتی ہے۔

  1. بچے کی غلطیوں پر صرف سزا نہیں، رہنمائی دیں

اگر بچہ چیخے، چیز پھینکے، جھوٹ بولے، یا ضد کرے تو صرف سزا دینے سے مسئلہ جڑ سے حل نہیں ہوتا۔ والدین کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس رویّے کے پیچھے کون سا unmet emotion ہے۔

خود سے پوچھیں:

  • کیا بچہ تھکا ہوا تھا؟
  • کیا اسے نظر انداز کیا گیا؟
  • کیا وہ حسد محسوس کر رہا تھا؟
  • کیا وہ کسی خوف یا دباؤ میں تھا؟

جب اصل وجہ سمجھی جاتی ہے تو اصلاح زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ یہی جذباتی تربیت کا سمجھدار انداز ہے۔

  1. اسکرین کے بجائے تعلق کو ترجیح دیں

آج کے دور میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے بچے boredom، loneliness، یا emotional discomfort سے بچنے کیلئے فوراً اسکرین کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اس سے وقتی سکون تو ملتا ہے، مگر جذبات کو سمجھنے اور regulate کرنے کی قدرتی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے۔

اس لیے:

  • ہر رونے پر موبائل نہ دیں
  • boredom کو creative play میں بدلیں
  • گھر میں گفتگو، کتاب، کہانی، کھیل، اور outdoor activity بڑھائیں
  1. عمر کے لحاظ سے توقعات رکھیں

ہر عمر کی جذباتی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ تین سال کا بچہ فوراً self-control نہیں سیکھ سکتا، جبکہ دس سال کے بچے سے کچھ زیادہ ذمہ دارانہ اظہار کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔

چھوٹے بچوں میں

  • رونا، clinginess، اور جلد frustration عام بات ہے

اسکول جانے والے بچوں میں

  • comparison، self-image، اور friendship issues بڑھتے ہیں

pre-teen یا بڑے بچوں میں

  • sensitivity، identity، mood swings، اور privacy کی ضرورت بڑھتی ہے

اس لیے بچوں کی جذباتی نشونما میں age-appropriate expectations بہت ضروری ہیں۔

  1. تعریف صرف کامیابی کی نہیں، کوشش کی کریں

جب آپ صرف نتیجے کی تعریف کرتے ہیں تو بچہ performance-based self-worth بناتا ہے۔ مگر جب آپ کوشش، صبر، ایمانداری، نرمی، اور جذباتی maturity کی تعریف کرتے ہیں تو اس کی اندرونی شخصیت مضبوط ہوتی ہے۔

مثلاً:

  • “مجھے اچھا لگا کہ تم نے غصے کے باوجود ہاتھ نہیں اٹھایا”
  • “تم نے اپنی بہن کا احساس کیا، یہ بہت خوبصورت بات ہے”
  • “تم اداس تھے لیکن تم نے بات کرکے مسئلہ بتایا، یہ بہت اچھی بات ہے”

اساتذہ اور مربی حضرات بچوں کی جذباتی نشونما میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟

بچوں کی جذباتی نشونما صرف گھر کی ذمہ داری نہیں۔ اساتذہ، مدرسہ یا اسکول کے مربی، اور تربیتی ماحول بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اساتذہ اگر:

  • بچے کو عزت سے مخاطب کریں
  • کلاس میں محفوظ ماحول بنائیں
  • شرمندہ کرنے کے بجائے سمجھائیں
  • اجتماعی سرگرمیوں سے cooperation بڑھائیں
  • بچوں کے جذباتی مسائل کو نوٹ کریں

تو بچے کی emotional growth بہت بہتر ہو سکتی ہے۔

کب والدین کو زیادہ سنجیدہ ہونا چاہیے؟

اگر بچہ مسلسل:

  • بہت زیادہ غصہ کرے
  • ہر وقت خوفزدہ رہے
  • غیر معمولی حد تک خاموش ہو جائے
  • دوسروں سے کٹنے لگے
  • بار بار رونے لگے
  • خود کو کم تر سمجھے
  • نیند، پڑھائی، یا تعلقات میں واضح مسئلہ دکھائے

تو والدین کو اس پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ پہلے گھر کے ماحول، تعلق، اور گفتگو کو بہتر کریں۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو کسی ماہرِ نفسیات، child counselor، یا تربیتی رہنما سے مشورہ لینا مفید ہو سکتا ہے۔

نتیجہ

بچوں کی جذباتی نشونما ایک دن یا ایک نصیحت سے نہیں ہوتی۔ یہ محبت، توجہ، سماعت، رہنمائی، حدود، اور مسلسل نمونہ بننے سے پروان چڑھتی ہے۔ اگر والدین بچے کے جذبات کو سمجھنے لگیں، انہیں رد کرنے کے بجائے قبول کریں، اور جذبات ظاہر کرنے کا درست طریقہ سکھائیں تو بچہ اندر سے مضبوط، متوازن، پُراعتماد، اور مہذب شخصیت کا مالک بن سکتا ہے۔

یاد رکھیں، باصلاحیت بچہ ہونا اچھی بات ہے، مگر جذباتی طور پر صحت مند بچہ ہونا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ کیونکہ جو بچہ اپنے دل کو سمجھتا ہے، وہی زندگی کو بہتر انداز میں سنبھالتا ہے۔ اس لیے اگر آپ واقعی اپنے بچے کے روشن مستقبل کے خواہاں ہیں تو آج ہی سے بچوں کی جذباتی نشونما کیسے کریں اس سوال کو اپنی تربیت کا مرکزی حصہ بنائیے۔

آپ کا پیار، آپ کی گفتگو، آپ کا رویّہ، اور آپ کی موجودگی بچے کے دل کی دنیا بناتے ہیں۔ اور یہی دنیا کل اس کی شخصیت، سوچ، تعلقات، اور کامیابیوں کی بنیاد بنتی ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

1) بچوں کی جذباتی نشونما سے کیا مراد ہے؟

بچوں کی جذباتی نشونما سے مراد یہ ہے کہ بچہ اپنے جذبات کو پہچاننا، سمجھنا، مناسب انداز میں ظاہر کرنا، اور دوسروں کے احساسات کو محسوس کرنا سیکھے۔ اس میں غصہ، خوف، اداسی، خوشی، حسد، مایوسی اور محبت جیسے احساسات کو متوازن انداز میں سنبھالنا شامل ہے۔

2) بچوں کی جذباتی نشونما کیوں ضروری ہے؟

یہ اس لیے ضروری ہے کیونکہ اچھی جذباتی نشونما بچے کی شخصیت، اعتماد، تعلقات، پڑھائی، صبر، برداشت اور فیصلہ سازی پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ جذباتی طور پر مضبوط بچہ مشکلات کا بہتر مقابلہ کرتا ہے اور دوسروں کے ساتھ اچھا تعلق قائم کرتا ہے۔

3) والدین بچوں کی جذباتی نشونما کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟

والدین بچوں کی بات غور سے سن کر، ان کے جذبات کو تسلیم کرکے، ان پر چیخنے کے بجائے رہنمائی دے کر، گھر میں پُرسکون ماحول قائم کرکے، اور خود اچھا نمونہ بن کر بچوں کی جذباتی نشونما بہتر بنا سکتے ہیں۔ روزانہ کچھ وقت صرف بچے کیلئے نکالنا بھی بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔

4) اگر بچہ بہت جلد غصہ کرتا ہو تو کیا کریں؟

سب سے پہلے بچے کے غصے کے پیچھے موجود وجہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ اسے فوراً ڈانٹنے کے بجائے کہیں: “مجھے معلوم ہے تم ناراض ہو، لیکن مارنا یا چیخنا درست نہیں۔” پھر اسے جذبات ظاہر کرنے کے بہتر طریقے سکھائیں، جیسے گہری سانس لینا، بات کرنا، یا چند منٹ پرسکون بیٹھنا۔

5) کیا بچوں کے رونے یا اداس ہونے پر فوراً روک دینا درست ہے؟

نہیں، ہر بار فوراً خاموش کرانا درست نہیں۔ رونا، اداس ہونا یا ڈر جانا انسانی جذبات ہیں۔ اگر والدین ہر احساس کو دبا دیں تو بچہ اپنے جذبات چھپانا سیکھ لیتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ پہلے اس کے احساس کو سمجھیں، پھر نرمی سے اسے سنبھالنے میں مدد دیں۔

6) بچوں میں empathy کیسے پیدا کی جا سکتی ہے؟

بچوں میں empathy پیدا کرنے کیلئے والدین اور اساتذہ انہیں دوسروں کے احساسات پر غور کرنا سکھائیں۔ مثلاً پوچھیں: “اگر تمہاری جگہ وہ ہوتا تو کیسا محسوس کرتا؟” کہانیوں، روزمرہ واقعات، اور عملی مثالوں کے ذریعے بچے دوسروں کا احساس سمجھنا سیکھتے ہیں۔

7) اسکرین ٹائم بچوں کی جذباتی نشونما پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟

ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی جذباتی نشونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ بچہ boredom، اداسی یا تناؤ کو قدرتی انداز میں سنبھالنے کے بجائے موبائل یا اسکرین پر انحصار کرنے لگتا ہے۔ اس لیے والدین کو اسکرین کے ساتھ ساتھ کھیل، گفتگو، کہانی اور خاندانی وقت کو بڑھانا چاہیے۔

8) جذباتی طور پر صحت مند بچے کی نشانیاں کیا ہیں؟

جذباتی طور پر صحت مند بچہ اپنے احساسات کو کچھ حد تک بیان کر سکتا ہے، دوسروں کے جذبات کو سمجھنے لگتا ہے، غلطی یا ناکامی کے بعد جلد سنبھل جاتا ہے، مناسب رہنمائی کے ساتھ خود کو قابو میں رکھتا ہے، اور والدین یا اساتذہ کے ساتھ محفوظ تعلق محسوس کرتا ہے۔

9) اساتذہ بچوں کی جذباتی نشونما میں کیا کردار ادا کرتے ہیں؟

اساتذہ بچوں کیلئے کلاس روم میں محفوظ، باعزت اور حوصلہ افزا ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔ وہ بچوں کی بات سن کر، ان کی شرمندگی سے بچا کر، تعاون اور احترام کی فضا قائم کرکے، اور جذباتی مسائل کو سمجھ کر بچوں کی جذباتی نشونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

10) کب والدین کو کسی ماہر سے مشورہ لینا چاہیے؟

اگر بچہ مسلسل شدید غصہ کرے، بہت زیادہ خوفزدہ رہے، غیر معمولی خاموشی اختیار کر لے، دوسروں سے کٹنے لگے، بار بار روتا رہے، یا اس کی پڑھائی، نیند اور تعلقات بری طرح متاثر ہوں تو والدین کو کسی child counselor، psychologist یا تربیتی ماہر سے مشورہ لینا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے