پیرنٹنگ چیلنجز اور ان سے نمٹنے کا موثر طریقہ

دورِ حاضر کے پیرنٹنگ چیلنجز اور ان سے نمٹنے کا موثر طریقہ کیا ہے؟ والدین کیلئے مکمل گائیڈ

آج کے دور میں بچوں کی تربیت صرف کھانے، لباس، تعلیم اور ڈسپلن تک محدود مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت ذمہ داری بن چکی ہے۔ والدین پہلے کے مقابلے میں زیادہ باخبر بھی ہیں اور زیادہ پریشان بھی۔

ایک طرف موبائل، سوشل میڈیا، اسکرین، تعلیمی دباؤ، دوستوں کا اثر، جذباتی مسائل اور بدلتے ہوئے معاشرتی رجحانات ہیں، تو دوسری طرف والدین کے پاس وقت کی کمی، ذہنی تھکن اور تربیتی کنفیوژن بھی موجود ہے۔ اسی پس منظر میں پیرنٹنگ چیلنجز اور ان سے نمٹنے کا موثر طریقہ سمجھنا ہر ماں، باپ اور استاد کیلئے نہایت ضروری ہو گیا ہے۔

بہت سے والدین یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ بچوں کیلئے اچھا چاہتے ہیں، مگر یہ واضح نہیں ہوتا کہ کہاں سختی کرنی ہے، کہاں نرمی، کہاں نگرانی، کہاں اعتماد، کہاں آزادی دینی ہے اور کہاں حدود قائم کرنی ہیں۔ یہی کنفیوژن دورِ حاضر کی پیرنٹنگ کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم موجودہ پیرنٹنگ چیلنجز اور ان سے نمٹنے کا موثر طریقہ کو جذباتی انداز میں نہیں بلکہ ایک منظم، عملی اور مرحلہ وار فریم ورک کے ساتھ سمجھیں۔

یہ مضمون اسی مقصد کیلئے تحریر کیا گیا ہے۔ اس میں ہم جدید دور کے اہم تربیتی مسائل، ان کی جڑیں، والدین اور اساتذہ کی ذمہ داریاں، اور ان سے نمٹنے کے عملی طریقے پر تفصیل سے بات کریں گے، تاکہ یہ مضمون صرف ایک نظری بحث نہ رہے بلکہ ایک حقیقی رہنما بن سکے۔

دورِ حاضر میں پیرنٹنگ اتنی مشکل کیوں ہو گئی ہے؟

پہلے زمانے میں بھی بچوں کی تربیت آسان نہیں تھی، لیکن آج کا فرق یہ ہے کہ اب بچہ صرف گھر اور اسکول سے نہیں سیکھتا، بلکہ اس کی تربیت پر موبائل، یوٹیوب، سوشل میڈیا، گیمز، اشتہارات، دوست، مشہور شخصیات اور ڈیجیٹل کلچر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ یوں والدین اب اکیلے تربیت نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ ان کے مقابلے میں کئی غیر مرئی “اساتذہ” بھی موجود ہوتے ہیں جو بچے کے ذہن، مزاج، خواہشات اور عادات کو متاثر کر رہے ہوتے ہیں۔

دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ آج والدین خود بھی دباؤ میں ہیں۔ معاشی مسائل، وقت کی کمی، ازدواجی کشیدگی، کام کا بوجھ، ذہنی تھکن اور مسلسل مصروفیت کی وجہ سے بہت سے والدین بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزارنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تربیت ردِعمل پر مبنی ہو جاتی ہے، منصوبہ بندی پر نہیں۔ یعنی جب بچہ غلطی کرتا ہے تو ردعمل آتا ہے، مگر پہلے سے واضح تربیتی نظام موجود نہیں ہوتا۔

اسی لئے پیرنٹنگ چیلنجز اور ان سے نمٹنے کا موثر طریقہ سمجھنے کیلئے ہمیں پہلے یہ ماننا ہوگا کہ مسئلہ صرف بچوں میں نہیں، ماحول، روٹین، ترجیحات اور تربیتی انداز میں بھی ہے۔

سب سے اہم پیرنٹنگ چیلنجز کون سے ہیں؟

1) اسکرین اور موبائل کا بڑھتا ہوا اثر

آج کا سب سے بڑا مسئلہ بچوں کا اسکرین سے غیر معمولی تعلق ہے۔ موبائل، ٹیبلٹ، یوٹیوب، گیمز اور شارٹ ویڈیوز بچوں کی توجہ، صبر، نیند، مزاج، گفتگو اور سیکھنے کے انداز پر گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔ کئی بچے اتنے جلدی عادی ہو جاتے ہیں کہ انہیں آف لائن زندگی بور لگنے لگتی ہے۔ وہ کھیل، کتاب، گھر کی گفتگو، حتیٰ کہ کھانا بھی اسکرین کے بغیر پسند نہیں کرتے۔

یہ مسئلہ صرف اس لئے خطرناک نہیں کہ وقت ضائع ہوتا ہے، بلکہ اس لئے بھی کہ مسلسل فوری تفریح بچے کی توجہ کی صلاحیت، ضبطِ نفس اور delayed gratification کو کمزور کرتی ہے۔ پھر جب والدین پڑھائی، نماز، ذمہ داری یا کسی اور معمول کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں تو بچہ جلدی frustrate ہو جاتا ہے۔

2) بچوں میں ضد، غصہ اور نافرمانی

بہت سے والدین شکایت کرتے ہیں کہ بچے بات نہیں مانتے، فوراً غصہ کرتے ہیں، چیختے ہیں، ضد کرتے ہیں یا معمولی بات پر emotional outburst دکھاتے ہیں۔ یہ صرف “بگڑ جانے” کی علامت نہیں، بلکہ اکثر emotional regulation کی کمزوری، inconsistent parenting یا attention-seeking behavior کی نشانی بھی ہو سکتی ہے۔

اگر بچہ ہر بات پر reaction دیتا ہے، تو اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسے boundaries کی عادت نہیں دی گئی، یا اس کے جذبات کو کبھی صحیح طریقے سے سمجھایا نہیں گیا۔

3) تعلیمی دباؤ اور کارکردگی کی دوڑ

آج والدین اور اساتذہ دونوں بچوں سے بڑی توقعات رکھتے ہیں۔ اچھے نمبر، اچھی زبان، اچھی skills، اچھی co-curricular performance، confidence، discipline، deen، manners — سب کچھ ایک ہی بچے سے ایک ہی وقت میں مطلوب ہوتا ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب تربیت توازن کھو دیتی ہے اور بچہ ایک “پروجیکٹ” بن جاتا ہے، انسان نہیں۔

تعلیمی دباؤ کئی بچوں میں anxiety، کم خود اعتمادی، comparison اور ناکامی کے خوف کو بڑھا دیتا ہے۔ پھر وہ یا تو دب جاتے ہیں یا بغاوت کی طرف جاتے ہیں۔

4) دینی، اخلاقی اور سماجی اقدار کی کمزوری

بہت سے والدین کو یہ فکر ہوتی ہے کہ بچے ادب، حیا، سچائی، احترام، ذمہ داری اور دینی وابستگی میں کمزور ہو رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج معلومات بہت ہیں، مگر meaningful تربیت کم ہے۔ بچے کو “کیا صحیح ہے” یہ بتا دیا جاتا ہے، مگر “کیوں صحیح ہے” اور “کیسے اپنانا ہے” یہ کم سکھایا جاتا ہے۔

5) والدین اور بچوں کے درمیان communication gap

کئی گھروں میں بچے والدین سے ڈرتے تو ہیں، مگر کھل کر بات نہیں کرتے۔ بعض جگہ والدین بچوں کی بات سنتے کم اور حکم زیادہ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ اپنی پریشانی، خوف، غلطی یا confusion دوستوں، انٹرنیٹ یا تنہائی کے ساتھ شیئر کرتا ہے، والدین کے ساتھ نہیں۔

یہ gap آج کے دور کا ایک بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ جن بچوں کا والدین سے تعلق کمزور ہو، وہ باہر کے اثرات کے مقابلے میں زیادہ vulnerable ہوتے ہیں۔

ان چیلنجز کی اصل وجوہات کیا ہیں؟

یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ پیرنٹنگ چیلنجز اور ان سے نمٹنے کا موثر طریقہ صرف اس وقت سمجھ میں آئے گا جب ہم وجوہات کو درست انداز میں دیکھیں۔ اکثر والدین ہر مسئلے کی وجہ بچے کے مزاج یا نافرمانی کو سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ اصل اسباب کہیں گہرے ہوتے ہیں۔

بڑی وجوہات میں یہ شامل ہیں:
گھر میں بےقاعدہ روٹین، inconsistent discipline، والدین کا خود اسکرین میں مصروف رہنا، بچے کے ساتھ معیاری وقت کی کمی، بار بار ڈانٹ اور کم تعریف، عمر کے مطابق expectations نہ رکھنا، تربیت میں جلد بازی، اور گھر و اسکول کے درمیان عدم ہم آہنگی۔

بعض اوقات بچے کا مسئلہ رویہ نہیں، unmet need ہوتی ہے۔ اسے attention چاہیے ہوتی ہے، تعلق چاہیے ہوتا ہے، structure چاہیے ہوتا ہے، یا acceptance چاہیے ہوتی ہے۔ جب یہ چیزیں نہیں ملتیں تو مسئلہ غصہ، سستی، ضد، جھوٹ یا withdrawal کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

 

پیرنٹنگ چیلنجز اور ان سے نمٹنے کا موثر طریقہ کیا ہے؟

اب اصل سوال یہ ہے کہ عملی طور پر کیا کیا جائے؟ یہاں ایک step-by-step فریم ورک پیش کیا جا رہا ہے جو والدین اور اساتذہ دونوں کیلئے مفید ہو سکتا ہے۔

پہلا مرحلہ: ردِعمل کے بجائے سمجھنے کی عادت اپنائیں

جب بچہ غلط رویہ دکھائے تو فوری غصہ، چیخ یا لیبلنگ سے پہلے یہ سوال کریں:
“یہ بچہ اس وقت کیا communicate کر رہا ہے؟”
کیا وہ تھکا ہوا ہے؟
کیا وہ attention چاہ رہا ہے؟
کیا وہ کسی emotional pressure میں ہے؟
کیا وہ حدیں test کر رہا ہے؟
یا کیا اس نے ابھی تک self-control سیکھا ہی نہیں؟

یہ سوال والدین کو reactive parenting سے reflective parenting کی طرف لے جاتا ہے۔

دوسرا مرحلہ: تعلق کو مضبوط بنائیں

بچے پر اثر ڈالنے کا سب سے طاقتور راستہ تعلق ہے۔ اگر بچے کو یہ یقین ہو کہ میرے والدین مجھے سنتے بھی ہیں، سمجھتے بھی ہیں، اور صرف ڈانٹنے کیلئے موجود نہیں، تو تربیت آسان ہو جاتی ہے۔
روزانہ چند منٹ کا eye contact، بات چیت، بغیر نصیحت کے سننا، تعریف، جسمانی شفقت، اور مشترکہ وقت بہت بڑا فرق پیدا کرتے ہیں۔

یاد رکھیں: connection کے بغیر correction اکثر مزاحمت پیدا کرتی ہے۔

تیسرا مرحلہ: واضح حدود قائم کریں

محبت کا مطلب بےحد آزادی نہیں۔ بچے کو محفوظ اور متوازن بنانے کیلئے واضح حدود ضروری ہیں۔ مثلاً:

  • اسکرین کا وقت مقرر ہو
  • سونے جاگنے کا وقت متعین ہو
  • گھر کے basic manners واضح ہوں
  • بدزبانی، جھوٹ، مارپیٹ اور بےادبی کے واضح نتائج ہوں

یہ حدود لمبی لیکچر بازی کے بجائے سادہ، واضح اور مسلسل ہونی چاہئیں۔ بچوں کو stability تب ملتی ہے جب rules predictable ہوں۔

چوتھا مرحلہ: روٹین کو تربیت کا حصہ بنائیں

جدید پیرنٹنگ چیلنجز اور ان سے نمٹنے کا موثر طریقہ سمجھنے میں ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ روٹین خود ایک تربیتی ٹول ہے۔ بےترتیب گھر میں اچھا رویہ برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر بچے کی نیند، کھانے، پڑھائی، کھیل، عبادت اور family time کا کوئی basic pattern ہو، تو بہت سے مسائل خود بخود کم ہو جاتے ہیں۔

بچوں کو structure پسند ہوتا ہے، اگرچہ وہ بظاہر مزاحمت کریں۔ structure انہیں اندرونی استحکام دیتا ہے۔

پانچواں مرحلہ: نصیحت کم، نمونہ زیادہ

بچے سننے سے زیادہ دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود غصے میں چیختے ہوں، موبائل میں ڈوبے رہتے ہوں، بےصبری دکھاتے ہوں، یا جھوٹے بہانے بناتے ہوں، تو بچہ وہی patterns absorb کرے گا۔ اسی لئے موثر تربیت کی بنیاد modeling ہے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچہ احترام سیکھے تو آپ کی گفتگو میں احترام ہونا چاہیے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ وہ screen discipline سیکھے تو آپ کو بھی اسکرین کے استعمال میں مثال بننا ہوگا۔

چھٹا مرحلہ: اصلاح میں تحقیر سے بچیں

کئی والدین انجانے میں بچے کو لوگوں کے سامنے شرمندہ کرتے ہیں، موازنہ کرتے ہیں، یا اس کی شخصیت پر حملہ کرتے ہیں، جیسے:
“تم ہمیشہ ایسے ہی ہو”
“تم سے کچھ نہیں ہو سکتا”
“دیکھو فلاں بچہ کتنا اچھا ہے”

یہ جملے صرف رویہ درست نہیں کرتے، بلکہ self-image کو زخمی کرتے ہیں۔ درست طریقہ یہ ہے کہ شخصیت نہیں، عمل کو address کیا جائے۔
مثلاً: “یہ بات درست نہیں تھی”
“ہم دوبارہ بہتر طریقے سے کریں گے”
“میں جانتا ہوں تم بہتر کر سکتے ہو”

ساتواں مرحلہ: اسکرین کیلئے proactive strategy بنائیں

آج کے والدین کیلئے یہ حصہ بہت اہم ہے۔ صرف موبائل چھین لینا حل نہیں ہوتا۔ اس کیلئے complete strategy چاہیے:

  • screen-free times مقرر کریں
  • meal times کو device-free بنائیں
  • bedroom میں devices کم سے کم رکھیں
  • content کی نگرانی کریں
  • متبادل سرگرمیاں دیں
  • boredom کو دشمن نہ سمجھیں، creativity کا موقع سمجھیں

بچے کو صرف “موبائل چھوڑو” نہ کہیں، بلکہ یہ بھی دیں کہ “اس کے بجائے کیا کرو”۔

آٹھواں مرحلہ: جذباتی تربیت سکھائیں

بچے کو صرف یہ نہ سکھائیں کہ “غصہ نہ کرو”، بلکہ یہ سکھائیں کہ غصہ آئے تو کیا کرنا ہے۔
مثلاً:

  • تین گہری سانسیں لینا
  • کچھ دیر خاموش ہونا
  • الفاظ میں احساس بتانا
  • مدد مانگنا
  • بعد میں مسئلہ discuss کرنا

اسی طرح اداسی، حسد، خوف، ناکامی اور frustration پر بھی بات کریں۔ یہ جذباتی تعلیم جدید دور کی کامیاب پیرنٹنگ کا لازمی حصہ ہے۔

والدین اور اساتذہ مل کر کیا کر سکتے ہیں؟

بچے کی تربیت اس وقت زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب گھر اور اسکول ایک ہی سمت میں کام کریں۔ اگر گھر میں ادب کی بات ہو اور اسکول میں humiliation ہو، یا اسکول میں discipline ہو اور گھر میں مکمل لاپرواہی، تو بچہ confuse ہو جاتا ہے۔
اس لئے والدین اور اساتذہ کے درمیان periodic communication ضروری ہے۔ صرف academic performance پر نہیں، بلکہ ان نکات پر بھی بات ہونی چاہیے:

  • بچہ ذمہ داری میں کیسا ہے؟
  • دوسروں سے رویہ کیسا ہے؟
  • attention اور focus کی کیفیت کیا ہے؟
  • جذباتی طور پر کیسا محسوس کر رہا ہے؟
  • کون سی ایک تربیتی priority پر اگلے ماہ کام کرنا ہے؟

یہ مشترکہ approach پیرنٹنگ چیلنجز اور ان سے نمٹنے کا موثر طریقہ کو زیادہ عملی بنا دیتی ہے۔

عام غلطیاں جن سے بچنا ضروری ہے

آج کے والدین اکثر چند common mistakes کی وجہ سے اپنی محنت کا مطلوبہ نتیجہ نہیں دیکھ پاتے۔ سب سے بڑی غلطی inconsistency ہے۔ ایک دن سخت rules، دوسرے دن مکمل نرمی؛ اس سے بچہ confused ہوتا ہے۔ دوسری غلطی overreaction ہے، یعنی ہر غلطی پر غیرمتناسب غصہ۔ تیسری غلطی overprotection ہے، جہاں والدین بچے کو ہر مشکل سے بچاتے بچاتے اس کی resilience کم کر دیتے ہیں۔

اسی طرح comparison، public shaming، ہر وقت نصیحت، اور بچے کی عمر و مزاج کے مطابق approach نہ اپنانا بھی بڑے مسائل پیدا کرتا ہے۔ یاد رکھیں، تربیت ایک relationship-based process ہے، control-based project نہیں۔

عملی پیرنٹنگ کیلئے ایکشن پلان

اگر آپ اس مضمون کے بعد کوئی عملی قدم اٹھانا چاہتے ہیں تو آج سے یہ پانچ کام شروع کریں:

سب سے پہلے اپنے گھر میں ایک بنیادی روٹین بنائیں۔
دوسرا، روزانہ کم از کم دس منٹ بچے کو attention دیں بغیر lecture کے۔
تیسرا، ایک وقت میں ایک تربیتی مسئلے پر فوکس کریں۔
چوتھا، اسکرین usage کے واضح اصول بنائیں۔
پانچواں، ڈانٹ سے پہلے سمجھنے کی کوشش کریں۔

یہ چھوٹے قدم مل کر بڑا فرق پیدا کرتے ہیں۔ پیرنٹنگ چیلنجز اور ان سے نمٹنے کا موثر طریقہ ہمیشہ بہت پیچیدہ formula نہیں ہوتا؛ اکثر یہ consistency، clarity اور connection کا نام ہوتا ہے۔

نتیجہ

دورِ حاضر کی پیرنٹنگ واقعی مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں۔ بچوں کے مسائل بڑھ گئے ہیں، مگر ان کے ساتھ والدین کے لئے سیکھنے کے امکانات بھی بڑھے ہیں، بشرطیکہ وہ تربیت کو صرف ردِعمل، ڈانٹ یا نصیحت کے بجائے ایک منظم اور شعوری عمل کے طور پر لیں۔
آج کے پیرنٹنگ چیلنجز اور ان سے نمٹنے کا موثر طریقہ یہی ہے کہ والدین اور اساتذہ بچے کے رویے کے پیچھے موجود ضرورت کو سمجھیں، تعلق کو مضبوط بنائیں، واضح حدود قائم کریں، خود نمونہ بنیں، جذباتی تربیت دیں، اور گھر و اسکول کو ایک دوسرے کا معاون بنائیں۔

بچے کو صرف “کنٹرول” کرنے کی کوشش نہ کریں؛ اسے سمجھیں، سنواریں، سمت دیں اور ساتھ چلیں۔ یہی جدید دور کی کامیاب پیرنٹنگ ہے، یہی مضبوط خاندان کی بنیاد ہے، اور یہی ایک بااخلاق، بااعتماد اور متوازن نسل کی تیاری کا راستہ ہے۔

 

7 FAQs — دورِ حاضر کے پیرنٹنگ چیلنجز

1) دورِ حاضر کے پیرنٹنگ چیلنجز کیا ہیں؟

دورِ حاضر کے پیرنٹنگ چیلنجز میں اسکرین ٹائم، موبائل کی لت، ضد، غصہ، نافرمانی، تعلیمی دباؤ، اخلاقی کمزوری، دینی وابستگی میں کمی، peer pressure، اور والدین و بچوں کے درمیان communication gap شامل ہیں۔ یہ مسائل صرف بچے کے رویے کا مسئلہ نہیں بلکہ ماحول، روٹین اور تربیتی انداز سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔

2) والدین بچوں کے موبائل اور اسکرین ٹائم کو کیسے کنٹرول کریں؟

والدین کو صرف موبائل چھیننے کے بجائے واضح rules بنانے چاہئیں، جیسے screen-free times، meal time میں device ban، اور سونے سے پہلے اسکرین بند کرنا۔ ساتھ ہی متبادل سرگرمیاں، جیسے کھیل، کتاب، family time اور outdoor activities بھی دینی چاہئیں تاکہ بچہ صرف پابندی نہیں بلکہ متوازن روٹین سیکھے۔

3) اگر بچہ ضد کرے اور بات نہ مانے تو کیا کریں؟

بچے کی ضد پر فوری غصہ کرنے کے بجائے پہلے یہ سمجھیں کہ وہ attention چاہ رہا ہے، تھکا ہوا ہے، یا boundaries test کر رہا ہے۔ نرمی، consistency، clear boundaries اور calm response کے ذریعے ضد کو کم کیا جا سکتا ہے۔ بار بار چیخنے سے ضد عموماً بڑھتی ہے۔

4) کیا سختی بچوں کی تربیت کیلئے ضروری ہے؟

ہر سختی مفید نہیں ہوتی۔ مؤثر پیرنٹنگ میں محبت اور حدود دونوں ضروری ہیں۔ صرف سختی سے بچہ یا تو باغی بن جاتا ہے یا اندر سے دب جاتا ہے، جبکہ balanced discipline بچے کو ذمہ دار اور محفوظ محسوس کرواتا ہے۔

5) بچوں میں اخلاقی اور دینی تربیت کیسے مضبوط کی جا سکتی ہے؟

اخلاقی اور دینی تربیت محض نصیحت سے نہیں بلکہ ماحول، نمونے، repetition اور daily practice سے مضبوط ہوتی ہے۔ گھر میں نماز، دعا، ادب، سچائی، احترام، اور نرم گفتگو کو معمول بنایا جائے تو بچہ آہستہ آہستہ انہی قدروں کو اپناتا ہے۔

6) والدین اور اساتذہ مل کر بچوں کی تربیت کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟

اگر والدین اور اساتذہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہیں اور صرف academic performance کے بجائے بچے کے رویے، عادات، جذبات اور discipline پر بھی مشترکہ بات کریں تو تربیت زیادہ مؤثر ہو جاتی ہے۔ گھر اور اسکول کا ایک ہی پیج پر ہونا بچے کیلئے بہت فائدہ مند ہے۔

7) پیرنٹنگ چیلنجز سے نمٹنے کا سب سے مؤثر طریقہ کیا ہے؟

پیرنٹنگ چیلنجز اور ان سے نمٹنے کا موثر طریقہ یہ ہے کہ والدین بچے کے رویے کو صرف مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ اس کے پیچھے موجود ضرورت کو جاننے کی کوشش کریں۔ clear boundaries، strong connection، structured routine، emotional coaching اور consistent parenting ہی دیرپا حل فراہم کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے