شبِ برات: عبادت، اعتدال اور اصل پیغام

شبِ برات: عبادت، اعتدال اور اصل پیغام

 

 

تحریر: الطاف الرحمن اخون
شبِ برات، جسے عربی میں "لیلۃ النصف من شعبان” کہا جاتا ہے، لغوی طور پر "نجات” اور "بری الذمہ” ہونے کے معنی رکھتی ہے۔یعنی وہ رات جس میں مخلوق کو گناہوں سے بری کر دیا جاتا ہے.
شب برات کی رات کا ذکر احادیثِ نبویہ میں مختلف اسناد سے ملتا ہے۔ ان روایات کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس رات اللہ تعالیٰ بے شمار بندوں کی مغفرت فرماتا ہے، سوائے ان کے جو شرک، کینہ، قطع رحمی یا گناہوں پر ضد میں مبتلا ہوں۔ محدثین نے ان روایات پر تفصیلی کلام کیا ہے۔

بعض اسناد کمزور ضرور ہیں، مگر اہلِ علم کی ایک بڑی تعداد کے نزدیک ان روایات کا مجموعی وزن اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ شعبان کی پندرھویں رات کی ایک خاص فضیلت ہے۔ یہی موقف امام بیہقی، امام احمد بن حنبل رحمہا اللہ اور بعد کے کئی محققین کا رہا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے، فضیلت کا ماننا اور طریقۂ عبادت کو لازم قرار دینا دو مختلف چیزیں ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس رات کے حوالے سے کوئی مخصوص نماز، مقررہ رکعات، یا اجتماعی عبادت ثابت نہیں۔ اسی طرح صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل میں بھی شبِ برات کو تہوار یا باقاعدہ رسم کی صورت دینے کا ثبوت نہیں ملتا۔ اس کے باوجود وقت کے ساتھ ساتھ بعض معاشروں میں اس رات کو مخصوص عبادات، آتش بازی، حلوا تقسیم کرنے، یا قبرستانوں میں غیر معمولی ہجوم کی شکل دے دی گئی، جو دین کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں۔

اسلام کا حسن ہمیشہ اعتدال میں رہا ہے۔ جمہور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ شبِ برات میں عبادت کرنا جائز اور باعثِ اجر ہے، لیکن یہ عبادت انفرادی ہونی چاہیے، بغیر کسی خاص طریقے کو دین کا لازمی حصہ سمجھے۔ نفل نماز، تلاوتِ قرآن، استغفار، درود شریف اور دعا یہ سب اعمال ویسے بھی مطلوب ہیں، مگر اس رات میں بندہ زیادہ یکسوئی اور توجہ کے ساتھ انہیں ادا کر سکتا ہے۔اور دن روزہ رکھے تو یہ مستحب ہے۔
شبِ برات کا اصل پیغام محض جاگنا نہیں بلکہ خود احتسابی ہے۔

یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی رحمت وسیع ہے، مگر اس کے دروازے تک پہنچنے کے لیے دلوں کو صاف کرنا پڑتا ہے۔ اگر کینہ، حسد، نفرت اور ضد ہمارے دلوں میں بسی ہوں تو محض نفل نمازیں ہمیں فائدہ نہیں دے سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض روایات میں ایسے لوگوں کا ذکر آتا ہے جن کی مغفرت نہیں ہوتی یہ وعید نہیں بلکہ اصلاح کی دعوت ہے۔

شبِ برات کو ہم نے بھی بدقسمتی سے دو انتہاؤں میں بانٹ دیا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اسے بے شمار غیر ثابت شدہ اعمال سے بھر دیتے ہیں، اور دوسری طرف وہ جو اس رات کی کسی بھی فضیلت کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان ہے۔ اسلام نہ رسم کا نام ہے اور نہ انکار کا، بلکہ شعور، توازن اور اخلاص کا دین ہے۔

شبِ برات اگر ہمیں یہ سکھا دے کہ ہم اللہ سے اپنا تعلق درست کر لیں، لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی فکر کریں، اور اپنی زندگی میں گناہوں کے بوجھ کو کم کرنے کا عملی فیصلہ کریں، تو یہی اس رات کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ورنہ ایک اور رات گزر جانا اور زندگی کا ویسا ہی رہنا،یہی اصل خسارہ ہے۔

لہٰذا شبِ برات انسان کو اپنی زندگی کا جائزہ لینے، غلطیوں کو تسلیم کرنے اور درست راستہ اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔اور یہ رات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصلاح، معافی

شب براءت کی حقیقت

بچوں کی تربیت کے عملی طریقے

Check Also

فیملی ٹائم کو دلچسپ بنانے کیلئے 5 دلچسپ انڈور گیمز

فیملی ٹائم کو دلچسپ بنانے کیلئے 5 دلچسپ انڈور گیمز

ڈاکٹر محمدیونس خالد۔ تربیہ پیرنٹنگ کوچ آج کے مصروف اور ڈیجیٹل دور میں، جب اسکرینز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے