تعلیم کی اہمیت

تعلیم اور اس کی اہمیت پر مضمون

ڈاکٹرمحمدیونس خالد۔

دنیا کی ہر قوم کی ترقی، ہر خاندان کی خوشحالی اور ہر فرد کی کامیابی کے پیچھے ایک طاقت چھپی ہوتی ہے، اور وہ ہےتعلیم۔تعلیم وہ روشنی ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر شعور، ہنر اور ذمہ داری کی طرف لے جاتی ہے۔ مگر افسوس یہ کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کو صرف ڈگری حاصل کرنے ، پیسے کمانے  یا سرکاری نوکری لینے کی حد  تک محدود کیا گیا ہے، جبکہ حقیقی تعلیم اس سے کہیں زیادہ وسیع، گہری اور زندگی ساز ہے۔

اس آرٹیکل میں ہم تعلیم کی اہمیت کو مختلف زاویوں سے سمجھیں گے۔ مثلا  فرد، خاندان، معاشرہ، معیشت، کردار سازی، روحانیت، اخلاق اور جدید زندگی کے خدوخال کے تناظر میں اسے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔آئیے شروع کرتے ہیں۔

 تعلیم کیا ہے؟ صرف کتابیں پڑھنے کا نام  نہیں، بلکہ   کردار، ہنر اور شعور کا نام ہے۔

تعلیم محض  کسی نصاب ، امتحان یا ڈگری کا نام نہیں، بلکہ انسان کی اس تربیت کا نام ہے جو اسے اچھی سوچ دے، واضح مقصد دے، صحیح فیصلہ سازی کی صلاحیت دے، اخلاق و کردار عطا کرے، معاشرے کیلئے مفید بنائے اور دنیا و آخرت دونوں میں اسے  کامیاب کرے۔ اسی لیے اسلام میں تعلیم کو نوراور ہدایت کہا گیا ہے، جبکہ جہالت کو ’’ظلمات‘‘ یعنی اندھیرے سے تعبیر کیا گیا ۔ تعلیم انسان کو وہ سب کچھ  سکھاتی  ہے جو وہ سیکھنا اور بننا چاہتا ہے۔

2۔ تعلیم  ضروری کیوں ہے؟ — بنیادی وجوہات

تعلیم ہماری زندگی کے ہر شعبے کو بہتر کرتی ہے۔ پیشہ، کاروبار، تعلقات، سوشل اسکلز، معاشی حالت، سوچ اور عادات تک کو بہتر بناتی ہے۔ یہ فیصلہ سازی میں ہمیں  واضح سمت اور درست رہنمائی  عطا کرتی ہے۔ایک تعلیم یافتہ شخص جذبات سے بہک کر فیصلے نہیں کرتا، بلکہ علم، تجربہ اور بصیرت کی بنیاد پر  اپنے لئے درست  راستہ منتخب کرتا ہے۔

 اسی طرح تعلیم ہمیں  سکلز دیتی ہے، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت دیتی ہے، کاروباری سوچ کو پروان چڑھاتی  ہے اور بہتر مواقع تک رسائی عطا کرتی ہے۔ نیز تعلیم انسان کو اپنے حقوق و فرائض کا شعور دیتی ہے۔ایک باعلم معاشرہ ہمیشہ مضبوط، محفوظ اور ترقی یافتہ ہوتا ہے۔

3۔ اسلام کی نظر میں تعلیم کی اہمیت — سب سے پہلی وحی کا پیغام

اسلامی تاریخ کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ پہلی وحی کا پہلا لفظ "اقرأ” تھا یعنی پڑھو۔قرآن کریم  بار بار ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔

اسلامی نقطہ نظر سے  تعلیم کی اہمیت یہ ہے کہ یہ فرد  کو جسمانی ، ذہنی، اخلاقی وروحانی ، نیز انفرادی واجتماعی غرض ہرپہلو سے   نشونما عطا کرتی ہے۔  علم   انسان کی شخصیت کی تکمیل کا ذریعہ بنتاہے۔  بلکہ بڑی بات یہ ہے  علم ہی انسان کو اللہ تک پہنچانے اوراللہ کی معرفت کا دروازہ کھولتاہے۔ اسی لئے قرآن کریم نے پہلی وحی کا پہلا لفظ ہی لفظ اقراء یعنی پڑھو سے شروع کیا ہے۔

4۔ تعلیم  کردار سازی کا ذریعہ ۔

 اچھی تعلیم کی پہچان کیا ہے ؟تعلیم  صرف وہ عمل  نہیں جو  امتحان میں نمبر بڑھائے اور ڈگری دلائے ، بلکہ وہ ہے جو فرد کے  کردار  واخلاق اور معاشرے کے کردار  کی  تعمیر کرے۔ایک حقیقی تعلیم یافتہ شخص میں کئی اچھی  صفات پیدا ہوتی ہیں، جیسے سچائی، دیانت، احساس ذمہ داری، ہمدردی، شکرگزاری، ٹیم ورک، سماجی ذمہ داری اور نظم و ضبط وغیرہ۔ یہ سب کردار کے مختلف پہلو ہوتے ہیں۔

آج دنیا میں کردار پر مبنی تعلیم کی شدید کمی ہے۔ہم ڈگریوں میں آگے ہوگئے لیکن  اخلاق میں پیچھے  رہ گئے ہیں۔اسی وجہ سے پڑھا لکھا شخص بھی بعض اوقات معاشرے کیلئے نقصان دہ  او ربعض اوقات اس سے بھی بڑھ کر بلیک میلر بن جاتا ہے۔

 تعلیم اور والدین — گھر اولین درسگاہ

ایک بچے کی پہلی اور سب سے مؤثر درسگاہ اس کا گھر ہے۔والدین کی گفتگو، ان کا رویہ، ان کی عادات واطوار اور طرز فکر و طرز عمل سب کچھ بچے کی تعلیم کا حصہ بنتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچے کے اندر تجسس اوعلم کا جذبہ پیدا کریں، کتابوں سے دوستی بڑھائیں، اور موبائل سے محفوظ ماحول انہیں فراہم کریں۔ تربیت کو تعلیم کا لازمی حصہ سمجھیں۔ اخلاق، آداب اور اچھی  عادات پہلے سکھائیں، پھرانہیں تعلیم دیں۔ اگر والدین تعلیم کو صرف ’’اسکول‘‘ کی حد  تک محدود سمجھیں گے تو بچوں کے اخلاق اور کردار کمزور رہ جائیں گے۔

6۔ تعلیم اور معاشرہ۔

 آج دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کا جائزہ لیں تو اس کا  راز تعلیم اور تربیت  ہے۔جاپان نے جنگ کے بعد صرف تعلیم اور تربیت  پر کام کیا۔ چین  نے صرف تعلیم و ٹیکنالوجی پر سرمایہ لگایا اور فن لینڈنے ٹیچرز کو ملک کا سب سے باعزت طبقہ قرار دیا ۔ نتیجہ کیا ہوا؟  یہ  ممالک دنیا کی  نہ صرف مضبوط ترین معیشتوں میں شمار ہوئے بلکہ بہترین معاشر ہ انہوں نے تشکیل دیا۔ یقین کیجئے تعلیم کی طاقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔

ایک تعلیم یافتہ معاشرہ قانون او ر اخلاقیات  پر عمل کرتا ہے، امن کو ترجیح دیتا ہے، معاشی طور پر مضبوط ہوتا ہے، جرائم وہاں  کم ہوتے ہیں، صحت کی سہولیات وہاں  بہتر ہوتی ہیں اور اس معاشرے سے جہالت ، انتشار، نفرت، غربت اور کرپشن ہمیشہ کیلئے ختم ہوجاتی ہے۔

7۔ تعلیم  معاشی ترقی  کا ذریعہ بنتی ہے۔

آج کی دنیا نالج اکانومی کہلاتی ہے۔جس کے پاس جتنا علم، سکلز اورجدید  ٹیکنالوجی ہے، وہی فرد یا معاشرہ  تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ تعلیم سے ملازمت کے مواقع بڑھتے ہیں، کاروبار کے دروازے کھلتے ہیں، بہتر انکم آنا شروع ہوجاتی ہے، غربت کم ہوجاتی ہے اور ملکی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی اگر تعلیم اور تربیت  کواولین  ترجیح دی جائے تو یہاں  معاشی انقلاب آسکتا ہے۔

8۔ تعلیم اور جدید دور

دنیا  بہت تبدیل ہو چکی ہے۔اب کامیابی کیلئے ضروری تعلیم یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ   جدید اسکلز سیکھیں۔ ڈیجیٹل لٹریسی حاصل کریں۔ کمیونیکشن اسکلز، لیڈرشپ، مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت، ناقدانہ سوچ، تخلیقی صلاحیت، ایموشنل انٹیلیجنس او آنٹر پری نیورشپ کا علم  سیکھیں۔ اگر آج بھی ہمارے  نوجوان صرف ڈگری اور رٹے پر انحصار کریں گے، تو  اللہ نہ کرے ہمارا مستقبل اندھیرا ہوگا۔

9۔تعلیم خواتین کیلئے  ضروری کیوں ہے۔

 مردوں کے مقابلے میں عورتوں کیلئے تعلیم کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہ۔ ایک تعلیم یافتہ والدہ بچوں کی بہتر تربیت کے قابل ہوجاتی  ہے،  وہ خاندان میں امن  وسکون پیدا کرتی ہے، معاشی مسائل حل کرنے میں مدد دیتی ہے، تعلیم سے اس کی صحت اور اخلاق دونوں بہتر ہوتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے:تم مجھے ایک پڑھی لکھی ماں دو، میں تمہیں ترقی یافتہ قوم دوں گا۔

10۔ تعلیم وتربیت  اور روحانیت۔   

تعلیم صرف دنیاوی فائدے نہیں دیتی بلکہ انسان کی روح کو بھی جگاتی ہے۔دل میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے، اللہ کی نعمتوں کا شعور بڑھتا ہے،  اس سے انسا ن کا مقصدِ حیات  واضح ہوجاتا ہے۔ اس سے اچھائی اور برائی میں فرق سمجھ آتا ہے۔ علم انسان کو اللہ کے قریب لاتا ہے۔

11۔ پاکستان میں تعلیم کا چیلنج — اصل مسئلے کیا ہیں؟

ضروری ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کا ادراک بھی کریں۔ ہمارے سامنے کئی تعلیمی چیلنجز ہیں جنہیں ہمیں حل کرنا ہوگا۔ مثلا ناقص نصاب، کمزور تربیت، موبائل کا غلط استعمال، والدین کی بے توجہی، ٹیچنگ میں پروفیشنلزم کی کمی، نقل کا رجحان، ڈگری کلچر، اسکلز کی کمی ،  پرانی روایتی  سوچ اور تعلیم پر کم سرمایہ کاری۔اگر ہم صرف عمارتیں، یونیفارم، فیس اور امتحانات کوہی  تعلیم سمجھیں گے تو ترقی نہیں ہوسکے گی۔

حقیقی تعلیم یہ ہے کہ ایک انسان اسے حاصل کرنے کے بعد   باشعور بن جائے۔ بامقصد اور باکردار ہوجائے ۔ وہ عمل و ہنر سے آراستہ ہوجائے۔ وہ بہادر، ذمہ دار دوسروں کیلئے فائدہ مند بن جائے۔ تعلیم کا سب سے بڑا مقصد انسان کو بیسٹ ورژن آف ہم سیلف بنانا ہے۔

12۔ ہمیں  کیا کرنا چاہیے؟— چند عملی مشورے

یہ چند فوری ا  قدمات  ہم میں سے ہر فرد آج ہی کر سکتا ہے۔ روزانہ آدھا گھنٹہ کسی اچھی کتاب، سیرت، شخصیت سازی یا مہارت پر مبنی کتاب کا مطالعہ کریں۔موبائل  کا غیر ضروری  استعمال کم کریں  کتابوں سے دوستی بڑھائیں۔جدید سکلز سیکھیں۔ بچوں کے ساتھ اچھی  اور مثبت گفتگو کریں۔  تعلیم کے ساتھ بچوں کی تربیت کو لازمی حصہ بنائیں اور ان کی کردار سازی کریں۔

نتیجہ  کیا ہوگا— تعلیم قوموں کی قسمت بدل دیتی ہے

 ہمارے ہاتھوں میں تعلیم کی طاقت آجائے گی۔ یاد رکھیے تعلیم وہ طاقت ہے جوفرد کو بدل دیتی ہے۔ جوخاندان کو مضبوط بناتی ہے، جو معاشرے میں امن لاتی ہے، ملک کو ترقی دیتی ہے اور نسلوں کا مستقبل روشن کرتی ہے۔ اگر ہم نے آج تعلیم کو ترجیح نہ دی، تو آنے والی نسلیں  اندھیرے میں رہ جائیں  گی۔اور اگر ہم نے آج صحیح  سمت میں اپنے بچوں کی   تعلیم وتربیت کا کام کیا۔   ان  میں کردار ، سکلز  ومہارتیں اور شعور  کو پروان چڑھایا  تو ہمارا مستقبل ان شااللہ ہماری   تاریخ بدل دے گا۔شکریہ

یہ بھی پڑھیے۔ کردار کی اہمیت اور کردار سازی کے اصول

Check Also

فیملی ٹائم کو دلچسپ بنانے کیلئے 5 دلچسپ انڈور گیمز

فیملی ٹائم کو دلچسپ بنانے کیلئے 5 دلچسپ انڈور گیمز

ڈاکٹر محمدیونس خالد۔ تربیہ پیرنٹنگ کوچ آج کے مصروف اور ڈیجیٹل دور میں، جب اسکرینز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے